نظام ریاست کی تبدیلی کا درست طریقہ اور سید مودودی

نظام ریاست کی تبدیلی کا درست طریقہ اور سید مودودی

پاکستان میں نظام حکومت بدلنے کا درستہ طریقہ کار اور سید ابوعلی مودودی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ محمد سعید کی تنظیم جماعت الدعوہ نے پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر حصہ لینے کےلئے ملی مسلم لیگ کے نام سے پلیٹ فارم تشکیل دے دیا
انیس و چھیاسی سے حافظ صاحب اور انکے رفقا پاکستان کے اندر تعلیمی اداروں اور دعوت اور فلاح اور جہاد کے میدانوں میں کام کررہے تھے اور اس وقت سے اب تک ان کا یہ موقف تھا کہ الیکشن کا راستہ درست راستہ نہی اسکے زریعہ اسلامی معاشرہ و نظام ریاست اسلامی نہی بنایا جاسکتا
تیس بتیس سال کے تجربات کے بعد وہ اس نقطہ پر پہنچے ہیں جو آج سے ساٹھ سال قبل مولانا سید ابواعلی بیان فرما گئے تھے جس کی تفصیل درج ذیل ہے

جماعت اسلامی نے تشکیل پاکستان کے فورا بعد قرار داد مقاصد پاس کروانے کےلئے باقاعدہ مہم چلائی جس کے نتیجہ میں اس کے امیر سید مودودیو دیگر قیادت کو قید کر دیا گیا
لیکن جماعت اسلامی نے مملکت کو آئینی و قانونی طور مسلم ریاست بنانے کی یہ جہدو جہد جاری رکھی
اور بارہ مارچ انیس انچاس 12.03.1949 کو آئین ساز اسمبلی نے متفقہ قرارداد پاس کر لی جس کے مطابق مملکت پاکستان کا آئیندہ نظام مغربی جمہوریت کی بجائی اسلامی جمہوریت کی بنیاد پر ہوگا اس قرار داد میں یہ تسلیم کیا گیا کہ حاکمیت کا اختیار رب کی پاس ہیں اور بطور خلیفہ ہم ان اختیارات کو بزریعہ منتخب جمہوری پارلیمنٹ کے زریعہ استعمال کرکے مسلمانان پاکستان کو اسلامی معاشرہ قائم کرنے کےلئے ماحول فراہم کریں گے
اس قرارداد کے پاس ہونے پر سید مودودی نے ایک تاریخی جملہ کہا, آج ریاست پاکستان نے آئینی طور پر کلمہ پڑھ لیا ہے اب یہاں ہماری آئیندہ جہدوجہد اس اس ریاست کے آئین کے تابع ہوگی
اسی بنیاد پر جماعت اسلامی نے باقاعدہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے کئی ارکان نے اس فیصلہ سے اختلاف کا اظہار کیا جن میں ارشاد احمد حقانی اور ڈاکڑ اسرار احمد جیسی شخصیات شامل تھیں
سید مودودی نے بمقام ماچھی گوٹھ جماعت اسلامی کے ارکان کا اجتماع بلا کر اپنا موقف تفصیل سے بیان کیا جسے ارکان کی اکثریت نے قبول کیا جس کے بعد جماعت اسلامی نے اس کو اپنی مستقل پالیسی کے طور پر اپنا لیا اس اجتماع میں کی جانے والی مولانا سید ابوعلی مودودی رح کے تقریر ؛تحریک اسلامی کا آئیندہ لائحہ عمل؛ کے نام شائع کی گئی ہے
جماعت اسلامی کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست پاکستان کے نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں نے پر امن آئینی زرائع کو اختیار کیا اسی پالیسی کے نتیجہ میں انتہا پسندانہ خیالات کاتدراک ہوا جو نظام حکومت کو بزریعہ طاقت یا کسی خفیہ تحریک چلانے کو درست راستہ سمجھتے تھے
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں کئی گروہ خفیہ تحریک یا مسلح جہدوجہد کے زریعہ اپنے ممالک میں نظام ریاست کو تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں اسلامی سوچ رکھنے والوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ریاست پاکستان نے چونکہ آئینی طور پر کلمہ پڑھا رکھا ہے اس کے آئین کے دیباچہ میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اسلئے یہاں جو جہدوجہد بھی کرنی ہے وہ اس آئین کے تابع ہی کرنی چائیے جب کھبی بھی کوئی گروہ اس فکر سے روح گردانی کرتے ہوئے ریاست کیخلاف مسلح یا خفیہ جہدوجہد کرنے کی کوشش کرتا ہے پاکستان کی تمام دینی تنظیمیں اور علما ان کی اس کوشش کو رد کرتے ہیں
از قلم فیاض قرطبی

img_3181

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *