اردو اسپیکنگ مائی اور محلہ کے شرارتی بچے

اردو اسپیکنگ مائی اور محلہ کے شرارتی بچے

بچپن کی عمر میں انسان سب سے زیادہ سیکھتا ہے اور یہ سیکھنے کا عمل اسکول مکتب کے ساتھ ساتھ والدین اور اپنے گلی محلہ میں پیش آنے والے واقعات سب سے جڑا ہوتا ہے ہمارے بچپن کی کچھ حسین یادیں جو ابھی بھی لاشعور میں محفوظ ہیں آج ان میں کچھ آپ کے ساتھ شئیر کرتا ہوں
ہمارا محلے میں کراچی سے ایک خاندان آ کر آباد ہوا جن میں ایک بزرک اور ایک بڑی عمر کی خاتون تھیں یہ اردو بولنے والا خاندان تھا یہ مائی صاحبہ ایک دن محلہ میں قائم ایک سبزی فروش کی دوکان پر گئیں اور کچھ سبزی و فروٹ منتخب کیا اور دوکاندار سے کہنے لگیں بیٹا زرا (موم جامہ ) تو پکڑانا دوکاندر نے ادھر ادھر دیکھا پھر کوئی فروٹ یا سبزی اٹھا کر پکڑانے کی کوشش کی مائی صاحبہ نے دوبارہ کہا نہی یہ نہی (موم جامہ) دو اب وہ پنجاب کا دیہاتی دوکاندر اس نے زندگی میں یہ لفظ پہلی بار سنا تھا اسے سمجھ نہ آئی مائی نے مجبورا آگے بڑھ کر خود موم جامہ اٹھا لیا
تب جاکر دوکاندار کو سمجھ آیا کہ ان کو شاپنگ بیگ چاہیے تھا
اس وقت دوکان پر کچھ بچے بھی آئے ہوئے تھے خریداری کےلئے
انہوں نے بھی یہ لفظ پہلی بار سنا ان کو مائی صاحبہ کا اسطرح یہ لفظ استعمال کرنا عجیب سا لگا اب محلہ کے بچوں نے اس لفظ کو مائی صاحبہ کی چھیڑ بنا لیا جب بھی وہ گلی میں گزر رہی ہوتیں بچے آواز لگاتے (موم جامہ )مائی صاحبہ یہ سن کر آگ بگولہ ہو جاتی
بچے تو شرارتی ہوتے ہیں ان کےلئے یہ کھیل تھا لیکن مائی صاحبہ کےلئے یہ تضحیک بن گیا اور وہ بچاری یہ لفظ سن کر طیش میں آ کر بچوں کو خوب صلواتیں سناتی
مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ننانوے فیصد لوگوں نے یہ لفظ آج پہلی بار سنا ہوگا کس کس کو Shopping bag کا اردو متبادل لفظ پہلے سے معلوم تھا ؟

img_2477

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *