لوٹ اے گردش ایام

لوٹ اے گردش ایام

ہم نے اپنی پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی اور قران پاک کا ناظرہ محلہ کی مسجد سے پڑھا
پرائمری اسکول میں ہمارے ایک ہم جماعت تھے جو عمر میں ہم دو تین سال بڑھے ہوں گے وہ اسی مسجد میں حفظ کرتے تھے جہاں ہم ناظرہ پڑھنے صبح اسکول جانے سے قبل جاتے تھے
ان کو مولوی کے نام سے پکارا جاتا تھا وہ کلاس میں اکثر سوئے پائے جاتے جس پر کلاس ٹیچر سے اکثر ڈانٹ پڑتی اصل میں ہوتا یوں تھا کہ ان کو فجر سے قبل حفظ کےلئے جگادیا جاتا تھا اس کے بعد وہ اسکول پڑھنے آجاتے اور شام کو پھر حفظ کی سبقی
وہ کچھ سست الوجود اور غبی بھی تھے اسلئے کئی سال گزرنے کے باوجود ان کا حفظ مکمل نہ ہوسکا تھا
ان کے کئی قصے مشہور ہو چکے تھے جن میں ایک واقعہ یہ تھا کہ وہ مسجد کے غسل خانے میں اندر سے کنڈی لگا کر سو گئے حفظ کی کلاس یا اسکول کی کلاس سے جب بھی غیر حاضر ہوتے ٹیچر لڑکوں کی ڈیوٹی لگاتے جاو مولوی کو تلاش کرو کہ آج کہاں جگہ تلاش کی سونے کی ۔
وہ بھی بڑے کایاں تھے ہر دفعہ نئی جگہ تلاش کرلیتے سونے کےلئے
اسی طرح محلہ میں واقع ایک حویلی کے درخت پر چڑھ کر اس کے ایک موٹے تنے پرٹانگیں پھنسا کر سوتے پکڑے گئے
ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک کلاس فیلو کی ڈیوٹی لگا دی کہ جب بھی اسے سوتا دیکھو اسے سوئی چھبو دیا کرو
اس زمانے میں تو ان باتوں پر غور کرنے کا شعور نہ تھا اب سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم ان کا مذاق اڑا کر ان کو تنگ کرکے اچھا نہی کرتے تھے ایک تو وہ قدرتی غبی تھے اوپر سے ان کے گھر والوں نے ان کو زبردستی حفظ کرنے ڈال رکھا تھا
ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بچوں کے رجحانات کو پہچان ہی نہی پاتے یا اپنی دلی خواہیش پوری کرنے کےلئے بچوں کو ان کی طبیعت کے برخلاف کام سیکھنے پر مجبور کرتے ہیں جس کا اثر یہ پڑتا ہے کہ بچے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے یا جان بوجھ کر غفلت کرکے اس کام کو درست سرانجام نہی دیتے اور یوں اپنی زندگی کا بہترین وقت ضائع کر دیتے ہیں اور اکثر بچے باغی بن کر الٹی سیدھی حرکتیں کرکے گھر والوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بننے لگ جاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *