پی آئی اے PIA کے خسارہ کی وجہ : پاکستانی پیر فقیر ہیں

پی آئی اے PIA کے خسارہ کی وجہ : پاکستانی پیر فقیر ہیں

کچھ برس قبل ایک دوست کا فون آیا کہ ان کے جاننے والے ایک پاکستانی دوست آپ کے شہر قرطبہ میں کسی کمرشل پلازہ میں سنگ مرمر کے بنے نوادارت کا اسٹال لگانے آرہے ہیں ان کی رہائش کا بندوبست کر دیجیے
پردیس میں اپنے دیس کے مہمانوں کی میزبانی اور مدد کرنا ہمیشہ سے ہمارے لئے باعث فخر رہا ہے
ہمارا پہلا تاثر تو یہ تھا کہ جو کاروباری اسٹائل لگا رہا ہے وہ پیسے والا کاروباری فرد ہو گا اسے ہوٹل بک کروانا چائیے مگر جب وہ قرطبہ پہنچے تو پتا چلا کہ وہ محض ملازم ہیں اصل سرمایاکار تو کوئی اور ہے یہ صاحب ہمارے علاقہ کشمیر کے شہر میرپور سے تعلق رکھتے تھے
انہوں نے آٹھ سے دس دن تک ہمارے ہاں قیام فرمایا بہت سادہ مزاج اور ضیف العقاد تھے دوران قیام انہوں نے جو ایک واقعہ سنایا اس کی وجہ سے انکی شخصیت اب تک ہمارے ذہن میں محفوظ ہے
اولیا اور پیروں کی کرامات کے سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ میرپور کا ایک فرد سعودیہ گیا تو وہاں اسکا ویزہ ختم ہو گیا اور پیسے بھی ختم ہو گئے ایک دن وہ حرم پاک میں رو کر دعا مانگ رہا تھا کہ ایک بزرگ نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا رو کیوں رہے ہو اس سائل نے سارا ماجرا سنایا
ان بزرگوں نے کہا کہ اپنی آنکھیں بند کرو اور اس وقت تک نہ کھولنا جب تک میں نہ کہوں
کچھ دیر بعد جب انکے حکم پر آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو کھڑی شریف میرپور میں کھڑا پایا تو حیران ہوا
تو بزرگ بولے میں کھڑی شریف کا پیر ہوں روزانہ حرم میں نماز ادا کرنے جاتا ہوں
ہم نے یہ قصہ سن کر سبحان اللہ کا نعرہ لگایا
اور دل ہی دل میں سوچا PIA کی سروس خسارہ میں شاید اسی لئے جا رہی ہے کہ پاکستان کے سینکڑوں پیر روزانہ مفت میں ایسے مسافران کو لے کر آنے کی سروس جو مہیا کر رہے ہیں

(بزرگان دین از خود ایسے دعوے کم ہی کرتے ہیں یہ جاہل عوام ان بزرگان کی اصل تعلیمات کو چھوڑ کر قصوں کہانیوں کو ان سے منسوب کر دیتی ہے)
از قلم فیاض قرطبی

img_2594

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *