جہلم جیل کا پراثر پانی

جہلم جیل کا پراثر پانی

منڈا خانہ میں پندرہ سال سے اٹھارہ سال کے بارہ پندرہ لڑکے تھے یہ نارمل بیرک کی بجائے بڑا ہال تھا
اور یہاں بی کلاس کی طرح اپنا کھانا پکانے کی اجازت تھی لیکن سامان اپنا منگوانا پڑتا تھا پیاز سبزی کاٹنے کےلئے چھری کی اجازت نہی اس کی بجائے ایک لوہے کی پتری سے کام چلایا جا رہا تھا
ان بچوں میں دو تین تو ایسےخانہ بدوش تھے جو نشئی تھے جن کے پاس سے نشہ برآمد ہونے پر قید سنائی گئی تھی ایسے جرائم کی کچھ سزا کے ساتھ کچھ ہزار جرمانہ بھی ہوتا ہے ان کی سزا تو پوری ہو چکی تھی لیکن چند ہزار جرمانہ نہ ہونے کی وجہ سے مزید کئی ماہ سے قید میں تھے
کچھ ہماری طرح طالبعلم تھے لیکن خاندانی دشمنی کے مقدموں میں قید تھے ان پرزمینوں کے جھگڑے میں قتل کا الزام تھا پوچھنے پر بتانے لگے تھانہ میں فورا اقرار جرم کرلیا کیونکہ پولیس تشدد کرتی ہے اب یہاں آ کر مکر گئے ہیں اور جیل سے ہی تاریخ پر جاتے رہتے ہیں

ہم چونکہ اسٹوڈنٹ تھے ہم پر کوئی جرم عائد نہی ہوا تھا اسلئے وہاں اہلکاروں کو بھی معلوم تھا کہ ایک دو دن میں ضمانت ہو جائے گی اسلئے ہم پر سختی نہ تھی وگرنہ صبح کے وقت سب قیدیوں سے کہیں گھاس صفائی کروائی جا رہی تھی اور کچھ کو وہاں قائم دستکاری خارخانوں یا سبزیاں اناج اگانے والے کھیتوں میں کام کےلئے لے جایا جاتا تھا
ہم کو پہلے دون دن تو معاف رکھا گیا دوسرے دن شام کو جیل اہلکاروں کے ایک ٹوٹ قیدی نے کہا کہ ایک دو دن آرام ہو گیا اب تو کام کرنا پڑے گا اگر کام سے بچنا ہے تو ملاقات پر آنے والوں سے پیسے منگوا کر پولیس اہلکاروں کی جیب خرچ کرنی ہوگی
جیل کے اندر یوں تو نقد پیسہ لانے کی پابندی تھی لیکن پولیس اہلکار اپنی جیب گرم کروانے کےلئے اتنی ڈھیل دیتے تھےکہ قیدی نقد رقوم اندر لے جا سکیں
منڈا خانہ اور جیل میں جہلم جیل کے بارے میں قیدیوں اور اہلکاروں سے معلوم ہوا کہ پاکستان کی سب جیلوں میں مشہور ہے اور اسکی وجہ شہرت اس کا صحت افزا پانی ہے اس بات میں کتنا سچ تھا اسکا علم تو نہی ہمیں تین دن اس دربار کا پانی خوب پینا پڑا تین دن کے بعد ہماری ضمانت منظور ہوئی تو یہ جیل یاترا ختم ہوئی
ان تین دنوں میں جیل کے اندر قائم ایک الگ دنیا سے تعارف ہوا جسکے بارے میں باہر کی دنیا کو بہت کم علم ہوتا ہے جیل ریاست کے اندر ایک چھوٹی سی ریاست کی مانند ہوتی ہے جہاں کا حکمران جیل سپریڈنٹ ہوتا ہے وہاں کے اہلکار اسکے اشارے پر چلتے ہیں اس کی خوشآمد کےلئے اسکے سامنے کاکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیل کے اندر ابتر کھانے کے نظام کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ حکومت نے ایک مخصوص سالانہ بجٹ تو اس مد میں قائم کیا ہوا ہے لیکن ہر جیل میں گنجائش سے کئی گناہ زیادہ قیدی بند ہیں
اب دئیےبجٹ سے ایسے ہی گزارہ کیا جاتا ہے

ضمانت کے بعد تاریخوں کی روداد اگلی بار
از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *