Browsed by
Category: ذاتی زندگی

ایک درد دل رکھنے والے استاد

ایک درد دل رکھنے والے استاد

پرائمری کا امتحان گورنمنٹ اسکول سےپاس کرنے بعد ہمارا داخلہ گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر قائم گورنمنٹ اسکینڈری اسکول دینہ میں ہوا
کلاس ششم کے تین سکیشن بنے اور ہرسیکشن میں اسی سے پچاسی طلبہ تھے پہلی بار انگریزی سے واسطہ پڑھا ششم میں انگریزی کی ابتدائی حروف شناسی اور آسان الفاظ پر مشتمل اسباق پڑھے
آج جب اپنے بچوں کی تیسری کلاس کی کتب دیکھتا ہوں تو وہ ہمارے وقت کی نویں دسویں جماعت کے ہم پلہ لگتی ہیں
ہمارےاسلامیات کے استاد زاہد شاہ صاحب تھے جہنوں نے قران پاک کے تیسویں پارے کی آخری سورتیں ہمیں ازبر کروایں جو آج تک ہمارے ذہن نشین ہیں
ششم سے ہشتم تک ہم نے اضافی مضامین زراعت و ڈرائینگ اور برقیات میں سے برقیات کومنتخب کیا
جس کےاستاد اخلاق صاحب تھے جو ہمیشہ نئی کلاس سے مکمل تعارف حاصل کرتے کہ باپ کیا کام کرتا ہے اور بھائی کیا کام کرتا ہے پڑھائی اور تجربات کروانے میں وہ اکثر کم ہی توجہ دیا کرتے
اپنے گھر یا محلہ میں ختم قران کروانا ہوتا تواس گلی اور محلہ کے طلبا کو اسکول سے چھٹی کروا کر وہاں جانے کا کہہ دیتے
ہمارے نویں پہنچنے پر ایک نئے پرنسیپل رفیق صاحب آئے جو کافی عمر رسیدہ تھے جہنوں نے صبح کی اسمبلی میں تقریر کرنے کی روایت شروع کی وہ اکثر تخلیق پاکستان کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے اور جزبہ حب الوطنی طلبا میں پیدا کرنے کےلئے پرسوز تقریر کرتے
رفیق صاحب طلبا سے بہت ہمدردی کا جزبہ رکھتے تھے اکثر دن کو مختلف کلاسوں کا دورہ کرتے کہیں کوئی استاد غیر حاضر ہوتا یا کسی کا پریڈ خالی ہوتا تو خود تختہ سیاہ پر ریاضی کے سوال دلچسپ انداز میں حل کر کے سمجھانے لگ پڑتے
ان دنوں ظہر کی نماز کا وقت اسکول کی ٹائمنگ کے درمیان آتا تھا انہوں نے ٹیچرز اور طلبا سے فنڈ اکھٹا کرکے اسکول کے کچھ فاصلہ پر مسجد کی تعمیر کروائی جس میں طلبا کو نماز ظہر باجماعت پڑھنے کی ترغیب دیتے

img_3149

ایک عجیب استاد

ایک عجیب استاد

ایک عجیب استاد
—––————-
ہم نے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم سرکاری اسکول سے لی جو گھر سے آدھا کلو میڑ دور تھا
والد صاحب نے جا کر داخل کروا دیا اس کے بعد بڑے بھائی اور محلہ کے بچوں کے ساتھ خود ہی پانچ سال آتے جاتے رہے
اسکول میں فرینچر کے نام کی تین چار کرسیاں تھیں بچے اپنے حصہ کی بوری اور ٹاٹ گھرسے لاتےتین استاد اور کل چار کمرے تھے اسکول کے سامنے کھلے کھیت تھے جو بطور کھیل کے میدان سے لے کرٹائیلٹ کی ضروریات پوری کرنے کےلئےاستعمال کیے جاتے تھے
اسکول کے ہیڈ ماسڑ ہمارے محلہ کے چوہدری اسلم صاحب مرحوم تھے جو اپنی شخصیت میں کئی خوبیوں کا مجموعہ تھے اسکول میں سخت رویہ اور ساتھ ہی طلبہ سے شفقت کا برتاو
اپنی جیب میں انہوں نے ایک عدد چاقو رکھا ہوتا تھا جس سے صبح صبح توت کے درخت سے ٹہنی کاٹ کر بچوں کی پٹائی کے لئے چھڑی تیار کی جاتی اور کھبی بھوک لگنے پر اس سے سیب کاٹے جاتے
کھبی کانے کی قلم کو اپنے چاقو سے تیار کرکے طلبا کو دیتے تاکہ تختی پر خوشخط لکھا جا سکے
کھبی بچوں کو تختی پر اپنے ہاتھ سے کچی پینسل سے اکرے ڈال کر یعنی خوش خط الفاظ لکھ کر دیتے جو پوری تختی پر تین چار ہی سماتے یعنی اتنے بڑے بڑے لکھتے اور بچے اس پر اپنے قلم کی سیاہی سے لکھائی کرتے
ماسٹر اسلم صاحب سے پڑھا ہوا کوئی بچہ ریاضی میں کمزور نہی ہو سکتا حالانکہ وہ خود اپنے زمانے کے میڑک پاس تھے اسکے بعد کوئی جدید ٹیچنک کا کورس وغیرہ بھی نہی کر رکھا تھا لیکن پڑھانے کی جو تکنیک انہوں نے استعمال کی وہ کسی ماہر نفسیات یا ماہر تعلیم دان سے کم نہ تھی
وہ بچوں کو انگلی سے ریت پر سوال لکھواتے اور اسکے بعد ہوا میں سوال لکھواتے دونوں عملوں میں بچوں کو سوال کو حل کرنے کےلئے اپنی یاداشت کو استعمال لانا پڑتا
ماسڑ اسلم صاحب کی ایک اور عادت دوسرے استادوں سے ہٹ کر تھی کہ وہ اسکول آتے راستہ میں پڑے اخباری لفافے اٹھا لاتے اور اسکی عبارت بچوں سے بلیک بورڈ پر لکھوا کر پڑھواتے اس سے بچوں کو مختلف خبروں کے زریعہ معلومات بھی ملتی اور بورڈ پر لکھنے کی پریکٹس سے خوشخطی بھی بڑھتی
پرائمری کے امتحان چونکہ بورڈ کے ہوتے تھے اور اسکے نتائج سے اسکول کی کارکردگی جانچی جاتی تھی اسلئے ماسٹر اسلم صاحب پانچویں کلاس کے بچوں کو آخری دو تین ماہ چھٹی کے بعد بھی ایک گھنٹہ مفت پڑھاتے رہتے تھے
ہمارا امتحان مفتیاں اسکول میں ہوا وہاں ماسٹر جی نے ہر لائق کے پیچھے ایک نالایق بچے کو بھٹوایا اور دوران امتحان ان کی ڈیوٹی بھی وہیں تھی وقتا فوقتا لائن میں چکر لگاتے پوچھتے سب ٹھیک ہے اس سوال کا جواب پتا ہے ؟ نہی تو اسکا جواب یہاں سے شروع ہوتا ہے
ساتھ کہتے جاتے پیچھے بھیٹے نالائق کو بھی بتاو اور دیکھاو تاکہ پاس ہو جائے
ماسڑ اسلم صاحب چونکہ ہمارے محلہ میں رہتے تھے اسلئے اسکول کے زمانہ کے بعد بھی ملاقات ہوتی رہی
وہ جب مسجد میں آتے تو اگر جماعت کھڑی ہونے والی ہوتی تو مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی منہ میں نیت بڑبڑاتے رفع یادین کرنا شروع کر دیتے
نماز میں سڑک پر ایکسیڈیٹ کی آواز سنائی دیتی تو دوران نماز ہی یا اللہ خیر کی دعا انکے منہ سے بے اختیار نکلتے کئی بار سنی جسے سن کر ہماری ہنسی نکل جاتی
از قلم فیاض قرطبی

کیا پکوڑے ہماری قوم کا من و سلوی ہیں ؟

کیا پکوڑے ہماری قوم کا من و سلوی ہیں ؟

رمضان کے پہلے دن تراویح پڑھنے کے بعد صبح ترجمہ قران پڑھا تاکہ جو قران سنا اس کا مفہوم سمجھ آسکے پہلے چند رکوع تو ایسے ہیں جو کافی دفعہ سنے اور ان کا ترجمہ پڑھا ہوا تھا اسلئے دوران تراویح بھی ان آیات کا ترجمہ و مفہوم ذہن میں خود بخود آتا چلا گیا
جب آیات کا مطلب مفہوم آتا ہو تو قران کو سننے کا مزا مختلف ہوتا ہے بانسبت بنا مفہوم سمجھے
شام کو پہلی افطاری کے وقت دوستوں نے افطاری کےلئے تیاری شروع کی تو سب سے پہلے پکوڑے تیارے کرنے کا منصوبہ بنا
پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کےلئے روزے اور پکوڑے لازم و ملزوم ہیں ان کے بنا شاید روزہ کھولنا مکروہ سمجھا جاتا ہے
اس نعمت خداوندی کی درست تاریخ کا علم تو کسی کو نہی معلوم کب اور کہاں سے اس کو دریافت کیا گیا
صبح تلاوت کے وقت آیات کے ترجمہ میں بنی آسرائیل پر رب کی جانب سے نعمتیوں کا ذکر پڑھا تھا جس میں بنی اسرائیل پر من و سلوی نازل کرنے کا ذکر تھا
پکوڑے دیکھ کر میرے ذہن میں وہ آیات گھومنے لگیں
شاید ہماری قوم کےلئے رب نے من و سلوی کی جگہ پکوڑے نازل فرمائے ہیں جسطرح ہماری قوم اس نعمت کو بچوں بوڑھوں کےلئے کھلانے کا اہتمام کرتی ہے اس سے جس طرح محبت کرتی ہے اس گمان کو تقویت ملتی ہے
از قلم فیاض قرطبی

img_2671

بستہ ب کے بدمعاشوں کی فہرست اور ہم

بستہ ب کے بدمعاشوں کی فہرست اور ہم

بستہ ب کے دس نمبر بدمعاشوں کی فہرست میں ہم
جیل میں گزرے تین دن (اخری قسط)
تیسرے دن جج کے سامنے ہھتکڑیاں لگا کرپیش کئے گئے جج صاحب نے ضمانت منظور کرکے رہا کردیا
کچھ دنوں میں پولیس کا ایک اہلکار ہمارے گھر کا پتہ لوگوں سے پوچھتا آ پہنچا ہمیں اس نے تعارف کروایا کہ عدالت نے آپ کا سمن نکالا ہے اور آپ کو جج کے رو برو پیش ہونا ہے ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ میں نے ابھی مقامی تھانہ بھی جانا ہے جہاں کے مجرموں کے ریکارڈ رکھنے والے رجسٹر جسے بستہ ب کہا جاتا ہے میں آپ کی انٹری کروانی ہے
وہ بتانے لگا کہ اس ریکارڈ کا مقصد یہ ہوتا ہے آئیندئ اگر اس علاقہ میں کوئی کیس ہوتا ہے تو رجسڑ میں درج لوگوں کو سب سے پہلے پجڑ کر تفتیش کی جائے گی ہم نے یہ سنا تو ہمارے پاوں سے زمین سرکتی محسوس ہوئی
ہمارے محلہ کے ایک لڑکا بھی جیل میں ہمارے ساتھ تھا اس سارے قصہ میں اسے بھی بلوا کر اسے یہ سارا قصہ سنایا
ہم چونکہ کم عمر تھے پولیس عدالت کے نظام کے چکروں کا علم نہی تھا اسلئے پولیس اہلکار کی ان باتوں سے ڈر گئے اس نے ہمیں سہما دیکھ کر اپنا اگلہ پتہ پھینکا کہ اگر اس کے ساتھ تعاون کیاجائے تو وہ رجسڑ میں ہمارا اندراج نہی کروائے گا ہم دونوں لڑکوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اسے لے کر اپنے محلہ کے کونسلر کے پاس لے گئے (گھر والوں کو ہم نے اہلکار کے بارے میں نہی بتایا)
کونسلر نے پولیس والے سے ملاقات کی اور ہمیں کہا کہ اسے ہانچ سو دے دو تاکہ یہ آپ کو تنگ نہ کرے ،
کونسلر چونکہ پولیس سے اپنے جائز ناجائز کام نکلواتے رہتے ہیں اسلئے اس نے پولیس والے کو ہی خوش کروایا
ایک دو تاریخوں پر گئے لیکن پتہ لگ کھبی جج صاحب نہی آئے تو کھبی رجسٹرر اور ہم گھنڑوں کہچری میں انتظار کرکے واپس
بار بار کی اسطرح بنا سماعت کیس کے اگلی تاریخ منتقل ہونے پر ہم نے اسے غیر اہم جان کر اگلی دو تاریخوں پر جانا گوارہ نہ کیا تو پھر وہی اہلکار سمن لئے حاضر ہوگیا ہم نے اس دفعہ بڑے بھائی کو بتایا جو اس دن گھر پر ہی تھے انہوں نے اسے ہوٹل پر بیٹھا کر سمن وصول کیا اور چائے پلائی دوران گفتگو ایک دو سوال کئے تواہلکار کو پتا لگ گیا آج مرغی انڈا نہی دینے والی تو اسنے سمن پر دستخط لئے اور چلا گیا
ہم نے بھائی جان کو پچھلی بار کا سارا قصہ سنایا تو انہوں نے کہا کہ اس اہلکار کو عدالت نے محض تاریخ یعنی اگلی پیشی کی اطلاع دے کر ارسال کیا تھا اس کا کوئی اختیار یا تعلق مقامی تھانہ سے نہی اس نے بچے دیکھ کر پچھلے بار اپنی دھاڑی لگائی تھی
یہ کیس یوں ہی کچھ ماہ ہم بھگتے رہے اس کے بعد ہم اسپین آگئے پیچھے وکیل صاحب نے پیروی کی اور بڑی مشکل سے اس کیس سے نام نکلا کیس میں جو الزامات تھے ان میں سے ایک سرکاری اہلکار پر حملہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور امن و امان میں خلل ڈالنا ،ان سارے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت ان کے پاس نہ تھی لیکن ہماری عدالتوں کی روایتی سستی نے اسےکئے ماہ لٹکائے رکھا

از قلم فیاض قرطبی

جہلم جیل کا پراثر پانی

جہلم جیل کا پراثر پانی

منڈا خانہ میں پندرہ سال سے اٹھارہ سال کے بارہ پندرہ لڑکے تھے یہ نارمل بیرک کی بجائے بڑا ہال تھا
اور یہاں بی کلاس کی طرح اپنا کھانا پکانے کی اجازت تھی لیکن سامان اپنا منگوانا پڑتا تھا پیاز سبزی کاٹنے کےلئے چھری کی اجازت نہی اس کی بجائے ایک لوہے کی پتری سے کام چلایا جا رہا تھا
ان بچوں میں دو تین تو ایسےخانہ بدوش تھے جو نشئی تھے جن کے پاس سے نشہ برآمد ہونے پر قید سنائی گئی تھی ایسے جرائم کی کچھ سزا کے ساتھ کچھ ہزار جرمانہ بھی ہوتا ہے ان کی سزا تو پوری ہو چکی تھی لیکن چند ہزار جرمانہ نہ ہونے کی وجہ سے مزید کئی ماہ سے قید میں تھے
کچھ ہماری طرح طالبعلم تھے لیکن خاندانی دشمنی کے مقدموں میں قید تھے ان پرزمینوں کے جھگڑے میں قتل کا الزام تھا پوچھنے پر بتانے لگے تھانہ میں فورا اقرار جرم کرلیا کیونکہ پولیس تشدد کرتی ہے اب یہاں آ کر مکر گئے ہیں اور جیل سے ہی تاریخ پر جاتے رہتے ہیں

ہم چونکہ اسٹوڈنٹ تھے ہم پر کوئی جرم عائد نہی ہوا تھا اسلئے وہاں اہلکاروں کو بھی معلوم تھا کہ ایک دو دن میں ضمانت ہو جائے گی اسلئے ہم پر سختی نہ تھی وگرنہ صبح کے وقت سب قیدیوں سے کہیں گھاس صفائی کروائی جا رہی تھی اور کچھ کو وہاں قائم دستکاری خارخانوں یا سبزیاں اناج اگانے والے کھیتوں میں کام کےلئے لے جایا جاتا تھا
ہم کو پہلے دون دن تو معاف رکھا گیا دوسرے دن شام کو جیل اہلکاروں کے ایک ٹوٹ قیدی نے کہا کہ ایک دو دن آرام ہو گیا اب تو کام کرنا پڑے گا اگر کام سے بچنا ہے تو ملاقات پر آنے والوں سے پیسے منگوا کر پولیس اہلکاروں کی جیب خرچ کرنی ہوگی
جیل کے اندر یوں تو نقد پیسہ لانے کی پابندی تھی لیکن پولیس اہلکار اپنی جیب گرم کروانے کےلئے اتنی ڈھیل دیتے تھےکہ قیدی نقد رقوم اندر لے جا سکیں
منڈا خانہ اور جیل میں جہلم جیل کے بارے میں قیدیوں اور اہلکاروں سے معلوم ہوا کہ پاکستان کی سب جیلوں میں مشہور ہے اور اسکی وجہ شہرت اس کا صحت افزا پانی ہے اس بات میں کتنا سچ تھا اسکا علم تو نہی ہمیں تین دن اس دربار کا پانی خوب پینا پڑا تین دن کے بعد ہماری ضمانت منظور ہوئی تو یہ جیل یاترا ختم ہوئی
ان تین دنوں میں جیل کے اندر قائم ایک الگ دنیا سے تعارف ہوا جسکے بارے میں باہر کی دنیا کو بہت کم علم ہوتا ہے جیل ریاست کے اندر ایک چھوٹی سی ریاست کی مانند ہوتی ہے جہاں کا حکمران جیل سپریڈنٹ ہوتا ہے وہاں کے اہلکار اسکے اشارے پر چلتے ہیں اس کی خوشآمد کےلئے اسکے سامنے کاکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیل کے اندر ابتر کھانے کے نظام کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ حکومت نے ایک مخصوص سالانہ بجٹ تو اس مد میں قائم کیا ہوا ہے لیکن ہر جیل میں گنجائش سے کئی گناہ زیادہ قیدی بند ہیں
اب دئیےبجٹ سے ایسے ہی گزارہ کیا جاتا ہے

ضمانت کے بعد تاریخوں کی روداد اگلی بار
از قلم فیاض قرطبی

تھانہ کی چورکتیا

تھانہ کی چورکتیا

تھانہ میں چوری کرنے والی کتیا

(جیل میں گزرے تین دن قسط نمبر 2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانہ پہنچے تو انچارج تھانہ کے سامنے سب کی شناخت کی گئی اور کہا گیا بے فکر رہو بڑے آفیسر آتے ہی چھوڑ دئیے جاو گے کچھ دیر بعد وہاں موجود تھانہ کے ایک کمرہ کے حوالات میں بند کر دیا گیا جو زیادہ سے زیادہ چھ سات افراد کےلئے بنا ہوا تھا جبکہ ہم بارہ تیرہ طالبعلم تھے
کمرہ کے اندر ہی پیشاب کرنے کےلئے چار سے چھ اینٹ اونچی دیوار بناکر الگ جگہ بنی ہوئی تھی جس کی بدبو سے ہمارا دم گھٹ رہا تھا دو تین گھنٹوں میں ہمارے ساتھ بند طلبا کے والدین اور لواحقین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہم سب کو امید تھی کہ دو چار گھنٹوں کے بعد ہماری جان چھوٹ جائے گی کیونکہ ہم نے کوئی جرم تو کیا نہی اور پولیس طلبا تصادم بھی کوئی بڑا حادثہ یا جرم نہی
لیکن اسی اثناء میں رات ہوگئی رات کو بامشکل سب ایک دوسرے کے پیٹوں کو سرہانہ بنا کر اس کےاوپر سر رکھ کر لیٹے
رات کو پہرہ پر موجود اہلکار نے حوالات کی سلاخوں کے قریب سوئے ایک طالبعلم کی گھڑی اتارنے کی کوشش کی تو وہ جاگ اٹھا
اہلکار اندھیرے کی وجہ سے پہچانا نہ جاسکا صبح جب ہم نے دوسرے اہلکاروں سے شکایت کی تو ان میں سے ایک اہلکار جہنوں سے شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی کہنے لگے بیٹا یہاں کس کی جرت چوری کرنے کی
ضرور وہ کتیا ہو گی جو اکثر رات کو کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر منہ مارتی رہتی ہے
ان صاحب کے ظاہری حلیہ کے باوجود ہم سب کو یقین نہ آیا بلکہ ہم ہنسنے لگے کہ نمازی ہو کر بھی حرکتیں اور عادتیں نہی بدلی پولیس کی
صبح صبح جہلم شہر کے ہمارے دوست ناصر رفیق جو اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ شہر کے ناظم تھے اس حوالہ سے میرے ساتھ ان کے روابط تھے وہ اپنے گھر سے ناشتہ تیار کروا کر لے آئے میرا اپنا گھر تو پندرہ کلومیڑ دور تھا
خیر ہم اسی امید پر تھے کہ ابھی ہم کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن کچھ دیر بعد پولیس بس آئی اور ہمیں جہلم جیل کے سامنے لا کھڑا کیا گیا اور ہمیں تھانہ پولیس سے جیل کی پولیس کے حوالہ کر دیا گیا
ایک بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک بلیک بورڈ پر تاریخ درج تھی اور جیل میں قید قیدیوں کی تعداد وغیرہ درج تھی دائیں جانب جیل سپرڈینڈنٹ کے کمرہ میں لے جایا گیا اور ہمارے پاس موجود سامان کا ہم سے لے کر رجسڑ میں اندراج کیا گیا اور بتایا گیا کہ جب رہائی ہوگی تو یہ مکمل باحفاظت آپ کو ایسے ہی واپس دیا جائے گا
جیل کے مرکزی دروازے کے اندر ایک اور مرکزی دروازہ تھا جس سے اندر داخل ہوئے تو سامنے گلاب کے پھولوں سے مزین کیاریوں پر نظر پڑی اور دیواروں پر قرانی آیات لکھی نظر آئیں اس سے آگے چلے تو میدان کے درمیان ایک گول سا کیبن نما کمرہ بنا ہوا تھا جسے جیل کی زبان میں چکر کہا جاتا ہے اس چکر سے مختلف پکڈنڈیاں مختلف بیرکوں کے جانب جاتی ہیں

منڈا خانہ اور اسکی سرگرمیاں آئیندہ
از قلم فیاض قرطبی

ہماری جیل میں پہنچنے کی روداد

ہماری جیل میں پہنچنے کی روداد

1994میڑک کے بعد بڑے بھائی جان ریاض نے ہمیں روایتی ایف اے والی تعلیم کی بجائے فنی تعلیم حاصل کرنے کےلئے جہلم کے ووکیشنل کالج میں داخلہ لینے کا مشورہ دیا صبح کی شفٹ میں داخلہ بند ہونے کی بنا پر شام والی شفٹ میں مکینیکل ڈرافٹسمین کے ایک سالہ سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ لیا
یہ کالج جہلم کے مشہور جی ٹی ایس چوک اور دریائے جہلم پر انگریز کے بنائے گئے قدیم پل کے درمیان واقع تھا اور اس کالج کے تینوں اطراف والی گلیوں میں جہلم کے تین مشہور سینما گھر قائم تھے
ہماری کلاس شام کو تقریبا سات بجے ختم ہوتی اور جب دوستوں کے ہمراہ وہاں سے گھر واپس جانے کےلئے گزر رہے ہوتے تو سڑک پر سے گزرنے والی نگاہوں کا مرکز ہوتے کہ یہ طلبا کوئی شو دیکھ کر آ رہے ہیں حالانکہ ایک سال لگاتار کالج جانے کے دوران کھبی سینماوں کا رخ تک نہ کیا تھا
جہلم جی ٹی روڈ کینٹ سے دینہ کےلئےرات کو سات سے آٹھ بجے بس پر سوار ہوتے وقت کنڈیکڑ بھی ہمیں گھورتے کھبی کھبار بحث بھی کرتے کہ دن کے وقت کم تنگ کرتے ہو اب رات کو بھی مفت سفر کےلئے آگئے
ہمیں بتانا پڑتا کہ ہم سکینڈ شفٹ کے حقیقی طالب علم ہیں مفت خورے نہی ہیں
اس کالج کے ساتھ ایک چائے خانہ تھا جس کا نام لڈن کا چائے خانہ تھا جہاں شہر بھر سے چائے کے شوقین آتے تھے یہاں کی چائے کی خاص بات یہ تھی کہ چائے کا ایک بڑا مگ تھا جس میں بنتی دوسرا چائے ہمیشہ کوئلوں پر بنائی جاتی جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ منفرد ہوتا تھا ہم کلاس فیلو دوران وقفہ اکثر اس چائے سے لطف اندوز ہوتے تھے
ہم کالج جانے کےلئے اکثر صبح ہی گھر سے چلے جاتے راستہ میں کھبی جی ٹی روڈ کالج کے دوستوں سے گپ شب کےلئے رکھ جاتے یا جہلم شہر میں کسی سے ملنے کےلئے
ایک دن ہمارے محلہ کے ایک نوجوان جو جی ٹی روڈ کالج میں کلرک تھے نہ ہمیں جاتے ہوئے اپنی چھٹی کی درخواست پکڑا دی کے تم اپنے کالج جاتے ہوئے راستہ میں جی ٹی روڈ کالج میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں دیتے جانا
ہم جب کالج پہنچے تو دیکھا طلبا کی بڑی تعداد کالج کی بجائے سڑک کے کنارے جمع تھی اور نعرے لگا رہی تھی ہم ان کو وہیں چھوڑ کر کالج کے اندر درخواست جمع کروا کر جب باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پولیس کی بھاری نفری آن موجود ہوئی طلبا اور پولیس میں آنکھ مچولی شروع ہو گئی ہم نے روڈ پار کی تاکہ اپنے کالج کی جانب جا سکیں اس دوران طلبا کے پتھراو سے پولیس کا ڈی ایس پی یا کوئی آفیسر زخمی ہو گیا تو اس نے پولیس کو فل اختیار دے دیا پھر کیا تھا پولیس نے طلبا کو مار بھگایا
ہم کسی بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ بس کی بجائے ایک پولیس بس آ پہنچی ہمارے سامنے آ رکی چونکہ ہم کالج کے طالب علم نہ تھے نہ اس اتجاج کا حصہ اسلئے ہم بے پروا ہو کر کھڑے رہے پولیس بس سے کچھ اہلکار اترے اور ہمیں پکڑ کر بس کی جانب لے جانے لگے ہم نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تو وہ بولے یہ بیان بڑے صاحب کے سامنے دینا فلحال ساتھ چلو
ہمارے ساتھ کھڑے ایک اور صاحب جو پودوں کی نرسری کے ورکر تھے اور عمر بھی تیس کے لگ بھگ تھی کو بھی پولیس نے پکڑ لیا باوجود اسکے کہ وہ کہتا رہا میں نرسری کا ملازم ہوں میری عمر میری شکل طالبعلم والی لگتی ہے آپ کو
پولیس والوں نے شاید خانہ پوری کرنی تھی اسلئے جو جو سامنے آیا اسے پکڑ کر بارہ پندرہ کی تعداد پوری کی اور بس کو جہلم صدر کے تھانہ میں جا پہنچے

تھانہ اور جیل کی روداد اگلی قسط میں

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سن دو ہزار میں جب ہم قرطبہ کے نواحی گاوں بلمس Belmiz میں رہائش پذیر تھے یورپ کے دیگر ممالک سے بھی پاکستانی اسپین پہنچ رہے تھے کیونکہ اسپین نے غیر ملکی افراد کو قانونی دستاویزات دینے کا اعلان کر رکھا تھا
اس چھوٹے سے گاوں جس کی آبادی بامشکل چار ہزار نفوس پر مبنی تھی میں تقریبا چالیس کے قریب پاکستانی مختلف ڈیروں میں رہ رہے تھے
ان میں پنجاب اور کشمیر کے مختلف شہروں کے لوگ تھے کوئی انگلینڈ سے بزریعہ جہاز آیا تھا اور کوئی بزریعہ ٹرین اور کچھ لوگ ڈنکی لگا کر یعنی مختلف ممالک کی سرحدیں غیر قانونی طور پر کئی ماہ کی طویل جہدوجہد کےبعد عبور کرکے یہاں تک پہنچے تھے
ان میں ایک شخصیت ایسی تھی جن کے نام کے ساتھ روسی کا لقب تھا ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو روسی کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے روس کی سرحد عبور کرنے کی سترہ کوشیش سات سال لگاتار کیں
اس زمانے میں میرے پاس کمپاس اور نقشہ جیب میں ہوتا تھا میں ہر بار ناکام ہوتا پکڑا جاتا تو دوسری بار دوسری جانب سے کوشش کرتا
دوران قیام ان صاحب سے کسی نے پوچھا کہ یہ واشنگ مشین میں جرابیں آپ کی ہیں تو موصوف کا جواب تھا کہ نہی میرا اصول ہے کہ میں جرابیں اور انڈر وئیر اتاروں تو دوبارہ نہی پہنتا ہم سن کر حیرں ہورہے تھے ان کے اس ڈائیلاگ سے کہ ان کے ساتھ رہنے والے دوست نے تبصرہ کیا کہ روسی صاحب اتنا عرصہ پہنے رہتے ہیں کہ جب اتارتے ہیں تو وہ اس قابل کہاں رہتا ہیں
اسپین میں دستاویزات بناتے ہوئے ان کو مزید دوسال لگے اسکے بعد کام کی تلاش شروع کی نہ زبان آتی تھی نہ ہنر تھا کچھ دوست مارکیٹ میں اسٹال لگا چھوٹا موٹا سامان فروخت کرتے تھے ان کے ساتھ مددگار کے طور پر کام کرنے لگے
پاکستان گھر سے نکلے دس سال کا عرصہ بیت چکا تھا جو بیٹی سات سال کی چھوڑ کر آیا تھا وہ سترہ کی ہوچکی تھی اور پاکستان جانے کےلئے ٹکٹ کے پیسے نہ تھے ہم دوستوں سے مانگ کر ٹکٹ لیا اور پاکستان گئے
اسکے بعد ہم گاوں سے قرطبہ منتقل ہوئے جہاں انگلینڈ کے ایک دوست سے مل کر پہلا ڈونر کباب کھولا
روسی صاحب سے اس کے بعد کھبی رابطہ نہ ہوا
پردیس کے سفر میں ایسی ان گنت داستانیں ہیں یہ تو محض ایک کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا
از قلم فیاض قرطبی

پی آئی اے PIA کے خسارہ کی وجہ : پاکستانی پیر فقیر ہیں

پی آئی اے PIA کے خسارہ کی وجہ : پاکستانی پیر فقیر ہیں

کچھ برس قبل ایک دوست کا فون آیا کہ ان کے جاننے والے ایک پاکستانی دوست آپ کے شہر قرطبہ میں کسی کمرشل پلازہ میں سنگ مرمر کے بنے نوادارت کا اسٹال لگانے آرہے ہیں ان کی رہائش کا بندوبست کر دیجیے
پردیس میں اپنے دیس کے مہمانوں کی میزبانی اور مدد کرنا ہمیشہ سے ہمارے لئے باعث فخر رہا ہے
ہمارا پہلا تاثر تو یہ تھا کہ جو کاروباری اسٹائل لگا رہا ہے وہ پیسے والا کاروباری فرد ہو گا اسے ہوٹل بک کروانا چائیے مگر جب وہ قرطبہ پہنچے تو پتا چلا کہ وہ محض ملازم ہیں اصل سرمایاکار تو کوئی اور ہے یہ صاحب ہمارے علاقہ کشمیر کے شہر میرپور سے تعلق رکھتے تھے
انہوں نے آٹھ سے دس دن تک ہمارے ہاں قیام فرمایا بہت سادہ مزاج اور ضیف العقاد تھے دوران قیام انہوں نے جو ایک واقعہ سنایا اس کی وجہ سے انکی شخصیت اب تک ہمارے ذہن میں محفوظ ہے
اولیا اور پیروں کی کرامات کے سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ میرپور کا ایک فرد سعودیہ گیا تو وہاں اسکا ویزہ ختم ہو گیا اور پیسے بھی ختم ہو گئے ایک دن وہ حرم پاک میں رو کر دعا مانگ رہا تھا کہ ایک بزرگ نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا رو کیوں رہے ہو اس سائل نے سارا ماجرا سنایا
ان بزرگوں نے کہا کہ اپنی آنکھیں بند کرو اور اس وقت تک نہ کھولنا جب تک میں نہ کہوں
کچھ دیر بعد جب انکے حکم پر آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو کھڑی شریف میرپور میں کھڑا پایا تو حیران ہوا
تو بزرگ بولے میں کھڑی شریف کا پیر ہوں روزانہ حرم میں نماز ادا کرنے جاتا ہوں
ہم نے یہ قصہ سن کر سبحان اللہ کا نعرہ لگایا
اور دل ہی دل میں سوچا PIA کی سروس خسارہ میں شاید اسی لئے جا رہی ہے کہ پاکستان کے سینکڑوں پیر روزانہ مفت میں ایسے مسافران کو لے کر آنے کی سروس جو مہیا کر رہے ہیں

(بزرگان دین از خود ایسے دعوے کم ہی کرتے ہیں یہ جاہل عوام ان بزرگان کی اصل تعلیمات کو چھوڑ کر قصوں کہانیوں کو ان سے منسوب کر دیتی ہے)
از قلم فیاض قرطبی

img_2594

لوٹ اے گردش ایام

لوٹ اے گردش ایام

ہم نے اپنی پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی اور قران پاک کا ناظرہ محلہ کی مسجد سے پڑھا
پرائمری اسکول میں ہمارے ایک ہم جماعت تھے جو عمر میں ہم دو تین سال بڑھے ہوں گے وہ اسی مسجد میں حفظ کرتے تھے جہاں ہم ناظرہ پڑھنے صبح اسکول جانے سے قبل جاتے تھے
ان کو مولوی کے نام سے پکارا جاتا تھا وہ کلاس میں اکثر سوئے پائے جاتے جس پر کلاس ٹیچر سے اکثر ڈانٹ پڑتی اصل میں ہوتا یوں تھا کہ ان کو فجر سے قبل حفظ کےلئے جگادیا جاتا تھا اس کے بعد وہ اسکول پڑھنے آجاتے اور شام کو پھر حفظ کی سبقی
وہ کچھ سست الوجود اور غبی بھی تھے اسلئے کئی سال گزرنے کے باوجود ان کا حفظ مکمل نہ ہوسکا تھا
ان کے کئی قصے مشہور ہو چکے تھے جن میں ایک واقعہ یہ تھا کہ وہ مسجد کے غسل خانے میں اندر سے کنڈی لگا کر سو گئے حفظ کی کلاس یا اسکول کی کلاس سے جب بھی غیر حاضر ہوتے ٹیچر لڑکوں کی ڈیوٹی لگاتے جاو مولوی کو تلاش کرو کہ آج کہاں جگہ تلاش کی سونے کی ۔
وہ بھی بڑے کایاں تھے ہر دفعہ نئی جگہ تلاش کرلیتے سونے کےلئے
اسی طرح محلہ میں واقع ایک حویلی کے درخت پر چڑھ کر اس کے ایک موٹے تنے پرٹانگیں پھنسا کر سوتے پکڑے گئے
ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک کلاس فیلو کی ڈیوٹی لگا دی کہ جب بھی اسے سوتا دیکھو اسے سوئی چھبو دیا کرو
اس زمانے میں تو ان باتوں پر غور کرنے کا شعور نہ تھا اب سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم ان کا مذاق اڑا کر ان کو تنگ کرکے اچھا نہی کرتے تھے ایک تو وہ قدرتی غبی تھے اوپر سے ان کے گھر والوں نے ان کو زبردستی حفظ کرنے ڈال رکھا تھا
ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بچوں کے رجحانات کو پہچان ہی نہی پاتے یا اپنی دلی خواہیش پوری کرنے کےلئے بچوں کو ان کی طبیعت کے برخلاف کام سیکھنے پر مجبور کرتے ہیں جس کا اثر یہ پڑتا ہے کہ بچے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے یا جان بوجھ کر غفلت کرکے اس کام کو درست سرانجام نہی دیتے اور یوں اپنی زندگی کا بہترین وقت ضائع کر دیتے ہیں اور اکثر بچے باغی بن کر الٹی سیدھی حرکتیں کرکے گھر والوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بننے لگ جاتے ہیں