بستہ ب کے بدمعاشوں کی فہرست اور ہم

بستہ ب کے بدمعاشوں کی فہرست اور ہم

بستہ ب کے دس نمبر بدمعاشوں کی فہرست میں ہم
جیل میں گزرے تین دن (اخری قسط)
تیسرے دن جج کے سامنے ہھتکڑیاں لگا کرپیش کئے گئے جج صاحب نے ضمانت منظور کرکے رہا کردیا
کچھ دنوں میں پولیس کا ایک اہلکار ہمارے گھر کا پتہ لوگوں سے پوچھتا آ پہنچا ہمیں اس نے تعارف کروایا کہ عدالت نے آپ کا سمن نکالا ہے اور آپ کو جج کے رو برو پیش ہونا ہے ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ میں نے ابھی مقامی تھانہ بھی جانا ہے جہاں کے مجرموں کے ریکارڈ رکھنے والے رجسٹر جسے بستہ ب کہا جاتا ہے میں آپ کی انٹری کروانی ہے
وہ بتانے لگا کہ اس ریکارڈ کا مقصد یہ ہوتا ہے آئیندئ اگر اس علاقہ میں کوئی کیس ہوتا ہے تو رجسڑ میں درج لوگوں کو سب سے پہلے پجڑ کر تفتیش کی جائے گی ہم نے یہ سنا تو ہمارے پاوں سے زمین سرکتی محسوس ہوئی
ہمارے محلہ کے ایک لڑکا بھی جیل میں ہمارے ساتھ تھا اس سارے قصہ میں اسے بھی بلوا کر اسے یہ سارا قصہ سنایا
ہم چونکہ کم عمر تھے پولیس عدالت کے نظام کے چکروں کا علم نہی تھا اسلئے پولیس اہلکار کی ان باتوں سے ڈر گئے اس نے ہمیں سہما دیکھ کر اپنا اگلہ پتہ پھینکا کہ اگر اس کے ساتھ تعاون کیاجائے تو وہ رجسڑ میں ہمارا اندراج نہی کروائے گا ہم دونوں لڑکوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اسے لے کر اپنے محلہ کے کونسلر کے پاس لے گئے (گھر والوں کو ہم نے اہلکار کے بارے میں نہی بتایا)
کونسلر نے پولیس والے سے ملاقات کی اور ہمیں کہا کہ اسے ہانچ سو دے دو تاکہ یہ آپ کو تنگ نہ کرے ،
کونسلر چونکہ پولیس سے اپنے جائز ناجائز کام نکلواتے رہتے ہیں اسلئے اس نے پولیس والے کو ہی خوش کروایا
ایک دو تاریخوں پر گئے لیکن پتہ لگ کھبی جج صاحب نہی آئے تو کھبی رجسٹرر اور ہم گھنڑوں کہچری میں انتظار کرکے واپس
بار بار کی اسطرح بنا سماعت کیس کے اگلی تاریخ منتقل ہونے پر ہم نے اسے غیر اہم جان کر اگلی دو تاریخوں پر جانا گوارہ نہ کیا تو پھر وہی اہلکار سمن لئے حاضر ہوگیا ہم نے اس دفعہ بڑے بھائی کو بتایا جو اس دن گھر پر ہی تھے انہوں نے اسے ہوٹل پر بیٹھا کر سمن وصول کیا اور چائے پلائی دوران گفتگو ایک دو سوال کئے تواہلکار کو پتا لگ گیا آج مرغی انڈا نہی دینے والی تو اسنے سمن پر دستخط لئے اور چلا گیا
ہم نے بھائی جان کو پچھلی بار کا سارا قصہ سنایا تو انہوں نے کہا کہ اس اہلکار کو عدالت نے محض تاریخ یعنی اگلی پیشی کی اطلاع دے کر ارسال کیا تھا اس کا کوئی اختیار یا تعلق مقامی تھانہ سے نہی اس نے بچے دیکھ کر پچھلے بار اپنی دھاڑی لگائی تھی
یہ کیس یوں ہی کچھ ماہ ہم بھگتے رہے اس کے بعد ہم اسپین آگئے پیچھے وکیل صاحب نے پیروی کی اور بڑی مشکل سے اس کیس سے نام نکلا کیس میں جو الزامات تھے ان میں سے ایک سرکاری اہلکار پر حملہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور امن و امان میں خلل ڈالنا ،ان سارے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت ان کے پاس نہ تھی لیکن ہماری عدالتوں کی روایتی سستی نے اسےکئے ماہ لٹکائے رکھا

از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *