اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

کل شام گھر سے کام پر جانے کےلئے نکلاجو قرطبہ شہر سے زرا ہٹ کر صنعتی علاقہ میں واقع ہے ہمارا دفترشہر سے پانج سے سات کلو میٹر کی مسافت پر ہے
راستہ میں جاتے ہوئے ہوئے دائیں بائیں ہرے بھرے کھیت اور قطار اندر قطار لگے درختوں پر موسم بہار کے کھلے رنگ برنگے پھول دیکھ کر فرحت کا احساس ہوا ۔
اسپین ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی زمین کافی زرخیز ہے جب بھی آپ اس کی سڑکوں پر سفر کریں گے تو دائیں بائیں ہرے بھرے کھییت یا پھلوں کے درخت یا زیتون کے درخت نظر آئیں گے
اچانک میری نظرکھیتوں کے ساتھ جاتی پگڈنڈی پر پڑی تو عربی چوغہ میں ملبوس ہاتھ میں کپڑے کا تھیلہ اٹھائے ایک بابا جاتا نظر آیا اس کے لباس سے ایسے محسوس ہوا جیسے زمانہ قدیم کا کوئی عرب مسلم ہے
ہم نے کچھ آگے جا کر گاڑی کھڑی کی اور بابا کی جانب چل پڑے قریب جاکر سلام کیا تو بابا جی جو اپنی دھن میں سوچوں میں مگن جا رہے تھے نے حیرت سے ہمیں نیچے سے اوپر تک دیکھا ہمیں پینٹ شرٹ میں ملبوس دیکھ کر شاید انہیں حیرت ہوئی تھی میں نے اسپینش زبان میں پوچھا بابا جی کہاں سے آئے اور کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ بابے جی آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھ رہے تھے مجھے لگا کہ انہیں اسپینش نہی آتی پھر انگلش میں سوال کیا لیکن بابا جی ٹک ٹک دیدیم کی مانند جامد کھڑے رہے
آخری حربے کے طور پر ہم نےعربی میں پوچھا من انت ؟
بابا جی عربی سن کر جیسے ہوش میں آگئے اور کہنے لگے اسمی ابو ذکریا یحیحی ابن احمد المعروف ابن العوام
اشبیلیہ Sevilla کا رہنے والا ہوں اور قرطبہ کے علاقہ سے کچھ بیج اور پودے لینے آیا ہوا ہوں
اندلس کی تاریخ کے متعلق کتب پڑھنے کا ہمیں شغف ہے ہم نے اندلس کی زراعت کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پر جو کتب پڑھ رکھی تھیں ان میں یہ نام کچھ جانا پہچانا سا لگا میرے ذہن میں ایک عجیب کشمکش چل پڑی کہ آیا میں سفر کرکے قدیم وقت میں چلا آیا ہوں یہ بابا جی نئے زمانہ میں آ گئے ہیں
ٹوٹی پھوٹی عربی میں بابا جی سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں مشاغل کیا ہیں تو وہ گویا ہوئے
میں بنیادی طور پر ایک زراعت دان ہوں اشبلیہ میں کھیتوں میں مختلف پودوں اور سبزیوں کو اگانے اور ان کی پیداوار بڑھانے پر تجربات کرتا ہوں اور افریقہ اور ایشیا سے نئی فصلوں کے بیج منگوا کر انہیں اسپین میں اگانے کی کوشش کرتا ہوں
اس سلسلہ میں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے (کتاب الفلاحہ ) جس میں زمین کو زرخیز بنانے کے طریقہ اور مختلف پودوں کی پیوند کاری کے طریقے بیان کیے گئے ہیں اسکےعلاوہ جنگلی زیتون کو گھریلو زیتون کی پیوند کاری اور انجیر کے درخت کی کاشت کیسے کی جائے پر بھی میری تحقیق اس میں لکھی ہے
میری اس کتاب میں انیس سو پودوں اور فصلوں کا ذکر ہے ان میں سے کچھ تحقیق میں نے یونانی کاشتکاروں کی لکھی کتب سے لی ہیں اور کچھ تجربات کرکے دریافت کی ہیں
میں بابا جی کی بیان کی گئی معلومات پر حیران ہوا اور انہیں بتایا کہ آپ کی اس علم اور تجربات کی بدولت آج اسپین فروٹ اور سبزیاں پورے یورپ میں ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن چکا ہے
بابا جی کہنے لگے کہ میری کتاب میں آخری چیپڑ جانوروں کی افزائش نسل کے متعلق ہے جن میں گھوڑے بکری کبوتر مرغی وغیرہ شامل ہیں
میں تخیلات میں کھو گیا کہ اندلس کے مسلم دور حکومت میں نامور سپہ سلاروں کے ساتھ علما و مفکرین کے علاوہ ایسے محقیقین کا بڑا اہم کردار رہا ہے جہنوں نے فلکیات سے زراعت تک نت نئی دریافتیں کرکے اندلس کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آنے والی نسلوں کےلئے علمی ذخیرہ چھوڑا جس سے اہل یورپ نے مستفید ہو کر ترقی کی منزلیں طے کیں
تخیلات سے باہر نکلا تو بابا جی کو سامنے سے غائب پایا شاید ابن العوام مجھے اندلس کے درخشاں ماضی سے روشناس کروانے کےلئے ہی چند لمحوں کے لئے حاضر ہوئے تھے اور پھر سے غائب ہو گئے
اور ہم اپنے روٹین کے کام کےلئے محو سفر ہوگئے
از قلم فیاض قرطبی

img_2688

img_2687

img_2685

img_2686

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *