ایک درد دل رکھنے والے استاد

ایک درد دل رکھنے والے استاد

پرائمری کا امتحان گورنمنٹ اسکول سےپاس کرنے بعد ہمارا داخلہ گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر قائم گورنمنٹ اسکینڈری اسکول دینہ میں ہوا
کلاس ششم کے تین سکیشن بنے اور ہرسیکشن میں اسی سے پچاسی طلبہ تھے پہلی بار انگریزی سے واسطہ پڑھا ششم میں انگریزی کی ابتدائی حروف شناسی اور آسان الفاظ پر مشتمل اسباق پڑھے
آج جب اپنے بچوں کی تیسری کلاس کی کتب دیکھتا ہوں تو وہ ہمارے وقت کی نویں دسویں جماعت کے ہم پلہ لگتی ہیں
ہمارےاسلامیات کے استاد زاہد شاہ صاحب تھے جہنوں نے قران پاک کے تیسویں پارے کی آخری سورتیں ہمیں ازبر کروایں جو آج تک ہمارے ذہن نشین ہیں
ششم سے ہشتم تک ہم نے اضافی مضامین زراعت و ڈرائینگ اور برقیات میں سے برقیات کومنتخب کیا
جس کےاستاد اخلاق صاحب تھے جو ہمیشہ نئی کلاس سے مکمل تعارف حاصل کرتے کہ باپ کیا کام کرتا ہے اور بھائی کیا کام کرتا ہے پڑھائی اور تجربات کروانے میں وہ اکثر کم ہی توجہ دیا کرتے
اپنے گھر یا محلہ میں ختم قران کروانا ہوتا تواس گلی اور محلہ کے طلبا کو اسکول سے چھٹی کروا کر وہاں جانے کا کہہ دیتے
ہمارے نویں پہنچنے پر ایک نئے پرنسیپل رفیق صاحب آئے جو کافی عمر رسیدہ تھے جہنوں نے صبح کی اسمبلی میں تقریر کرنے کی روایت شروع کی وہ اکثر تخلیق پاکستان کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے اور جزبہ حب الوطنی طلبا میں پیدا کرنے کےلئے پرسوز تقریر کرتے
رفیق صاحب طلبا سے بہت ہمدردی کا جزبہ رکھتے تھے اکثر دن کو مختلف کلاسوں کا دورہ کرتے کہیں کوئی استاد غیر حاضر ہوتا یا کسی کا پریڈ خالی ہوتا تو خود تختہ سیاہ پر ریاضی کے سوال دلچسپ انداز میں حل کر کے سمجھانے لگ پڑتے
ان دنوں ظہر کی نماز کا وقت اسکول کی ٹائمنگ کے درمیان آتا تھا انہوں نے ٹیچرز اور طلبا سے فنڈ اکھٹا کرکے اسکول کے کچھ فاصلہ پر مسجد کی تعمیر کروائی جس میں طلبا کو نماز ظہر باجماعت پڑھنے کی ترغیب دیتے

img_3149

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *