ہماری جیل میں پہنچنے کی روداد

ہماری جیل میں پہنچنے کی روداد

1994میڑک کے بعد بڑے بھائی جان ریاض نے ہمیں روایتی ایف اے والی تعلیم کی بجائے فنی تعلیم حاصل کرنے کےلئے جہلم کے ووکیشنل کالج میں داخلہ لینے کا مشورہ دیا صبح کی شفٹ میں داخلہ بند ہونے کی بنا پر شام والی شفٹ میں مکینیکل ڈرافٹسمین کے ایک سالہ سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ لیا
یہ کالج جہلم کے مشہور جی ٹی ایس چوک اور دریائے جہلم پر انگریز کے بنائے گئے قدیم پل کے درمیان واقع تھا اور اس کالج کے تینوں اطراف والی گلیوں میں جہلم کے تین مشہور سینما گھر قائم تھے
ہماری کلاس شام کو تقریبا سات بجے ختم ہوتی اور جب دوستوں کے ہمراہ وہاں سے گھر واپس جانے کےلئے گزر رہے ہوتے تو سڑک پر سے گزرنے والی نگاہوں کا مرکز ہوتے کہ یہ طلبا کوئی شو دیکھ کر آ رہے ہیں حالانکہ ایک سال لگاتار کالج جانے کے دوران کھبی سینماوں کا رخ تک نہ کیا تھا
جہلم جی ٹی روڈ کینٹ سے دینہ کےلئےرات کو سات سے آٹھ بجے بس پر سوار ہوتے وقت کنڈیکڑ بھی ہمیں گھورتے کھبی کھبار بحث بھی کرتے کہ دن کے وقت کم تنگ کرتے ہو اب رات کو بھی مفت سفر کےلئے آگئے
ہمیں بتانا پڑتا کہ ہم سکینڈ شفٹ کے حقیقی طالب علم ہیں مفت خورے نہی ہیں
اس کالج کے ساتھ ایک چائے خانہ تھا جس کا نام لڈن کا چائے خانہ تھا جہاں شہر بھر سے چائے کے شوقین آتے تھے یہاں کی چائے کی خاص بات یہ تھی کہ چائے کا ایک بڑا مگ تھا جس میں بنتی دوسرا چائے ہمیشہ کوئلوں پر بنائی جاتی جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ منفرد ہوتا تھا ہم کلاس فیلو دوران وقفہ اکثر اس چائے سے لطف اندوز ہوتے تھے
ہم کالج جانے کےلئے اکثر صبح ہی گھر سے چلے جاتے راستہ میں کھبی جی ٹی روڈ کالج کے دوستوں سے گپ شب کےلئے رکھ جاتے یا جہلم شہر میں کسی سے ملنے کےلئے
ایک دن ہمارے محلہ کے ایک نوجوان جو جی ٹی روڈ کالج میں کلرک تھے نہ ہمیں جاتے ہوئے اپنی چھٹی کی درخواست پکڑا دی کے تم اپنے کالج جاتے ہوئے راستہ میں جی ٹی روڈ کالج میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں دیتے جانا
ہم جب کالج پہنچے تو دیکھا طلبا کی بڑی تعداد کالج کی بجائے سڑک کے کنارے جمع تھی اور نعرے لگا رہی تھی ہم ان کو وہیں چھوڑ کر کالج کے اندر درخواست جمع کروا کر جب باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پولیس کی بھاری نفری آن موجود ہوئی طلبا اور پولیس میں آنکھ مچولی شروع ہو گئی ہم نے روڈ پار کی تاکہ اپنے کالج کی جانب جا سکیں اس دوران طلبا کے پتھراو سے پولیس کا ڈی ایس پی یا کوئی آفیسر زخمی ہو گیا تو اس نے پولیس کو فل اختیار دے دیا پھر کیا تھا پولیس نے طلبا کو مار بھگایا
ہم کسی بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ بس کی بجائے ایک پولیس بس آ پہنچی ہمارے سامنے آ رکی چونکہ ہم کالج کے طالب علم نہ تھے نہ اس اتجاج کا حصہ اسلئے ہم بے پروا ہو کر کھڑے رہے پولیس بس سے کچھ اہلکار اترے اور ہمیں پکڑ کر بس کی جانب لے جانے لگے ہم نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تو وہ بولے یہ بیان بڑے صاحب کے سامنے دینا فلحال ساتھ چلو
ہمارے ساتھ کھڑے ایک اور صاحب جو پودوں کی نرسری کے ورکر تھے اور عمر بھی تیس کے لگ بھگ تھی کو بھی پولیس نے پکڑ لیا باوجود اسکے کہ وہ کہتا رہا میں نرسری کا ملازم ہوں میری عمر میری شکل طالبعلم والی لگتی ہے آپ کو
پولیس والوں نے شاید خانہ پوری کرنی تھی اسلئے جو جو سامنے آیا اسے پکڑ کر بارہ پندرہ کی تعداد پوری کی اور بس کو جہلم صدر کے تھانہ میں جا پہنچے

تھانہ اور جیل کی روداد اگلی قسط میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *