جگنو اور جزیرہ (اسپینش سے ماخوذ)

جگنو اور جزیرہ (اسپینش سے ماخوذ)

ایک دفعہ کا ذکر کے ایک جزیرہ پر دو جگنو رہتے تھے دونوں آپس میں گہرے دوست تھے دونوں اس جزیرہ پر ایک ساتھ گھومنے جاتے اپنے لئے خوراک تلاش کرتے
یہ جزیرہ ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا اس لئے جیسے جیسے سردی بڑھتی ان کےلئے خوارک تلاش کرنا مشکل ہوتا جاتا،
ان میں سے ایک جگنو نے دوسرے سے کہا کہ آو اس جزیرہ سے باہر نکل کرکوئی اور دنیا تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں وافر خوراک ہو
دوسرے جگنو نے اپنے دوست کی تجویز سن کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ چاروں طرف پانی ہی پانی ہے دوسرے جزیرہ کی تلاش میں کہیں گم ہی نہ ہو جائیں اسلئے میں تو یہ رسک نہی لینا چاہتا
پہلے جگنو نے کہا یہاں بھوکے مرنے سے بہتر ہے کہ رزق کی تلاش میں نکلا جائے اگر نئی دنیا تلاش کرتے مل جائے تو زندگی سنور جائے گی نہ ملی تو یہاں بھی بھوکا مرنا ہی ہے جہدوجہد کرکے مرا جائے اسلئے میں چلا منزل کی تلاش میں
جیسےہی نئی دنیا ملی میں وہاں سے تمہارے لئے بھی خوراک لے آوں گا تاکہ تم بھی ساری سردیاں آرام سے گزار سکو۔
یوں وہ اپنی منزل کی تلاش میں نکل پڑا وہ اڑتا اڑتا ایک بڑے جزیرہ پر جا پہنچا جیسے ہی وہ وہاں پہنچا اس کی آنکھیں وہاں کی ہریالی دیکھ کر کھلی کی کھلی رہ گئیں اس نے جی بھر کر پیٹ بھرا اور پھر رہنے کےلئے کوئی اچھی سی جگہ کی تلاش کرنے لگ پڑا
وہ پر خوراک کی وافر مقدر دیکھ کر اس کا دل وہاں ایسا لگا کہ اسے وہاں رہتے کئی ماہ گزر گئے تو ایک دن اسے تہنائی محسوس ہوئی تو پرانا دوست یاد آیا اس نے سوچا اب واپس جا کر اسے ملنا چائیے
جیسے ہی وہ چھوٹے جزیرہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا دوست بہت کمزور ہو کر دبلا ہو چکا ہے
دوسرے جگنو نے اپنے پرانے دوست کو سامنے دیکھا تو اسے کے پھولے ہوئے جسم کو دیکھ کر حیران ہوا اور بولا دوست تم تو نئی دنیا میں جاکر اپنے پرانے دوست کو بھول ہی گئے تم نے وعدہ کیا تھا کہ جا کر میرے لئے بھی خوراک لاو گے اور آج چھ ماہ بعد منہ دیکھا رہے ہو
پہلا جگنو شرمندہ سا ہو گیا اور بولا میں خوراک اٹھا کر اتنا سفر کیسے کرتا آو اس دفعہ دونوں اکھٹے چلتے ہیں پہلے جگنو نے کہا کہ نہی میں خود غرض دوست کے ساتھ رہنے سے اکیلا رہنا ہی بہتر سمجھتا ہوں جو دوست مصیبت کے وقت صرف اپنا مفاد دیکھے اسکے ساتھ رہنے سے کیا فائدہ یوں دونوں نے اپنے راستے جدا کر لئے ہمیشہ کےلئے

از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *