قرطبہ کے عرضی نویس ابو عامر المنصور

قرطبہ کے عرضی نویس ابو عامر المنصور

قرطبہ شہرمیں بہنےوالےدریائےکبیر کے کنارےقصرشاہی کو دیکھنے کا پروگرام بنا قدیم قرطبہ کی گلیاں آج بھی قدیم طرز پر قائم ہیں اور ان میں کئی قدیم عمارات کےآثار اس شہر کی عظمت رفتہ کا پتہ دیتے ہیں
قصر شاہی جو خلفا قرطبہ کا محل ہوا کرتا تھا اس کے ساتھ ملحقہ شاہی باغ بھی ہوا کرتا تھا
جیسے ہی میں شاہی محل کے قریب پہنچا ایک جانب زمین پر کپڑا بچھائے ایک عرضی نویس بیٹھا نظر آیا
اسنے مجھے اشارہ سے اپنے قریب بلایا اور پوچھا قصر شاہی میں کونسا کام پھنسا ہوا ہے میں شش و پنج میں مبتلا ہو گیا کہ یہ کیا کہنا چاہا رہا ہے
عرضی نویس نے مجھے حیران و پریشان دیکھتے ہوئے کہا کہ میرا نام ابو عامر بن عبداللہ ہے اور میری لکھی ہوئی عرضی دربار شاہی سے کھبی رد نہی ہوئی میرا طرز تحریر اور میری دلیل ہمیشہ خلیفہ کو پسند آتی ہے
میں نے آنکھوں کو ملا اور جب دوبارہ آنکھیں اس جانب دوڑائیں تو عرضی نویس غائب پایا مجھے لگا کہ نظر آنے والا عرضی نویس میرے تخیل کی پیداوار تھا
میرے تحت الشعور میں تاریخ قرطبہ کے وہ اوراق گھومنے لگے جو میں نے مختلف کتب میں پڑھ رکھے تھے کہ قرطبہ کے دربار کے ایک عرضی نویس نے کیسے اپنی ذہانت سے خلیفا کو گرویدہ کرکے قاضی قرطبہ کا عہدہ حاصل کیا تھا اور خلیفہ کی وفات کے بعد اس اسکی بیوہ کو متاثر کر کے کمسن ولی عہد ہشام کا اطالیق مقرر ہو گیا تھا اور پھر ملکہ کے زریعہ فوج کے سپہ سالار غالب کو راستہ سے ہٹایا
ملکہ کے زریعہ کمسن ولی عہد کا امور سلطنت میں ہاتھ بٹانے کےلئے حاجب یعنی وزیراعظم مقرر ہو گیا
اسکے بعد قصر شاہی کے محافظوں کا ایک نیا دستہ اسپینش مسلم غلاموں پر مشتمل بنایا جو اسکا وفادار تھا
پھر اس دستہ کے زریعہ کمسن ولی عہد کو شاہی محل میں ایسا قید کیا کہ عملا ابی عامر ہی حکمرانی کے تمام اختیارات استعمال کرنے لگ پڑا
ابی عامر نے عوام کے دل جیتنے کےلئے اندلس کے علاقوں میں جہادی افواج کی قیادت کرنا شروع کر دی جہاں عیسائی گروہ بغاوت یا شورش برپا کرتے رہتے تھے کچھ سال مسلسل ایسی مہمات کے زریعہ اس نے اندلس کی سرحدوں کو محفوظ کر دیا اور اس وقت کی مشہور عیسائی ریاست Asutria کے صدر مقام پر قائم عیسائیوں کے مشہور گرجا گھر جسے عیسائی عقیدت کی حد تک پوجتے تھے پر حملہ کرکے اسکے دروازے اور گھنٹی قرطبہ لے آیا یوں عیسائیوں کا حوصلہ بلکل ٹوٹ گیا
اس دوران بارہا قرطبہ میں بغاوتوں کی کوشش کی گئی جسے ابی عامر سے سختی سے کچل ڈالا اور قرطبہ کی گلیاں لہو سے سرخ ہو گئیں
ابو عامر جوانی میں مسجد قرطبہ کے صحن میں سنجیدہ کھڑا تھا تو اسکے دوستوں نے پوچھا کس سوچ میں گم ہو تو وہ کہنے لگا میں سوچ رہا ہوں جب قرطبہ کا وزیر اعظم بنوں گا تو عوام کے مسائل کیسے حل کروں گا اسکے دوستوں نے حیرانگی سے پوچھا واقعی تم یہ خواب دیکھ رہے ہو تو ابو عامر نے دوستوں سے پوچھا تم کیا عہدہ لینا پسند کرو گے ایک نے قاضی بننے کی خواہش کی دوسرے نے باغات کا مالک کا شوق کا اظہار کیا تیسرے نے پولیس کا سربراہ
چھوتھے نے قہقہ لگا کر طنزیہ کہا اگر تم وزیراعظم بنے تو میں گدھے پر بیٹھ کر منہ کالا کرکے گھوموں گا پھر تاریخ نے دیکھا کہ چوتھے دوست کو گدھے پر بیٹھنا پڑھا اور دوسرے دوست قاضی اور پولیس سرپراہ بنے
تاریخ میں اسے المنصور یعنی فاتح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے عیسائی ریاستوں کو پے درپے شکستیں دیں تھیں (938عیسوی تا 1002عیسوی)

img_2340

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *