ایک عجیب استاد

ایک عجیب استاد

ایک عجیب استاد
—––————-
ہم نے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم سرکاری اسکول سے لی جو گھر سے آدھا کلو میڑ دور تھا
والد صاحب نے جا کر داخل کروا دیا اس کے بعد بڑے بھائی اور محلہ کے بچوں کے ساتھ خود ہی پانچ سال آتے جاتے رہے
اسکول میں فرینچر کے نام کی تین چار کرسیاں تھیں بچے اپنے حصہ کی بوری اور ٹاٹ گھرسے لاتےتین استاد اور کل چار کمرے تھے اسکول کے سامنے کھلے کھیت تھے جو بطور کھیل کے میدان سے لے کرٹائیلٹ کی ضروریات پوری کرنے کےلئےاستعمال کیے جاتے تھے
اسکول کے ہیڈ ماسڑ ہمارے محلہ کے چوہدری اسلم صاحب مرحوم تھے جو اپنی شخصیت میں کئی خوبیوں کا مجموعہ تھے اسکول میں سخت رویہ اور ساتھ ہی طلبہ سے شفقت کا برتاو
اپنی جیب میں انہوں نے ایک عدد چاقو رکھا ہوتا تھا جس سے صبح صبح توت کے درخت سے ٹہنی کاٹ کر بچوں کی پٹائی کے لئے چھڑی تیار کی جاتی اور کھبی بھوک لگنے پر اس سے سیب کاٹے جاتے
کھبی کانے کی قلم کو اپنے چاقو سے تیار کرکے طلبا کو دیتے تاکہ تختی پر خوشخط لکھا جا سکے
کھبی بچوں کو تختی پر اپنے ہاتھ سے کچی پینسل سے اکرے ڈال کر یعنی خوش خط الفاظ لکھ کر دیتے جو پوری تختی پر تین چار ہی سماتے یعنی اتنے بڑے بڑے لکھتے اور بچے اس پر اپنے قلم کی سیاہی سے لکھائی کرتے
ماسٹر اسلم صاحب سے پڑھا ہوا کوئی بچہ ریاضی میں کمزور نہی ہو سکتا حالانکہ وہ خود اپنے زمانے کے میڑک پاس تھے اسکے بعد کوئی جدید ٹیچنک کا کورس وغیرہ بھی نہی کر رکھا تھا لیکن پڑھانے کی جو تکنیک انہوں نے استعمال کی وہ کسی ماہر نفسیات یا ماہر تعلیم دان سے کم نہ تھی
وہ بچوں کو انگلی سے ریت پر سوال لکھواتے اور اسکے بعد ہوا میں سوال لکھواتے دونوں عملوں میں بچوں کو سوال کو حل کرنے کےلئے اپنی یاداشت کو استعمال لانا پڑتا
ماسڑ اسلم صاحب کی ایک اور عادت دوسرے استادوں سے ہٹ کر تھی کہ وہ اسکول آتے راستہ میں پڑے اخباری لفافے اٹھا لاتے اور اسکی عبارت بچوں سے بلیک بورڈ پر لکھوا کر پڑھواتے اس سے بچوں کو مختلف خبروں کے زریعہ معلومات بھی ملتی اور بورڈ پر لکھنے کی پریکٹس سے خوشخطی بھی بڑھتی
پرائمری کے امتحان چونکہ بورڈ کے ہوتے تھے اور اسکے نتائج سے اسکول کی کارکردگی جانچی جاتی تھی اسلئے ماسٹر اسلم صاحب پانچویں کلاس کے بچوں کو آخری دو تین ماہ چھٹی کے بعد بھی ایک گھنٹہ مفت پڑھاتے رہتے تھے
ہمارا امتحان مفتیاں اسکول میں ہوا وہاں ماسٹر جی نے ہر لائق کے پیچھے ایک نالایق بچے کو بھٹوایا اور دوران امتحان ان کی ڈیوٹی بھی وہیں تھی وقتا فوقتا لائن میں چکر لگاتے پوچھتے سب ٹھیک ہے اس سوال کا جواب پتا ہے ؟ نہی تو اسکا جواب یہاں سے شروع ہوتا ہے
ساتھ کہتے جاتے پیچھے بھیٹے نالائق کو بھی بتاو اور دیکھاو تاکہ پاس ہو جائے
ماسڑ اسلم صاحب چونکہ ہمارے محلہ میں رہتے تھے اسلئے اسکول کے زمانہ کے بعد بھی ملاقات ہوتی رہی
وہ جب مسجد میں آتے تو اگر جماعت کھڑی ہونے والی ہوتی تو مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی منہ میں نیت بڑبڑاتے رفع یادین کرنا شروع کر دیتے
نماز میں سڑک پر ایکسیڈیٹ کی آواز سنائی دیتی تو دوران نماز ہی یا اللہ خیر کی دعا انکے منہ سے بے اختیار نکلتے کئی بار سنی جسے سن کر ہماری ہنسی نکل جاتی
از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *