Browsed by
Author: fayaz

مذاق مہنگا پڑ گیا (اسپینش زبان سے ماخوذ

مذاق مہنگا پڑ گیا (اسپینش زبان سے ماخوذ

مذاق مہنگا پڑ گیا  (اسپینش زبان سے ماخوذ)

۔۔۔۔۔۔

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک گاوں میں ایک بڑھئی کام کرتا تھا اسے اپنے بادشاہ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا جس کا محل گاوں سے سینکڑوں میل دور شہر میں تھا اس نے کچھ عرصہ محنت کرکے کچھ پیسہ جمع کئے اور سفر پر چل نکلا 

اسکے ذہن میں بادشاہ کے قصے سن سن کر بادشاہ کے متعلق عجیب تخیلات ترتیب پا چکے تھے لیکن جب وہ شہر پہنچا اور بادشاہ کو اپنے جیسا انسان پایا تو بہت مایوس ہوا 

دوران سفر اس کی ساری جمع پونجی تقریبا ختم ہو چکی تھی بامشکل اتنی رقم بچی تھی جس سے وہ واپس پہنچ سکے

اسے بھوک لگ رہی تھی مگر وہ پیسے بچانے کےلئے برداشت کر رہا تھا اتنے میں اسکی داڑھ درد کرنے لگ پڑی 

وہ پریشان تھا کہ اب کیا کرے اگر پیسے دے کر داڑھ نکلوائے تو سفر کےلئے زاد راہ باقی نہی بچتا تھا اور اگر کھانے کےلئے کچھ خریدے تو درد کرتی داڑھ اسے کھانے نہ دی گی

اسی شش و پنج میں چلتا وہ ایک بیکری کے سامنے جا پہنچا جہاں رنگ برنگی میٹھائیاں سجی ہوئی تھیں جن کو دیکھ کر اسکے منہ میں پانی آ رہا تھا 

اسے بیکری کے سامنے حیران و پریشان میٹھائی کو گھورتے دیکھ کر پاس سے گزرے دو افراد نے اس پر آواز کسی کہ لگتا ہے میٹھائی کے بہت شوقین ہو 

اس نے جواب دیا ہاں میرا بس چلے تو پانج کلو ایک ساتھ کھا جاوں  یہ سن کر وہ اس پر ہنسنے لگے اور اسکا مذاق اڑانے لگے

دیہاتی نے ان دونوں سے کہا کہ تمہیں یقین نہی تو لگاو شرط میں ایک ساتھ دس کلو کھا جاوں گا 

انہوں نے کہا کہ اگر تم نہ کھا سکے تو ؟

دیہاتی نے کہا کہ میں ہار جاوں تو تم میری پہلی داڑھ نکال دینا

دونوں نے شرط مان لی اور دیہاتی کے سامنے دس کلو میٹھائی رکھ دی 

دیہاتی نے بامشکل  چار  چھ دانے کھائے اور کہنے لگا یہ کھانی تو مشکل ہے میں شرط ہار گیا تم میری داڑھ نکال دو

وہ دونوں دیہاتی کا مذاق اڑانے لگ پڑے اور پھر پکڑکر اسکی داڑھ نکال دی

جیسے ہی دیہاتی کی داڑھ نکلی اسکے بعد وہ ہنسنے لگا پڑا اور ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا

دونوں افرا دیہاتی کی اس حرکت سے حیران ہورہے تھے کہ کیسا بیوقوف انسان ہے ہار کر بھی ہنسے جا رہا ہے 

اتنے میں دیہاتی گویا ہوا اور بولا

کہ ہارا میں نہی ہارے تم ہو کیونکہ میں صبح سے بھوکا تھا اور میرے پاس اتنے پیسے بھی نہی تھے اور میری داڑھ بھی درد کر رہی تھی  آپ دونوں اصحاب نے میرے تمام مسئلے حل کر دئیے

یہ سن کر دو اصحاب بڑے شرمندہ ہوئے اور بیکری کا بل ادا کر تیزی سے وہاں سے بھاگ نکلے 

از قلم فیاض قرطبی

قربانی کا ملکی معیشت میں کردار

قربانی کا ملکی معیشت میں کردار

قربانی کا معیشت کی ترقی میں کردار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قربانی ایک طرف سنت ابراہیمی کے فریضہ کی تکمیل ہے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ ملکی معیشت کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے
لاکھوں مویشیوں کی خرید و فروخت سے اربوں روپے امیر طبقہ کی جیبوں سے نکل کر کسانوں اور فروخت کروانے والے افراد کے پاس پہنچتے ہیں
عید کے ایام میں ان مویشوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور خریدراوں کے گھروں تک پہنچانے کےلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کے دوران ٹرانسپورٹ والوں کے روزگار کا اہتمام ہوتا ہے
قربانی کے جانور ذبح کرنے کےلئے عید کے ایام میں لاکھوں لوگ بطور قصائی اپنا روزگار کماتے ہیں
اور قربانی کی کھالوں کو محفوظ کرکے اس سے چمڑے کی صنعت مستفید ہوتی ہے
جس سے کئی صنعتیں چلتی ہیں اور ان صنعتوں میں کئی ہزار افراد روزگار حاصل کرتے ہیں
قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل سے کئی لاکھ غریب خاندان گوشت حاصل کر پاتے ہیں جو عام دنوں میں ان کےلئے ناممکن ہوتا ہے
رب کے ہر حکم کے پیچھے حکمت کارفاما ہوتی ہے اس عمل کے زریعہ لاکھوں غریب افراد کی معاشی حالت بہتر بن جانا تو صرف ایک پہلو ہے اس عمل سے سرمایا امیر کی تجوری میں بند ہونے کی بجائے غریب اور متوسط طبقہ کی جیب میں پہنچتا ہے اور اسطرح اسی سرگرمی سے ملک کی مجموعی معیشت میں بھی بہتری آتی ہے

از قلم فیاض قرطبی

img_3627

نظام ریاست کی تبدیلی کا درست طریقہ اور سید مودودی

نظام ریاست کی تبدیلی کا درست طریقہ اور سید مودودی

پاکستان میں نظام حکومت بدلنے کا درستہ طریقہ کار اور سید ابوعلی مودودی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ محمد سعید کی تنظیم جماعت الدعوہ نے پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر حصہ لینے کےلئے ملی مسلم لیگ کے نام سے پلیٹ فارم تشکیل دے دیا
انیس و چھیاسی سے حافظ صاحب اور انکے رفقا پاکستان کے اندر تعلیمی اداروں اور دعوت اور فلاح اور جہاد کے میدانوں میں کام کررہے تھے اور اس وقت سے اب تک ان کا یہ موقف تھا کہ الیکشن کا راستہ درست راستہ نہی اسکے زریعہ اسلامی معاشرہ و نظام ریاست اسلامی نہی بنایا جاسکتا
تیس بتیس سال کے تجربات کے بعد وہ اس نقطہ پر پہنچے ہیں جو آج سے ساٹھ سال قبل مولانا سید ابواعلی بیان فرما گئے تھے جس کی تفصیل درج ذیل ہے

جماعت اسلامی نے تشکیل پاکستان کے فورا بعد قرار داد مقاصد پاس کروانے کےلئے باقاعدہ مہم چلائی جس کے نتیجہ میں اس کے امیر سید مودودیو دیگر قیادت کو قید کر دیا گیا
لیکن جماعت اسلامی نے مملکت کو آئینی و قانونی طور مسلم ریاست بنانے کی یہ جہدو جہد جاری رکھی
اور بارہ مارچ انیس انچاس 12.03.1949 کو آئین ساز اسمبلی نے متفقہ قرارداد پاس کر لی جس کے مطابق مملکت پاکستان کا آئیندہ نظام مغربی جمہوریت کی بجائی اسلامی جمہوریت کی بنیاد پر ہوگا اس قرار داد میں یہ تسلیم کیا گیا کہ حاکمیت کا اختیار رب کی پاس ہیں اور بطور خلیفہ ہم ان اختیارات کو بزریعہ منتخب جمہوری پارلیمنٹ کے زریعہ استعمال کرکے مسلمانان پاکستان کو اسلامی معاشرہ قائم کرنے کےلئے ماحول فراہم کریں گے
اس قرارداد کے پاس ہونے پر سید مودودی نے ایک تاریخی جملہ کہا, آج ریاست پاکستان نے آئینی طور پر کلمہ پڑھ لیا ہے اب یہاں ہماری آئیندہ جہدوجہد اس اس ریاست کے آئین کے تابع ہوگی
اسی بنیاد پر جماعت اسلامی نے باقاعدہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے کئی ارکان نے اس فیصلہ سے اختلاف کا اظہار کیا جن میں ارشاد احمد حقانی اور ڈاکڑ اسرار احمد جیسی شخصیات شامل تھیں
سید مودودی نے بمقام ماچھی گوٹھ جماعت اسلامی کے ارکان کا اجتماع بلا کر اپنا موقف تفصیل سے بیان کیا جسے ارکان کی اکثریت نے قبول کیا جس کے بعد جماعت اسلامی نے اس کو اپنی مستقل پالیسی کے طور پر اپنا لیا اس اجتماع میں کی جانے والی مولانا سید ابوعلی مودودی رح کے تقریر ؛تحریک اسلامی کا آئیندہ لائحہ عمل؛ کے نام شائع کی گئی ہے
جماعت اسلامی کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست پاکستان کے نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں نے پر امن آئینی زرائع کو اختیار کیا اسی پالیسی کے نتیجہ میں انتہا پسندانہ خیالات کاتدراک ہوا جو نظام حکومت کو بزریعہ طاقت یا کسی خفیہ تحریک چلانے کو درست راستہ سمجھتے تھے
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں کئی گروہ خفیہ تحریک یا مسلح جہدوجہد کے زریعہ اپنے ممالک میں نظام ریاست کو تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں اسلامی سوچ رکھنے والوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ریاست پاکستان نے چونکہ آئینی طور پر کلمہ پڑھا رکھا ہے اس کے آئین کے دیباچہ میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اسلئے یہاں جو جہدوجہد بھی کرنی ہے وہ اس آئین کے تابع ہی کرنی چائیے جب کھبی بھی کوئی گروہ اس فکر سے روح گردانی کرتے ہوئے ریاست کیخلاف مسلح یا خفیہ جہدوجہد کرنے کی کوشش کرتا ہے پاکستان کی تمام دینی تنظیمیں اور علما ان کی اس کوشش کو رد کرتے ہیں
از قلم فیاض قرطبی

img_3181

ایک درد دل رکھنے والے استاد

ایک درد دل رکھنے والے استاد

پرائمری کا امتحان گورنمنٹ اسکول سےپاس کرنے بعد ہمارا داخلہ گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر قائم گورنمنٹ اسکینڈری اسکول دینہ میں ہوا
کلاس ششم کے تین سکیشن بنے اور ہرسیکشن میں اسی سے پچاسی طلبہ تھے پہلی بار انگریزی سے واسطہ پڑھا ششم میں انگریزی کی ابتدائی حروف شناسی اور آسان الفاظ پر مشتمل اسباق پڑھے
آج جب اپنے بچوں کی تیسری کلاس کی کتب دیکھتا ہوں تو وہ ہمارے وقت کی نویں دسویں جماعت کے ہم پلہ لگتی ہیں
ہمارےاسلامیات کے استاد زاہد شاہ صاحب تھے جہنوں نے قران پاک کے تیسویں پارے کی آخری سورتیں ہمیں ازبر کروایں جو آج تک ہمارے ذہن نشین ہیں
ششم سے ہشتم تک ہم نے اضافی مضامین زراعت و ڈرائینگ اور برقیات میں سے برقیات کومنتخب کیا
جس کےاستاد اخلاق صاحب تھے جو ہمیشہ نئی کلاس سے مکمل تعارف حاصل کرتے کہ باپ کیا کام کرتا ہے اور بھائی کیا کام کرتا ہے پڑھائی اور تجربات کروانے میں وہ اکثر کم ہی توجہ دیا کرتے
اپنے گھر یا محلہ میں ختم قران کروانا ہوتا تواس گلی اور محلہ کے طلبا کو اسکول سے چھٹی کروا کر وہاں جانے کا کہہ دیتے
ہمارے نویں پہنچنے پر ایک نئے پرنسیپل رفیق صاحب آئے جو کافی عمر رسیدہ تھے جہنوں نے صبح کی اسمبلی میں تقریر کرنے کی روایت شروع کی وہ اکثر تخلیق پاکستان کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے اور جزبہ حب الوطنی طلبا میں پیدا کرنے کےلئے پرسوز تقریر کرتے
رفیق صاحب طلبا سے بہت ہمدردی کا جزبہ رکھتے تھے اکثر دن کو مختلف کلاسوں کا دورہ کرتے کہیں کوئی استاد غیر حاضر ہوتا یا کسی کا پریڈ خالی ہوتا تو خود تختہ سیاہ پر ریاضی کے سوال دلچسپ انداز میں حل کر کے سمجھانے لگ پڑتے
ان دنوں ظہر کی نماز کا وقت اسکول کی ٹائمنگ کے درمیان آتا تھا انہوں نے ٹیچرز اور طلبا سے فنڈ اکھٹا کرکے اسکول کے کچھ فاصلہ پر مسجد کی تعمیر کروائی جس میں طلبا کو نماز ظہر باجماعت پڑھنے کی ترغیب دیتے

img_3149

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا؟

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا؟

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مسجد مکتب یعنی مدرسہ میں پڑھنے کے بعد وہ شہر میں لیمن پانی اور برگر بند بیچتا تھا کیونکہ اسکی فیملی اتنی امیر نہی کہ اس کے اخراجات پورے کر سکے اسکول سے کالج کا سفر یوں ہی جاری رکھا ساتھ نوجوانوں کی سیاسی تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تاکہ مل جل کر اپنے جیسوں اور ملک کا مستقبل سنوارنے کی جہدوجہد میں اپنا حصہ ڈال سکے
نوئے کی دہائی میں جب شہر میں بلدیاتی انتخاب ہوئے تو اسکی پارٹی نے اسے شہر کا مئیر نامزد کر دیا
چند ماہ میں اس نے شہر میں ایسی اصطلاحات نافذ کیں جن سے شہریوں کی زندگیاں آسان ہونے لگ پڑیں اسنے شہر میں سرکاری ارزاں نرخوں والی بیکریاں قائم کیں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنا دیا
اسکی سیاسی مقبولیت عروج پر جا پہنچی جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ کی گھنٹی لگی
اسے یہ نظم
مساجد ہمارے بنکر ہیں
مینار ہمارے مورچے ہیں
مومنین ہمارے سپاہی ہیں

پڑھنے پر چار ماہ کی جیل جانا پڑا اور سیاسی پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور سیاسی پارٹی جس کے پلیٹ فارم سے مئیر بنا تھا پر پابندی عائد کر دی گئی
اس نے سمجھ لیا کہ فوجی سیکولر اسٹبلیشمنٹ سے مقابلہ کرنے کےلئے وسیع عوامی حمایت کی ضرورت ہے اور یہ کام بتدریج کرنا ہے
پھر اسنے نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کے انصاف کی ہر سطح ہر میدان میں فراہم کو اپنا منشور بنایا
اس سیاسی جماعت نے پہلے الیکشن میں بہت زیادہ کامیابی حاصل نہ کی لیکن دیگر جماعتوں سے اتحاد کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا
اور اگلے انتخابات میں اس نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرلی اور پھر ہر آنے والے دن اس کی پارٹی پہلے سے زیادہ کامیابی حاصل کرتی گئی اس نے معاشی اصطلاحات کرکے ٹرانسپورٹ کا جدید نظام متعارف کروایا معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی منصوبہ بندی کروائی اسطرح عوام کا معیار بہتر ہو گیا

اسنے اس دوران بتدریج فوجی اسٹبلیشمنٹ کے پر کاٹنے شروع کر دیا عوامی حمایت اور تائید کی مدد سے فوج کو آئین کا تابعدار بننے پر مجبور کر دیا
لیکن جس شیر کے منہ کو خون کی عادت ہو وہ بھلا سبز چارہ کب تک کھائے گا
فوجی اسٹبلیشمنٹ نے آج کے دن پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کو جب وہ چھٹیاں گزارنے ایک جزیرہ پر گیا ہوا تھا بغاوت کا اعلان کر دیا اور سڑکوں اور اہم تنصیبات پر فوجی تعینات کرنے کے احکام صادر کر دئیے
اسے جیسے خبر پہنچی اس نے اسی وقت بزریعہ ایک نجی چینل عوام سے باہر نکل حکومت کو بچانے کی اپیل کی
عوام نے جیسے ہی اپنے محبوب راہنما کا پیغام سنا تو سڑکوں پر نکل آئی فوجیوں نے عجب نظارہ دیکھا کہ ٹینکوں کے آگ نوجوان لڑکے لڑکیاں لیٹ گئے اور سرکاری تنصیبات جہاں باغی فوج نے قبضہ کرنے کی کوشش کی وہاں پہنچ کر ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے
فوجی اسٹیبلشمنٹ حیران ہو رہی تھی کہ اس سے پہلے بھی فوج نے اقتدار پر قبضے کئے لیکن کھبی ایسی عوامی مزاحمت نہ پیش آئی اس دفعہ تو عوام نے گولیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کا راستہ روکا یہ اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا تھا کہ عوام اتنی بڑھ تعداد میں باہر نکلے یوں باغی ٹولہ کو قابو کر لیاگیا
وہ شہر میں لیمو پانی بیچنے والا نوجوان سے ملک کا صدر بنا اپنی محنت صلاحیت اور اپنے بلند نظریہ حیات کی بنیاد پر
رجب طیب اردگان تجھے سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،
15/07/2016 کی ناکام بغاوت کی یاد میں لکھی گئی تحریر

از قلم فیاض قرطبی

img_2969

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

قرطبہ میں موسم گرما شروع ہو چکا ہے یہاں درجہ حرارت جون جولائی میں چالیس سے پینتالیس فارن ہائیٹ تک جا پہنچتا ہے
پچھلے چند دن سے گرمی کی وجہ سے طبعیت کچھ ناساز ہو رہی تھی کچھ دن تو گھریلو ٹوٹکے آزماتا رہا لیکن افاقہ محسوس نہ ہوا تو ایک دن سحری کے وقت مقامی ہسپتال کی ایمرجنسی سروس کے کونٹر پر جا پہنچا اور وہاں اپنی باری کا انتظار کرنے لگا
ہلکی سی غنودگی چھا رہی تھی ایسے میں مجھے ایک عربی چوغے میں ایک مسلم عرب بزرگ اپنی طرف آتے محسوس ہوئے جو قریب آ کر میرے پاس ہی تشریف فرما ہوگئے اور میرے چہرے پر درد کی شدت کا اندازہ لگا کر مجھے سےمتکلم ہوئے
مافی مشکل ؟
یعنی کیا مسئلہ ہے
میں عربی سن کر تھوڑا سا حیران و پریشان ہوا لیکن پھر سوچا چونکہ اسپین میں لاکھوں مراکشی عرب مسلمان لوگ باسلسلہ روزگار رہائش پزیر ہیں یہ بابا جی ان میں سے ایک ہوں گے
اسکول میں عربی پڑھی ہوئی تھی اور کچھ یہاں ان کے ساتھ کام کر کے اتنی سیکھی ہوئی تھا کہ ابتدائی گفتگو سمجھ جاتا ہوں
میں نے بابا جی کو بتایا کہ الم فی المعدہ یعنی پیٹ میں درد ہے
بابا جی نے اپنا تعارف شروع کروا دیا
انا طبیب سلیمان بن حسان ابن جلجل انا طبیب الخاص الخلیفہ ہشام کہ میرا نام سلیمان بن حسان عرف ابن جلجل ہے اور میں خلیفہ ہشام کاطبیب خاص ہوں میری پیدائش 944 میں قرطبہ میں ہوئی اور میں نے طب کی تعلیم مکمل کرنےکےبعد قرطبہ میں طب کی تعلیم دینا شروع کر دی تھی اور ساتھ طب کے زریعہ عوام کا علاج معالجہ بھی
اس دوران میں نے حکما اور اطباء کی تاریخ پر ایک مفصل کتاب بھی لکھی
طبقات الاطبا و حکما
کے نام سے جس میں یونانی ادوار سے لے کر دسویں صدی تک کے حکیموں اور طبیبوں کے حالات پر لکھا تھا طب کی دنیا کی دوسری پرانی کتاب تسلیم کی جاتی ہے یہ کتاب
اس میں اطبا کی سوانح حیات کے ساتھ ساتھ میں نے طب کے عروج و زوال کی وجوہات پر اپنے خیالات قلمبند کئے تھے
میں نے کئی امراض کی اداو بھی خود تیار کی تھیں
میرا ایک ایک شاگرد طلطلیہ میں بہت مشہور طبیب ہے جسکا نام ابن البغوش ہے
میں عالم غنودگی میں بابا جی کی بات سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد ڈاکڑ کے کمرے سے اگلے مریض کو طلب کرنے کی گھنٹی بجی تو میری غنودی ایک دم رفوع چکر ہوئی آنکھیں کھلیں تو اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو کوئی بابا نظر نہ آیا ایک تخیل ذہن میں آیا کہ پچھلے دنوں تاریخ اندلس کا جو مطالعہ کیا اس میں اندلس کے طبیبوں کا جو تزکرہ پڑھا شاید وہی میرے تحت الشعور میں محفوظ تھا جو عالم غنودگی میں میری نظروں کے سامنے بابا جی کی شکل میں گفتگو کرتا دیکھائی و سنائی دیا تھا

img_2766-1

ایک عجیب استاد

ایک عجیب استاد

ایک عجیب استاد
—––————-
ہم نے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم سرکاری اسکول سے لی جو گھر سے آدھا کلو میڑ دور تھا
والد صاحب نے جا کر داخل کروا دیا اس کے بعد بڑے بھائی اور محلہ کے بچوں کے ساتھ خود ہی پانچ سال آتے جاتے رہے
اسکول میں فرینچر کے نام کی تین چار کرسیاں تھیں بچے اپنے حصہ کی بوری اور ٹاٹ گھرسے لاتےتین استاد اور کل چار کمرے تھے اسکول کے سامنے کھلے کھیت تھے جو بطور کھیل کے میدان سے لے کرٹائیلٹ کی ضروریات پوری کرنے کےلئےاستعمال کیے جاتے تھے
اسکول کے ہیڈ ماسڑ ہمارے محلہ کے چوہدری اسلم صاحب مرحوم تھے جو اپنی شخصیت میں کئی خوبیوں کا مجموعہ تھے اسکول میں سخت رویہ اور ساتھ ہی طلبہ سے شفقت کا برتاو
اپنی جیب میں انہوں نے ایک عدد چاقو رکھا ہوتا تھا جس سے صبح صبح توت کے درخت سے ٹہنی کاٹ کر بچوں کی پٹائی کے لئے چھڑی تیار کی جاتی اور کھبی بھوک لگنے پر اس سے سیب کاٹے جاتے
کھبی کانے کی قلم کو اپنے چاقو سے تیار کرکے طلبا کو دیتے تاکہ تختی پر خوشخط لکھا جا سکے
کھبی بچوں کو تختی پر اپنے ہاتھ سے کچی پینسل سے اکرے ڈال کر یعنی خوش خط الفاظ لکھ کر دیتے جو پوری تختی پر تین چار ہی سماتے یعنی اتنے بڑے بڑے لکھتے اور بچے اس پر اپنے قلم کی سیاہی سے لکھائی کرتے
ماسٹر اسلم صاحب سے پڑھا ہوا کوئی بچہ ریاضی میں کمزور نہی ہو سکتا حالانکہ وہ خود اپنے زمانے کے میڑک پاس تھے اسکے بعد کوئی جدید ٹیچنک کا کورس وغیرہ بھی نہی کر رکھا تھا لیکن پڑھانے کی جو تکنیک انہوں نے استعمال کی وہ کسی ماہر نفسیات یا ماہر تعلیم دان سے کم نہ تھی
وہ بچوں کو انگلی سے ریت پر سوال لکھواتے اور اسکے بعد ہوا میں سوال لکھواتے دونوں عملوں میں بچوں کو سوال کو حل کرنے کےلئے اپنی یاداشت کو استعمال لانا پڑتا
ماسڑ اسلم صاحب کی ایک اور عادت دوسرے استادوں سے ہٹ کر تھی کہ وہ اسکول آتے راستہ میں پڑے اخباری لفافے اٹھا لاتے اور اسکی عبارت بچوں سے بلیک بورڈ پر لکھوا کر پڑھواتے اس سے بچوں کو مختلف خبروں کے زریعہ معلومات بھی ملتی اور بورڈ پر لکھنے کی پریکٹس سے خوشخطی بھی بڑھتی
پرائمری کے امتحان چونکہ بورڈ کے ہوتے تھے اور اسکے نتائج سے اسکول کی کارکردگی جانچی جاتی تھی اسلئے ماسٹر اسلم صاحب پانچویں کلاس کے بچوں کو آخری دو تین ماہ چھٹی کے بعد بھی ایک گھنٹہ مفت پڑھاتے رہتے تھے
ہمارا امتحان مفتیاں اسکول میں ہوا وہاں ماسٹر جی نے ہر لائق کے پیچھے ایک نالایق بچے کو بھٹوایا اور دوران امتحان ان کی ڈیوٹی بھی وہیں تھی وقتا فوقتا لائن میں چکر لگاتے پوچھتے سب ٹھیک ہے اس سوال کا جواب پتا ہے ؟ نہی تو اسکا جواب یہاں سے شروع ہوتا ہے
ساتھ کہتے جاتے پیچھے بھیٹے نالائق کو بھی بتاو اور دیکھاو تاکہ پاس ہو جائے
ماسڑ اسلم صاحب چونکہ ہمارے محلہ میں رہتے تھے اسلئے اسکول کے زمانہ کے بعد بھی ملاقات ہوتی رہی
وہ جب مسجد میں آتے تو اگر جماعت کھڑی ہونے والی ہوتی تو مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی منہ میں نیت بڑبڑاتے رفع یادین کرنا شروع کر دیتے
نماز میں سڑک پر ایکسیڈیٹ کی آواز سنائی دیتی تو دوران نماز ہی یا اللہ خیر کی دعا انکے منہ سے بے اختیار نکلتے کئی بار سنی جسے سن کر ہماری ہنسی نکل جاتی
از قلم فیاض قرطبی

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

کل شام گھر سے کام پر جانے کےلئے نکلاجو قرطبہ شہر سے زرا ہٹ کر صنعتی علاقہ میں واقع ہے ہمارا دفترشہر سے پانج سے سات کلو میٹر کی مسافت پر ہے
راستہ میں جاتے ہوئے ہوئے دائیں بائیں ہرے بھرے کھیت اور قطار اندر قطار لگے درختوں پر موسم بہار کے کھلے رنگ برنگے پھول دیکھ کر فرحت کا احساس ہوا ۔
اسپین ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی زمین کافی زرخیز ہے جب بھی آپ اس کی سڑکوں پر سفر کریں گے تو دائیں بائیں ہرے بھرے کھییت یا پھلوں کے درخت یا زیتون کے درخت نظر آئیں گے
اچانک میری نظرکھیتوں کے ساتھ جاتی پگڈنڈی پر پڑی تو عربی چوغہ میں ملبوس ہاتھ میں کپڑے کا تھیلہ اٹھائے ایک بابا جاتا نظر آیا اس کے لباس سے ایسے محسوس ہوا جیسے زمانہ قدیم کا کوئی عرب مسلم ہے
ہم نے کچھ آگے جا کر گاڑی کھڑی کی اور بابا کی جانب چل پڑے قریب جاکر سلام کیا تو بابا جی جو اپنی دھن میں سوچوں میں مگن جا رہے تھے نے حیرت سے ہمیں نیچے سے اوپر تک دیکھا ہمیں پینٹ شرٹ میں ملبوس دیکھ کر شاید انہیں حیرت ہوئی تھی میں نے اسپینش زبان میں پوچھا بابا جی کہاں سے آئے اور کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ بابے جی آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھ رہے تھے مجھے لگا کہ انہیں اسپینش نہی آتی پھر انگلش میں سوال کیا لیکن بابا جی ٹک ٹک دیدیم کی مانند جامد کھڑے رہے
آخری حربے کے طور پر ہم نےعربی میں پوچھا من انت ؟
بابا جی عربی سن کر جیسے ہوش میں آگئے اور کہنے لگے اسمی ابو ذکریا یحیحی ابن احمد المعروف ابن العوام
اشبیلیہ Sevilla کا رہنے والا ہوں اور قرطبہ کے علاقہ سے کچھ بیج اور پودے لینے آیا ہوا ہوں
اندلس کی تاریخ کے متعلق کتب پڑھنے کا ہمیں شغف ہے ہم نے اندلس کی زراعت کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پر جو کتب پڑھ رکھی تھیں ان میں یہ نام کچھ جانا پہچانا سا لگا میرے ذہن میں ایک عجیب کشمکش چل پڑی کہ آیا میں سفر کرکے قدیم وقت میں چلا آیا ہوں یہ بابا جی نئے زمانہ میں آ گئے ہیں
ٹوٹی پھوٹی عربی میں بابا جی سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں مشاغل کیا ہیں تو وہ گویا ہوئے
میں بنیادی طور پر ایک زراعت دان ہوں اشبلیہ میں کھیتوں میں مختلف پودوں اور سبزیوں کو اگانے اور ان کی پیداوار بڑھانے پر تجربات کرتا ہوں اور افریقہ اور ایشیا سے نئی فصلوں کے بیج منگوا کر انہیں اسپین میں اگانے کی کوشش کرتا ہوں
اس سلسلہ میں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے (کتاب الفلاحہ ) جس میں زمین کو زرخیز بنانے کے طریقہ اور مختلف پودوں کی پیوند کاری کے طریقے بیان کیے گئے ہیں اسکےعلاوہ جنگلی زیتون کو گھریلو زیتون کی پیوند کاری اور انجیر کے درخت کی کاشت کیسے کی جائے پر بھی میری تحقیق اس میں لکھی ہے
میری اس کتاب میں انیس سو پودوں اور فصلوں کا ذکر ہے ان میں سے کچھ تحقیق میں نے یونانی کاشتکاروں کی لکھی کتب سے لی ہیں اور کچھ تجربات کرکے دریافت کی ہیں
میں بابا جی کی بیان کی گئی معلومات پر حیران ہوا اور انہیں بتایا کہ آپ کی اس علم اور تجربات کی بدولت آج اسپین فروٹ اور سبزیاں پورے یورپ میں ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن چکا ہے
بابا جی کہنے لگے کہ میری کتاب میں آخری چیپڑ جانوروں کی افزائش نسل کے متعلق ہے جن میں گھوڑے بکری کبوتر مرغی وغیرہ شامل ہیں
میں تخیلات میں کھو گیا کہ اندلس کے مسلم دور حکومت میں نامور سپہ سلاروں کے ساتھ علما و مفکرین کے علاوہ ایسے محقیقین کا بڑا اہم کردار رہا ہے جہنوں نے فلکیات سے زراعت تک نت نئی دریافتیں کرکے اندلس کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آنے والی نسلوں کےلئے علمی ذخیرہ چھوڑا جس سے اہل یورپ نے مستفید ہو کر ترقی کی منزلیں طے کیں
تخیلات سے باہر نکلا تو بابا جی کو سامنے سے غائب پایا شاید ابن العوام مجھے اندلس کے درخشاں ماضی سے روشناس کروانے کےلئے ہی چند لمحوں کے لئے حاضر ہوئے تھے اور پھر سے غائب ہو گئے
اور ہم اپنے روٹین کے کام کےلئے محو سفر ہوگئے
از قلم فیاض قرطبی

img_2688

img_2687

img_2685

img_2686

جدید اسپین کے کتب خانے

جدید اسپین کے کتب خانے

جدید اسپین کے کتب خانےBiblotecas
اسپین کی دنیا میں وجہ شہرت اس کا درخشاں ماضی یعنی مسلم دور حکومت ہے جسے اندلس کے نام جانا جاتا ہے یہ دور 712عیسوی سے 1492 عیسوی تک کا تھا
مسلم دور حکومت میں قرطبہ اشبیلیہ اور غرناطہ علم و ہنر و ثقافت کے مراکز بنے جہاں فقہا و علما اسلام ،صوفیا،تاریخ دان،سائنس دان پیدا ہوئے اور اپنے اپنے میدان میں علمے کارنامے سرانجام دئیے
قرطبہ کے خلیفہ الحکم کا نام کتاب دوست حکمران کےطور پر لیا جاتا ہے جس نے لاکھوں کتب پر مبنی کتب خانہ ترتیب دیا تھا جس میں بیک وقت کئی درجن کاتب بیٹھ کتب کی نقلیں تیار کرتے تھے اور الحکم نے مشرق کے کئی ممالک میں اپنے نمائیندے بھیجے ہوئے تھے جو اس دور میں نئی لکھی جانے والی تصنیفات کو حاصل کر کے قرطبہ ارسال کرتے۔
جب ہم نے سن دوہزار کے وسط میں قرطبہ میں رہائش اختیار کی تو کتب سے شغف کی وجہ سے مقامی کتب خانہ کی تلاش شروع کی جس کی داستان پہلے ایک پوسٹ میں بیان کر چکا
کتاب خانہ پہنچ کر ممبر شب کارڈ حاصل کیا جو کہ بلکل آسان تھا پاسپورٹ پر بھی کارڈ بن جاتا ہے صرف اپنی رہائش کے پتہ کےلئے کوئی بل یا دستاویز فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
ہر کتب خانہ میں انٹرنیٹ کے مفت استعمال کےلئے کمپیوٹر مختص ہوتے ہیں جن کا وقت پہلے سے بک کروانا پڑتا ہے
ہر کتب خانے میں دو حصہ بنے ہوئے ہیں ایک حصہ میں ریفریس کتب پڑی ہوتی ہیں اور میز کردیاں لگا کر پرسکون جگہ مہیا کی ہوئی ہوتی ہے جہاں طلبا یا تحقیق کرنے والے افراد بیٹھ کر کتب سے مدتفید ہو سکتے ہیں وہاں آپ کی راہنمائی کےلئے عملہ بھی موجود ہوتا ہے مزید اگر کسی کتاب کا تصویر عکس لینا مقصود ہو تو فوٹو کاپی کی مشین موجود ہوتی ہے جس کے دام انتہائی مناسب ہوتے ہیں
کتب خانہ کا دوسرا حصہ کتب محفوظ کرنے کا علاقہ ہوتا ہے جو عام افراد کےلئے بند ہوتا ہے اگر آپ کو کوئی کتاب ،سی ڈی چائیے وہ وہاں پر لگے کمپیوٹر کے پروگرام میں سے تلاش کرکے اس کا کوڈ عملہ کو دینے پر کتب گھر لے کر جانے ےلئے فراہم کی جاتی ہیں ایک وقت میں سات سے آٹھ کتب اور تین سے چار سی ڈی یا ویڈیو کیسٹ کا اجرا کروایا جاسکتا ہے
اندلس صوبہ کے شہر میں ایک مرکزی کتب خانہ اور پھر ہر محلہ میں کتب خانہ ہوتا ہے اسی طرح چھوٹے دیہات میں بھی کتب خانے موجود ہیں ان سب کو ایک مرکزی نظام سے سافٹ وئیر کے زریعہ جوڑا گیا ہے
جو کتاب آپ تلاش کررہے ہیں اگر وہ آپ کے شہر میں موجود نہی مگر سسٹم کے مطابق کسی گاوں کے کسی کتب خانہ میں موجود ہے تو سسٹم سے کوڈ تحریر کرکے عملہ کو دینے پر کچھ دن بعد وہ کتاب منگوا کر آپ کو فراہم کر دی جائے گی
کتاب کا اجرا آپ مرکزی کتب خانہ سے کروانے کےبعد واپس کرتے وقت چائیے اسی کتب خانہ میں واپس کریں یا کسی نزدیکی کتب خانہ میں واپس کر دیں
اندلس کے صوبہ کی تمام کتاب خانوں کی کتب کو تلاش کرنے اور بک کرنے کےلئے آن لائن سہولت بھی درج ذیل سائٹ پر فراہم کی گئی ہے
‏http://www.juntadeandalucia.es/cultura/opencms/export/bibliotecas/bibcordoba/infgeneral/histbiblioteca.html

img_2676

کیا پکوڑے ہماری قوم کا من و سلوی ہیں ؟

کیا پکوڑے ہماری قوم کا من و سلوی ہیں ؟

رمضان کے پہلے دن تراویح پڑھنے کے بعد صبح ترجمہ قران پڑھا تاکہ جو قران سنا اس کا مفہوم سمجھ آسکے پہلے چند رکوع تو ایسے ہیں جو کافی دفعہ سنے اور ان کا ترجمہ پڑھا ہوا تھا اسلئے دوران تراویح بھی ان آیات کا ترجمہ و مفہوم ذہن میں خود بخود آتا چلا گیا
جب آیات کا مطلب مفہوم آتا ہو تو قران کو سننے کا مزا مختلف ہوتا ہے بانسبت بنا مفہوم سمجھے
شام کو پہلی افطاری کے وقت دوستوں نے افطاری کےلئے تیاری شروع کی تو سب سے پہلے پکوڑے تیارے کرنے کا منصوبہ بنا
پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کےلئے روزے اور پکوڑے لازم و ملزوم ہیں ان کے بنا شاید روزہ کھولنا مکروہ سمجھا جاتا ہے
اس نعمت خداوندی کی درست تاریخ کا علم تو کسی کو نہی معلوم کب اور کہاں سے اس کو دریافت کیا گیا
صبح تلاوت کے وقت آیات کے ترجمہ میں بنی آسرائیل پر رب کی جانب سے نعمتیوں کا ذکر پڑھا تھا جس میں بنی اسرائیل پر من و سلوی نازل کرنے کا ذکر تھا
پکوڑے دیکھ کر میرے ذہن میں وہ آیات گھومنے لگیں
شاید ہماری قوم کےلئے رب نے من و سلوی کی جگہ پکوڑے نازل فرمائے ہیں جسطرح ہماری قوم اس نعمت کو بچوں بوڑھوں کےلئے کھلانے کا اہتمام کرتی ہے اس سے جس طرح محبت کرتی ہے اس گمان کو تقویت ملتی ہے
از قلم فیاض قرطبی

img_2671