مذاق مہنگا پڑ گیا (اسپینش زبان سے ماخوذ

مذاق مہنگا پڑ گیا (اسپینش زبان سے ماخوذ

مذاق مہنگا پڑ گیا  (اسپینش زبان سے ماخوذ)

۔۔۔۔۔۔

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک گاوں میں ایک بڑھئی کام کرتا تھا اسے اپنے بادشاہ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا جس کا محل گاوں سے سینکڑوں میل دور شہر میں تھا اس نے کچھ عرصہ محنت کرکے کچھ پیسہ جمع کئے اور سفر پر چل نکلا 

اسکے ذہن میں بادشاہ کے قصے سن سن کر بادشاہ کے متعلق عجیب تخیلات ترتیب پا چکے تھے لیکن جب وہ شہر پہنچا اور بادشاہ کو اپنے جیسا انسان پایا تو بہت مایوس ہوا 

دوران سفر اس کی ساری جمع پونجی تقریبا ختم ہو چکی تھی بامشکل اتنی رقم بچی تھی جس سے وہ واپس پہنچ سکے

اسے بھوک لگ رہی تھی مگر وہ پیسے بچانے کےلئے برداشت کر رہا تھا اتنے میں اسکی داڑھ درد کرنے لگ پڑی 

وہ پریشان تھا کہ اب کیا کرے اگر پیسے دے کر داڑھ نکلوائے تو سفر کےلئے زاد راہ باقی نہی بچتا تھا اور اگر کھانے کےلئے کچھ خریدے تو درد کرتی داڑھ اسے کھانے نہ دی گی

اسی شش و پنج میں چلتا وہ ایک بیکری کے سامنے جا پہنچا جہاں رنگ برنگی میٹھائیاں سجی ہوئی تھیں جن کو دیکھ کر اسکے منہ میں پانی آ رہا تھا 

اسے بیکری کے سامنے حیران و پریشان میٹھائی کو گھورتے دیکھ کر پاس سے گزرے دو افراد نے اس پر آواز کسی کہ لگتا ہے میٹھائی کے بہت شوقین ہو 

اس نے جواب دیا ہاں میرا بس چلے تو پانج کلو ایک ساتھ کھا جاوں  یہ سن کر وہ اس پر ہنسنے لگے اور اسکا مذاق اڑانے لگے

دیہاتی نے ان دونوں سے کہا کہ تمہیں یقین نہی تو لگاو شرط میں ایک ساتھ دس کلو کھا جاوں گا 

انہوں نے کہا کہ اگر تم نہ کھا سکے تو ؟

دیہاتی نے کہا کہ میں ہار جاوں تو تم میری پہلی داڑھ نکال دینا

دونوں نے شرط مان لی اور دیہاتی کے سامنے دس کلو میٹھائی رکھ دی 

دیہاتی نے بامشکل  چار  چھ دانے کھائے اور کہنے لگا یہ کھانی تو مشکل ہے میں شرط ہار گیا تم میری داڑھ نکال دو

وہ دونوں دیہاتی کا مذاق اڑانے لگ پڑے اور پھر پکڑکر اسکی داڑھ نکال دی

جیسے ہی دیہاتی کی داڑھ نکلی اسکے بعد وہ ہنسنے لگا پڑا اور ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا

دونوں افرا دیہاتی کی اس حرکت سے حیران ہورہے تھے کہ کیسا بیوقوف انسان ہے ہار کر بھی ہنسے جا رہا ہے 

اتنے میں دیہاتی گویا ہوا اور بولا

کہ ہارا میں نہی ہارے تم ہو کیونکہ میں صبح سے بھوکا تھا اور میرے پاس اتنے پیسے بھی نہی تھے اور میری داڑھ بھی درد کر رہی تھی  آپ دونوں اصحاب نے میرے تمام مسئلے حل کر دئیے

یہ سن کر دو اصحاب بڑے شرمندہ ہوئے اور بیکری کا بل ادا کر تیزی سے وہاں سے بھاگ نکلے 

از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *