اندلس کی نشاط ثانیہ کا خواب دیکھنے والا مفکر

اندلس کی نشاط ثانیہ کا خواب دیکھنے والا مفکر

دس اپریل دو ہزار ایک کو مشہورمسلم مفکر علی کیتانی کی وفات بمقام قرطبہ
علی کیتانی مراکش کے ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جہنوں نے روایتی دینی تعلیم اپنے بزرگوں سے ورثے میں حاصل کی اور جدید علوم امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں سے حاصل کی اور سائنس میں پی ایچ ڈی کی
اس کے بعد سعودیہ سمیت دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پروفیسر رہے اور لیکچر دئیے
انیس ستر کی دہائی میں شاہ فیصل کو اسپین کے حکمران جنرل فرانکو نے پیش کش کی کہ مسجد قرطبہ کو مسلمان سنھبال لیں شاہ فیصل نے علی کیتانی کو بطور اپنا نمائیدہ اسپین بھیجا
یہاں آکر ان کو معلوم ہوا کہ مسجد قرطبہ قانونی طور پر ویٹی کن چرچ کی ملکیت ہے فرانکو کو یہ اختیار ہی نہی اسکے بارے میں کوئی فیصلہ کرے
علی کیتانی نے کئے علمی مضامین عالمی رسائل میں لکھے جن میں دو بہت مشہور ہیں
یورپ میں مسلم اقلیتیں
امریکہ کی دریافت واسکڈے گاما کی بجائےمسلمانوں کے دور میں

علی کیتانی نے قرطبہ سمیت اندلس میں ماضی میں زبردستی عیسائی کئے اسپینشوں کو دوبارہ مسلمان کرنے کی مہم کا آغاز کیا اور کچھ ہی سالوں میں سینکڑوں اسپینش مسلم ہوگئے اور مختلف شہروں میں مساجد قائم کر لیں
قرطبہ کی بلدیہ سے علی کیتیانی نے مذاکرات کرکے ایک پرانی مسجد عثمان جو اب عیسائی چرچ santa clara کے نام موجود تھی کو مسلمانوں کےلئے حاصل کر لیا
لیکن کھتولک عیسائیوں نے مئیر قرطبہ کے خلاف اتجاج شروع کر دیا پہلے تو مئیر نے چرچ کے اتجاج کا مقابلہ کیا اور اپنے فیصلے کو برقرار رکھنے کی تقرر کی لیکن ویٹیکن سے پوپ کے پریشر پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا
علی کیتانی نے موتمر عالمی اسلامی میں مسلم ممالک سے قرطبہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کےلئے فنڈ منظور کروایا اور سقوط غرناطہ پانج صدیوں بعد ابن رشد یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلم اندلس کی روشن تاریخ کو دنیا سے روشناس کروانا تھا
قدیم قرطبہ مسجد کے قریب ایک بلڈنگ خرید کر جامعہ ابن رشد قائم کی گئی جو علی کیتیانی کی وفات تک قائم رہی ان کی وفات کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا
اور یہ عمارت کئی سال بند رہی دو سال پہلے ترکی کی حکومت نے اس عمارت کو حاصل کرکے اس میں مسجد کو دوبارہ سے آباد کر دیا ہے
اندلس میں مسلمانوں کو دوبارہ سے عروج کا خواب دیکھانے اور اس کی عملی کوشش کرنے والے علی کیتانی سے ہماری ذات ملاقات نہ ہو سکی جس سال ہم قرطبہ پہنچے اسی سال انکی وفات ہوئی

img_2332

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *