ہمارے وقت کے اسکول اور آج کے اسکول

ہمارے وقت کے اسکول اور آج کے اسکول

ہمارے وقت کےاسکول اور ہمارے بچوں کے اسکول میں فرق
———————–
چھوٹی بیٹی کو اسکول داخل کروایا کچھ ہی دن پہلے تو ہمیں ڈر تھا کہ کہیں وہ صبح جاتے وقت رو نہ پڑے یا اسکول میں جانے کے بعد وہاں نہ رو پڑے اور واپسی کی ضد کرنا شروع کردے
بیٹیاں ویسے بھی لاڈلی ہوتی ہیں اسلئے ہم ذہنی طور پر تیار تھے کہ اگر اسکول میں گھر جلد واپس آنے کی ضد کی تو کچھ دن اسکو جلد لے آیا کریں گے
لیکن ہمیں یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ پہلے دن سےگڑیا رانی نے نہ جاتے ہوئی روئی اور نہ اسکول کے اندر روئی
میں جب اسے اپنے پرائمری اسکول کے وقت سے تقابل کروں تو کچھ چیزوں میں فرق لگے گا جس کی وجہ سے آج کے بچے شوق سے اسکول جاتے ہیں اور ہمارے وقت یہ با امر مجبوری کیا جاتا تھا
ہمیں یاد ہے کہ پہلے دن ہمارے والد محترم گورنمنٹ پرائمری اسکول داخل کروانے گئے اور اسکے بعد پرائمری پاس کرنے تک ہم بڑے بھائی اور بہن کے ہمراہ خود ہی پیدل جاتے تھے
اسکول جاتے وقت راستہ میں پھتر پر تھوک کر پھتر رکھا کرتے تھے کہ اس سے مار نہی پڑے گی
استاد وں کے آلات تشدد میں پانی بھرنے والے پائپ، ٹائر کے ربر کا بنا لمبا ٹکڑا،بید،طوط کی باریک چھڑی ہمیں اچھی طرح یاد ہیں
ہم تو ان سے بچے رہے لیکن نالائق طلبا پر یہ استعمال ہوتے اکثر دیکھتے تھے اور اس سےعبرت پکڑتے تھے
اسکول نہ جانے کےلئے ایک بہانہ بخار کا کیا جاتا تھا اور اسکےلئے پیاز کاٹ کر بازو کے نیچے رکھا جاتا جس سے سر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا
ہمارے پرائمری کے وقت ضیا الحق نے ناظرہ قران کا قانون بنایا تھا اسلئے پہلا پریڈ ہمارے محلہ کے مولوی فضل کریم صاحب کا ہوتا تھا
اور ان کا ہاتھ بھی بچوں پر چلتا تھا اسلئے ہمارے ہیڈ ماسڑ اسلم صاحب ان کو دور سے آتا دیکھ کر اپنے کمرے کی کھڑکی کھول دیتے اور بچوں کو کہتے کہ جسے سبق یاد نہی کھڑکی سے باہر کود جائے مولوی آ رہا ہے
ہم سلیٹ اور تختی استعمال کرتے تھے لکھنے کےلئے اور دن میں کئی بار تختی دھونے کی نوبت آتی اور اسکول جاتے آتے آپس میں تختیاں لڑا کر تختی تڑواتے اور گھر سے مار کھاتے تھے
کالی یا نیلی سیاہی سے کپڑے اور بستہ اکثر گندے ہوا کرتے تھے اور ساتھ ہاتھ کی انگلیوں سے منہ کے گالوں تک سیاہی لگی ہوتی جس سے کارٹون نما شکل بن جایا کرتی تھی
اسکول کے ارد گرد کھلی زمین اور میدان تھےجہاں ہری بھری فصلیں ہوا کرتی جہاں ہم خوب دوڑا کرتے تھے
آہ بچپن سے پچپن تک کیاکیا تبدیل ہو گیا

img_2316

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *