لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا؟

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا؟

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مسجد مکتب یعنی مدرسہ میں پڑھنے کے بعد وہ شہر میں لیمن پانی اور برگر بند بیچتا تھا کیونکہ اسکی فیملی اتنی امیر نہی کہ اس کے اخراجات پورے کر سکے اسکول سے کالج کا سفر یوں ہی جاری رکھا ساتھ نوجوانوں کی سیاسی تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تاکہ مل جل کر اپنے جیسوں اور ملک کا مستقبل سنوارنے کی جہدوجہد میں اپنا حصہ ڈال سکے
نوئے کی دہائی میں جب شہر میں بلدیاتی انتخاب ہوئے تو اسکی پارٹی نے اسے شہر کا مئیر نامزد کر دیا
چند ماہ میں اس نے شہر میں ایسی اصطلاحات نافذ کیں جن سے شہریوں کی زندگیاں آسان ہونے لگ پڑیں اسنے شہر میں سرکاری ارزاں نرخوں والی بیکریاں قائم کیں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنا دیا
اسکی سیاسی مقبولیت عروج پر جا پہنچی جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ کی گھنٹی لگی
اسے یہ نظم
مساجد ہمارے بنکر ہیں
مینار ہمارے مورچے ہیں
مومنین ہمارے سپاہی ہیں

پڑھنے پر چار ماہ کی جیل جانا پڑا اور سیاسی پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور سیاسی پارٹی جس کے پلیٹ فارم سے مئیر بنا تھا پر پابندی عائد کر دی گئی
اس نے سمجھ لیا کہ فوجی سیکولر اسٹبلیشمنٹ سے مقابلہ کرنے کےلئے وسیع عوامی حمایت کی ضرورت ہے اور یہ کام بتدریج کرنا ہے
پھر اسنے نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کے انصاف کی ہر سطح ہر میدان میں فراہم کو اپنا منشور بنایا
اس سیاسی جماعت نے پہلے الیکشن میں بہت زیادہ کامیابی حاصل نہ کی لیکن دیگر جماعتوں سے اتحاد کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا
اور اگلے انتخابات میں اس نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرلی اور پھر ہر آنے والے دن اس کی پارٹی پہلے سے زیادہ کامیابی حاصل کرتی گئی اس نے معاشی اصطلاحات کرکے ٹرانسپورٹ کا جدید نظام متعارف کروایا معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی منصوبہ بندی کروائی اسطرح عوام کا معیار بہتر ہو گیا

اسنے اس دوران بتدریج فوجی اسٹبلیشمنٹ کے پر کاٹنے شروع کر دیا عوامی حمایت اور تائید کی مدد سے فوج کو آئین کا تابعدار بننے پر مجبور کر دیا
لیکن جس شیر کے منہ کو خون کی عادت ہو وہ بھلا سبز چارہ کب تک کھائے گا
فوجی اسٹبلیشمنٹ نے آج کے دن پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کو جب وہ چھٹیاں گزارنے ایک جزیرہ پر گیا ہوا تھا بغاوت کا اعلان کر دیا اور سڑکوں اور اہم تنصیبات پر فوجی تعینات کرنے کے احکام صادر کر دئیے
اسے جیسے خبر پہنچی اس نے اسی وقت بزریعہ ایک نجی چینل عوام سے باہر نکل حکومت کو بچانے کی اپیل کی
عوام نے جیسے ہی اپنے محبوب راہنما کا پیغام سنا تو سڑکوں پر نکل آئی فوجیوں نے عجب نظارہ دیکھا کہ ٹینکوں کے آگ نوجوان لڑکے لڑکیاں لیٹ گئے اور سرکاری تنصیبات جہاں باغی فوج نے قبضہ کرنے کی کوشش کی وہاں پہنچ کر ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے
فوجی اسٹیبلشمنٹ حیران ہو رہی تھی کہ اس سے پہلے بھی فوج نے اقتدار پر قبضے کئے لیکن کھبی ایسی عوامی مزاحمت نہ پیش آئی اس دفعہ تو عوام نے گولیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کا راستہ روکا یہ اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا تھا کہ عوام اتنی بڑھ تعداد میں باہر نکلے یوں باغی ٹولہ کو قابو کر لیاگیا
وہ شہر میں لیمو پانی بیچنے والا نوجوان سے ملک کا صدر بنا اپنی محنت صلاحیت اور اپنے بلند نظریہ حیات کی بنیاد پر
رجب طیب اردگان تجھے سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،
15/07/2016 کی ناکام بغاوت کی یاد میں لکھی گئی تحریر

از قلم فیاض قرطبی

img_2969

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *