اسپین کی عیسائی تفتیشی عدالتوں کے مظالم کی داستاں

اسپین کی عیسائی تفتیشی عدالتوں کے مظالم کی داستاں

اسپین کی عیسائی عدالتیں کے ظلم کی روداد
Story of Spanish inquisition
—————-
اندلس کے مسلمانوں کی آپس کی چپقلشوں سے اندلس کے اندر مسلمانوں کی مرکزی حکومت آہستہ آہستہ کمزور ہوتے ہوئے چھوٹی چھوٹی ریاست میں بٹنے لگی تو عیسائی ریاستوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایک ایک کرکے ان مسلمان ریاستوں کو شکست دے کر قبضہ کرلیا یوں اندلس کی مسلم سلطنت جو پرتگال سے فرانس کے سرحدی علاقہ تک پھیلی ہوئی تھی 1300عیسوی میں فقط غرناطہ تک محدود ہوگئی
اراگون کی عیسائی ریاست کے بادشاہ فرنیندو اور ملکہ ازبیلا جو دونوں کتھولک تھے نے مل کر مسلمانوں کے آخری مرکزی کے خلاف مہم شروع کی اس دوران پورے اسپین کی آبادی کو متحد کرنے کےلئے انہوں کھتولک مذہب کو پروان چڑھایا اور پاپائے روم نے بھی ان کی بھرپورسرپرستی کی
ملکہ ازیبلا نے عیسائیوں علاقوں میں ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کےلئے پوپ سے خصوصی اجازت لے لی جو کھتولک فرقہ کے خلاف تھے یا بدعقیدہ گردانے جاتے تھے اس کےلئے پوپ نے باقاعدہ عدالت بنانے کےلئے اپنا نمائندہ مقرر کیا
پہلی کورٹ نومبر 1478عیسوی میں قائم ہوئی شروع میں ان عدالتوں میں جادوگروں کاہنوں وغیرہ کو پیش کیا جاتا اور سزائیں دی جاتی
1492میں جب آخری مسلم حکمران سے غرناطہ چھین لیا گیا اس معاہدہ کے تحت کے سلطنت غرناطہ میں آباد مسلمانوں کو مکمل شہری حقوق دئیے جائیں گے اورمسلمان تاجروں کو تجارت کی اجازت ہوگی لیکن کچھ سال بعد ہی معاہدہ کی دھجیاں ادھیڑ دی گئیں اور ملکہ ازبیلا نے 1502 میں کھتولک پادری کی مشاورت سے ایک حکم نامہ جاری کر دیا کہ جو یہودی اور مسلمان اسپین میں رہنا چاہتے ہیں ان کو مذہب تبدیل کرنا ہوگا یوں ہزاروں مسلمان اور یہودی اندلس سے مراکش الجزائر وغیرہ بزریعہ سمندر ہجرت کر گئے اور ایک بڑی اکریث نے وقتی طور پر ظاہری عیسائیت قبول کرلی
ان نئے عیسائی ہونے والوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور پادری ملکہ کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہودی اور مسلمانوں اپنے گھروں میں ابھی اپنے عقیدہ کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اس پر حکومت نے تمام نئے عیسائی ہونے والوں کے لئے حکم جاری کیا کہ ان کے گھروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں گے اور ان کے دروازوں پر سور کا گوشت لٹکتا ہوا نظر آنا چائیے
عیسائی تفتیشی عدالتیں ملک کے کئی علاقوں میں قائم کردی گئیں ان تمام عدالتوں کا سربراہ توماس تورکیمدا Thomas Torquemadaمقرر ہوا جسے بعد میں تفتیشی جنرل کے نام سے پکارا جاتا تھا
ان عدالتوں میں ان لوگوں پر مقدمے چلائے جاتے جن کے بارے میں شکایت ملتی کہ وہ یہودیت پر عمل کررہے ہیں یا اسلام پر عمل کرتے پکڑے گئے ہیں یا کسی اور فرقہ پر ایمان رکھتے ہیں
ان عدالتوں میں تفتیش کےلئے زمانہ قدیم سے استعمال ہونے والے تما وحشیانہ طریقے اور آلات استعمال کئے گئے لوگوں کو زندہ جلانے سے لے کر ان کو ڈرموں میں بند کرکے آگ پر گرم کرنا الٹے لٹکائے رکھنا اور ان کے گلوں میں بھاری زنجیریں ڈالے رکھنا
یہ عدالتیں جولائی 1834 تک موجود رہیں اس دوران اندازہ کے مطابق 5000 کو سزائے موت دی گئی اور اٹھاسی ہزار ملزموں سے تفتیش کی گئی عبرتناک سزائیں دی جاتی رہیں چرچ کے پادریوں نے اپنی اس طاقت کا خوب ناجائز فائدہ اٹھایا اور جسے چاہا سزا دی
ان عدالتوں کی کاروائی کی سینکڑوں فائلیں کھتولک چرچ کے ریکارڈ میں محفوظ رہیں جن میں سے بعض اب اسپین کی لائیبریریوں میں محفوظ کی گئی ہیں اور کچھ کا ترجمہ انگلش میں ہو کر کتب کی شکل میں شایع بھی ہو چکا ہے
ذیل میں کچھ آلات تشدد کی تصاویر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسطرح اذیت دی جاتی تھی

img_2422

img_2424

img_2416

img_2423

img_2425

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *