تھانہ کی چورکتیا

تھانہ کی چورکتیا

تھانہ میں چوری کرنے والی کتیا

(جیل میں گزرے تین دن قسط نمبر 2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانہ پہنچے تو انچارج تھانہ کے سامنے سب کی شناخت کی گئی اور کہا گیا بے فکر رہو بڑے آفیسر آتے ہی چھوڑ دئیے جاو گے کچھ دیر بعد وہاں موجود تھانہ کے ایک کمرہ کے حوالات میں بند کر دیا گیا جو زیادہ سے زیادہ چھ سات افراد کےلئے بنا ہوا تھا جبکہ ہم بارہ تیرہ طالبعلم تھے
کمرہ کے اندر ہی پیشاب کرنے کےلئے چار سے چھ اینٹ اونچی دیوار بناکر الگ جگہ بنی ہوئی تھی جس کی بدبو سے ہمارا دم گھٹ رہا تھا دو تین گھنٹوں میں ہمارے ساتھ بند طلبا کے والدین اور لواحقین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہم سب کو امید تھی کہ دو چار گھنٹوں کے بعد ہماری جان چھوٹ جائے گی کیونکہ ہم نے کوئی جرم تو کیا نہی اور پولیس طلبا تصادم بھی کوئی بڑا حادثہ یا جرم نہی
لیکن اسی اثناء میں رات ہوگئی رات کو بامشکل سب ایک دوسرے کے پیٹوں کو سرہانہ بنا کر اس کےاوپر سر رکھ کر لیٹے
رات کو پہرہ پر موجود اہلکار نے حوالات کی سلاخوں کے قریب سوئے ایک طالبعلم کی گھڑی اتارنے کی کوشش کی تو وہ جاگ اٹھا
اہلکار اندھیرے کی وجہ سے پہچانا نہ جاسکا صبح جب ہم نے دوسرے اہلکاروں سے شکایت کی تو ان میں سے ایک اہلکار جہنوں سے شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی کہنے لگے بیٹا یہاں کس کی جرت چوری کرنے کی
ضرور وہ کتیا ہو گی جو اکثر رات کو کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر منہ مارتی رہتی ہے
ان صاحب کے ظاہری حلیہ کے باوجود ہم سب کو یقین نہ آیا بلکہ ہم ہنسنے لگے کہ نمازی ہو کر بھی حرکتیں اور عادتیں نہی بدلی پولیس کی
صبح صبح جہلم شہر کے ہمارے دوست ناصر رفیق جو اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ شہر کے ناظم تھے اس حوالہ سے میرے ساتھ ان کے روابط تھے وہ اپنے گھر سے ناشتہ تیار کروا کر لے آئے میرا اپنا گھر تو پندرہ کلومیڑ دور تھا
خیر ہم اسی امید پر تھے کہ ابھی ہم کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن کچھ دیر بعد پولیس بس آئی اور ہمیں جہلم جیل کے سامنے لا کھڑا کیا گیا اور ہمیں تھانہ پولیس سے جیل کی پولیس کے حوالہ کر دیا گیا
ایک بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک بلیک بورڈ پر تاریخ درج تھی اور جیل میں قید قیدیوں کی تعداد وغیرہ درج تھی دائیں جانب جیل سپرڈینڈنٹ کے کمرہ میں لے جایا گیا اور ہمارے پاس موجود سامان کا ہم سے لے کر رجسڑ میں اندراج کیا گیا اور بتایا گیا کہ جب رہائی ہوگی تو یہ مکمل باحفاظت آپ کو ایسے ہی واپس دیا جائے گا
جیل کے مرکزی دروازے کے اندر ایک اور مرکزی دروازہ تھا جس سے اندر داخل ہوئے تو سامنے گلاب کے پھولوں سے مزین کیاریوں پر نظر پڑی اور دیواروں پر قرانی آیات لکھی نظر آئیں اس سے آگے چلے تو میدان کے درمیان ایک گول سا کیبن نما کمرہ بنا ہوا تھا جسے جیل کی زبان میں چکر کہا جاتا ہے اس چکر سے مختلف پکڈنڈیاں مختلف بیرکوں کے جانب جاتی ہیں

منڈا خانہ اور اسکی سرگرمیاں آئیندہ
از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *