خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

قرطبہ میں موسم گرما شروع ہو چکا ہے یہاں درجہ حرارت جون جولائی میں چالیس سے پینتالیس فارن ہائیٹ تک جا پہنچتا ہے
پچھلے چند دن سے گرمی کی وجہ سے طبعیت کچھ ناساز ہو رہی تھی کچھ دن تو گھریلو ٹوٹکے آزماتا رہا لیکن افاقہ محسوس نہ ہوا تو ایک دن سحری کے وقت مقامی ہسپتال کی ایمرجنسی سروس کے کونٹر پر جا پہنچا اور وہاں اپنی باری کا انتظار کرنے لگا
ہلکی سی غنودگی چھا رہی تھی ایسے میں مجھے ایک عربی چوغے میں ایک مسلم عرب بزرگ اپنی طرف آتے محسوس ہوئے جو قریب آ کر میرے پاس ہی تشریف فرما ہوگئے اور میرے چہرے پر درد کی شدت کا اندازہ لگا کر مجھے سےمتکلم ہوئے
مافی مشکل ؟
یعنی کیا مسئلہ ہے
میں عربی سن کر تھوڑا سا حیران و پریشان ہوا لیکن پھر سوچا چونکہ اسپین میں لاکھوں مراکشی عرب مسلمان لوگ باسلسلہ روزگار رہائش پزیر ہیں یہ بابا جی ان میں سے ایک ہوں گے
اسکول میں عربی پڑھی ہوئی تھی اور کچھ یہاں ان کے ساتھ کام کر کے اتنی سیکھی ہوئی تھا کہ ابتدائی گفتگو سمجھ جاتا ہوں
میں نے بابا جی کو بتایا کہ الم فی المعدہ یعنی پیٹ میں درد ہے
بابا جی نے اپنا تعارف شروع کروا دیا
انا طبیب سلیمان بن حسان ابن جلجل انا طبیب الخاص الخلیفہ ہشام کہ میرا نام سلیمان بن حسان عرف ابن جلجل ہے اور میں خلیفہ ہشام کاطبیب خاص ہوں میری پیدائش 944 میں قرطبہ میں ہوئی اور میں نے طب کی تعلیم مکمل کرنےکےبعد قرطبہ میں طب کی تعلیم دینا شروع کر دی تھی اور ساتھ طب کے زریعہ عوام کا علاج معالجہ بھی
اس دوران میں نے حکما اور اطباء کی تاریخ پر ایک مفصل کتاب بھی لکھی
طبقات الاطبا و حکما
کے نام سے جس میں یونانی ادوار سے لے کر دسویں صدی تک کے حکیموں اور طبیبوں کے حالات پر لکھا تھا طب کی دنیا کی دوسری پرانی کتاب تسلیم کی جاتی ہے یہ کتاب
اس میں اطبا کی سوانح حیات کے ساتھ ساتھ میں نے طب کے عروج و زوال کی وجوہات پر اپنے خیالات قلمبند کئے تھے
میں نے کئی امراض کی اداو بھی خود تیار کی تھیں
میرا ایک ایک شاگرد طلطلیہ میں بہت مشہور طبیب ہے جسکا نام ابن البغوش ہے
میں عالم غنودگی میں بابا جی کی بات سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد ڈاکڑ کے کمرے سے اگلے مریض کو طلب کرنے کی گھنٹی بجی تو میری غنودی ایک دم رفوع چکر ہوئی آنکھیں کھلیں تو اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو کوئی بابا نظر نہ آیا ایک تخیل ذہن میں آیا کہ پچھلے دنوں تاریخ اندلس کا جو مطالعہ کیا اس میں اندلس کے طبیبوں کا جو تزکرہ پڑھا شاید وہی میرے تحت الشعور میں محفوظ تھا جو عالم غنودگی میں میری نظروں کے سامنے بابا جی کی شکل میں گفتگو کرتا دیکھائی و سنائی دیا تھا

img_2766-1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *