ایک بھٹکتی ہوئی روح اور قرطبہ

ایک بھٹکتی ہوئی روح اور قرطبہ

آج مسجد قرطبہ کو دیکھنے کچھ دوست آئے تو ان کے ہمراہ مسجد قرطبہ کی جانب روانہ ہوا ایسٹر کی چھٹیوں کی وجہ سے چاروں طرف کافی گہماگمی تھی گلیوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا تھا کیونکہ مختلف کلیساوں کے جلوس ان راستوں سے گزرنے تھے ان کو دیکھنے کے لئے کافی لوگ قطار درقطار کھڑے تھے
ہم راستہ بناتے مسجد کی جانب روانہ ہوئے
مسجد کی سیڑھیوں کے قریب پہنچا تو مجھے کسی کے گنگنانےکی آواز آئی ایسا لگا کہ کہ کوئی اردو غزل گا رہا ہے پردیس میں اپنی زبان کی گونج دور سے سنائی دیتی ہے اور اس کی مٹھاس اپنی جانب متوجہ کرتی ہے
میں نے آواز کی سمت نظریں دوڑایں مگر رش کی وجہ سے گنگہنانے والا نظر نہ آیا
کان لگا کر آواز پر غور کیا تو غزل کا یہ شعر سنائی دیا

سلسلہ روز وشب نقش گر حیات
سلسلہ روز وشب اصل حیات و ممات

میں غزل کے شعر میں کھونے لگا تو ساتھ والے دوستوں نے میرے تخیل کے سلسلہ کو آواز دے کر منقطع کیا
آج مسجد میں ہر جانب کیتھولک عیسائیوں کے مختف گروہ اپنے رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس نظر آرہے تھے
پتہ چلا کہ آج مسجد تین گھنٹے کےلئے عوام کےلئے بند ہے اور مذہبی رسوم کےلئے کھولی ہے
مجھے غزل کی گنگناہٹ ایک دفعہ پھر سنائی دی

اول و آخر فنا باطن و ظاہر
نقش کہن ہو کہ نو منزل آخر

اے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام جس میں نہی رفت و بود

میں غزل کے اشعار میں سن کر اس کی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کر رہاتھاکہ مسجد قرطبہ کے مینار پر لگی گرجا کی گھنٹی بج اٹھی اور وہ آواز پھر اس شور میں غائب ہوگئی
مسجد قرطبہ کا صحن سیاحوں سے بھرا ہوا تھا جو مختلف ممالک سےمسلم اندلس کی اس نشانی کو دیکھنے آئے ہوئے تھے سات اسی عیسوی 780 میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا تھا وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کے بڑھنے پر اس کو وسعت دی جاتی رہی دمشق کی جامع مسجد کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے
مسجد کی محراب کی جانب نگاہ اٹھی تو ایک شخص محراب کے سامنے سجدہ ریز ہوتا دیکھائی دیا میں جیسے جیسے اس قریب ہوتا گیا کہ مجھے ہچکیوں اور سسکیوں کی آواز سنائی دینے لگی اور ساتھ ایک دفعہ پھر کانوں میں گنگناہٹ سنائی دی

معجزہ فن کی ہےخون جگر سے نمود
قطرہ خون جگر سل کو بناتا ہے دل

تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل

اچانک میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ غزل تو علامہ اقبال کی مسجد قرطبہ ہے جو انہوں نے انیس بتیس میں گھول میز کانفرنس لندن سے واپسی پر قرطبہ میں مسجد قرطبہ کو دیکھ کر کہی تھی میں نے محراب کی جانب نگاہ دوڑائی تو بلکل خالی تھی اپنی پیشانی کو سجدہ میں رکھ کر سسکیاں لینے والا شخص غائب تھا
میرے خیال سے وہ اقبال کی مضطرب روح تھی جو آج بھی وہاں بھٹک رہی تھی اور فضاووں میں گنگہنا رہی تھی
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواووں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواووں میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال کی 78th ویں یوم وفات پر فیاضی قرطبی کے قلم سے

img_2399

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *