مثبت سوچ: مسائل کا حل

مثبت سوچ: مسائل کا حل

اپنی سمت کا تعین کیجیے اور سوچ کو مثبت کیجیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدید ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ہمارے پاکستانی میں معاشرہ میں جدید سہولیات زندگی آرہی ہیں اور انکے ساتھ جدید مسائل بھی جنم لے رہے ہیں
مرد حضرات پر معاشی ضروریات پوری کرنے کا اتنا پریشر ہے اور معاشرہ کے مقتدر لوگوں کے مظالم اور نا انصافیوں سے اسے پالا پڑتا ہےاور یہ دونوں مل کر بعض دفعہ اسے اس قدر مایوس کر دیتی ہیں کہ یا تو وہ ان کے لئے اپنی جان دینے یعنی خود کشی کی راہ کو اپنا لیتا ہے یا پھر دوسروں کی زندگیاں ختم کرنے کے راستہ پر گامزن ہوتا ہے جیسے سریل قاتل و ڈاکہ زانی
دوسری جانب خواتین کے اندر بھی دوسروں سے مقابل حسد اور اپنے معاشی اور معاشرتی مسائل کی وجہ سے ٹینشن ڈپریشن کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کو ختم کروانے کےلئے کھبی دم کروایا جا رہا ہوتا ہے اور کھبی کسی بابے کے در کے چکر لگا کر اپنی حاجات پوری کروانے کےلئے پھونکیں ماروائی جا رہی ہوتی ہیں
ماہرین نفسیات اور ماہرین صحت کے نزدیک مرد و خواتین کے یہ مسائل اور بیماریاں اس کی اپنی اختیار کردہ ہیں ان کا ماخذ خارجی نہی انکا اپنا ذہن اور سوچ ہے
انسان خارجی مسائل یعنی اپنے ارد گرد کے ماحول سے منفی اثر لے کر کھبی باغیانہ کھبی حسدانہ سوچ کو اپنانا شروع کرتا ہے تو اس کا یہ سفر اسے مایوسی ناامیدی باغیانہ رویے کی سمت لےجاتا ہے اور پھر انسان کھبی اپنی ذات کو اذیت دے کر اسے نقصان پہنچانے لگتا ہے یا دوسروں کو ان وجوہات کا ذمہداری سمجھ کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے لگ پڑتا ہے
اگر یہی انسان اپنے ارد گرد کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ان مشکلات کا سامنا کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلے اور اپنی سوچ اور ذہن کو مثبت سمت میں استعمال کرئے مشکلات مسائل و مظالم کو زندگی کی حقیقت اور رب کی آزمائشیں سمجھے تو اس کی سوچ مایوسی نا میدی کی جانب راغب نہی ہوگی
ہماری جسم اور ہمارے اعمال ہمارے کنڑول میں ہوتے ہیں جیسے گاڑی کا اسٹیرنگ اور کنٹرول ایک ڈرائیور کے پاس ہوتا ہے اگر وہ اطمینان اور ہوشمندی سے اس گاڑی کو راستہ میں آنے والے رکاوٹوں کا خیال کرکے چلاتا رہے تو وہ بنا حادثہ کے اپنی منزل تک کا سفر طے کرلیتا ہے
ایسے ہی اگر ہم اپنی سوچ اور ذہن کو خارجی مسائل اور مشکلات کے پریشر کا شکار ہونے سے بچا کر درست راستہ کی جانب اسے ڈال دیں تو ہماری زندگی کا سفر بھی بنا حادثہ ہوئے طے ہو سکتا ہے
ڈپریشن ہو یا ٹینشن یا بے اطمینانی یا بے سکونی ان میں سے اکثر بیماریاں ہمارے اپنے سوچنے کے غلط انداز کی پیداوار ہوتی ہیں ہم جب اپنے اردگرد کے مصائب اور مسائل کو دیکھ کر ان سے بخوبی نبٹنے کا ہنر یا صلاحیت اپنے اندر نہی پاتے تو ہم نفرت ناامیدی حسد کی منفی سوچ کو اپنے اندر جگہ دینا شروع کر دیتے ہیں اپنی سوچ کو غلط سمت میں جانے سے روکیے نا مساعد حالات اور مشکلات کا سامنا کرنے کی اپنے اندر ہمت پیدا کئجیے دستیاب وسائل اور رب کی عطا کردہ جسمانی و ذہنی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کا ہنر سیکھیے تاکہ آپ ان مسائل اور مشکلات کو حل کرکے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں بہتر بنا سکیں
از قلم فیاض قرطبی

img_2447

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *