قربانی کا ملکی معیشت میں کردار

قربانی کا ملکی معیشت میں کردار

قربانی کا معیشت کی ترقی میں کردار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قربانی ایک طرف سنت ابراہیمی کے فریضہ کی تکمیل ہے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ ملکی معیشت کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے
لاکھوں مویشیوں کی خرید و فروخت سے اربوں روپے امیر طبقہ کی جیبوں سے نکل کر کسانوں اور فروخت کروانے والے افراد کے پاس پہنچتے ہیں
عید کے ایام میں ان مویشوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور خریدراوں کے گھروں تک پہنچانے کےلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کے دوران ٹرانسپورٹ والوں کے روزگار کا اہتمام ہوتا ہے
قربانی کے جانور ذبح کرنے کےلئے عید کے ایام میں لاکھوں لوگ بطور قصائی اپنا روزگار کماتے ہیں
اور قربانی کی کھالوں کو محفوظ کرکے اس سے چمڑے کی صنعت مستفید ہوتی ہے
جس سے کئی صنعتیں چلتی ہیں اور ان صنعتوں میں کئی ہزار افراد روزگار حاصل کرتے ہیں
قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل سے کئی لاکھ غریب خاندان گوشت حاصل کر پاتے ہیں جو عام دنوں میں ان کےلئے ناممکن ہوتا ہے
رب کے ہر حکم کے پیچھے حکمت کارفاما ہوتی ہے اس عمل کے زریعہ لاکھوں غریب افراد کی معاشی حالت بہتر بن جانا تو صرف ایک پہلو ہے اس عمل سے سرمایا امیر کی تجوری میں بند ہونے کی بجائے غریب اور متوسط طبقہ کی جیب میں پہنچتا ہے اور اسطرح اسی سرگرمی سے ملک کی مجموعی معیشت میں بھی بہتری آتی ہے

از قلم فیاض قرطبی

img_3627

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *