سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سن دو ہزار میں جب ہم قرطبہ کے نواحی گاوں بلمس Belmiz میں رہائش پذیر تھے یورپ کے دیگر ممالک سے بھی پاکستانی اسپین پہنچ رہے تھے کیونکہ اسپین نے غیر ملکی افراد کو قانونی دستاویزات دینے کا اعلان کر رکھا تھا
اس چھوٹے سے گاوں جس کی آبادی بامشکل چار ہزار نفوس پر مبنی تھی میں تقریبا چالیس کے قریب پاکستانی مختلف ڈیروں میں رہ رہے تھے
ان میں پنجاب اور کشمیر کے مختلف شہروں کے لوگ تھے کوئی انگلینڈ سے بزریعہ جہاز آیا تھا اور کوئی بزریعہ ٹرین اور کچھ لوگ ڈنکی لگا کر یعنی مختلف ممالک کی سرحدیں غیر قانونی طور پر کئی ماہ کی طویل جہدوجہد کےبعد عبور کرکے یہاں تک پہنچے تھے
ان میں ایک شخصیت ایسی تھی جن کے نام کے ساتھ روسی کا لقب تھا ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو روسی کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے روس کی سرحد عبور کرنے کی سترہ کوشیش سات سال لگاتار کیں
اس زمانے میں میرے پاس کمپاس اور نقشہ جیب میں ہوتا تھا میں ہر بار ناکام ہوتا پکڑا جاتا تو دوسری بار دوسری جانب سے کوشش کرتا
دوران قیام ان صاحب سے کسی نے پوچھا کہ یہ واشنگ مشین میں جرابیں آپ کی ہیں تو موصوف کا جواب تھا کہ نہی میرا اصول ہے کہ میں جرابیں اور انڈر وئیر اتاروں تو دوبارہ نہی پہنتا ہم سن کر حیرں ہورہے تھے ان کے اس ڈائیلاگ سے کہ ان کے ساتھ رہنے والے دوست نے تبصرہ کیا کہ روسی صاحب اتنا عرصہ پہنے رہتے ہیں کہ جب اتارتے ہیں تو وہ اس قابل کہاں رہتا ہیں
اسپین میں دستاویزات بناتے ہوئے ان کو مزید دوسال لگے اسکے بعد کام کی تلاش شروع کی نہ زبان آتی تھی نہ ہنر تھا کچھ دوست مارکیٹ میں اسٹال لگا چھوٹا موٹا سامان فروخت کرتے تھے ان کے ساتھ مددگار کے طور پر کام کرنے لگے
پاکستان گھر سے نکلے دس سال کا عرصہ بیت چکا تھا جو بیٹی سات سال کی چھوڑ کر آیا تھا وہ سترہ کی ہوچکی تھی اور پاکستان جانے کےلئے ٹکٹ کے پیسے نہ تھے ہم دوستوں سے مانگ کر ٹکٹ لیا اور پاکستان گئے
اسکے بعد ہم گاوں سے قرطبہ منتقل ہوئے جہاں انگلینڈ کے ایک دوست سے مل کر پہلا ڈونر کباب کھولا
روسی صاحب سے اس کے بعد کھبی رابطہ نہ ہوا
پردیس کے سفر میں ایسی ان گنت داستانیں ہیں یہ تو محض ایک کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا
از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *