Browsed by
Category: سفرنامہ

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سن دو ہزار میں جب ہم قرطبہ کے نواحی گاوں بلمس Belmiz میں رہائش پذیر تھے یورپ کے دیگر ممالک سے بھی پاکستانی اسپین پہنچ رہے تھے کیونکہ اسپین نے غیر ملکی افراد کو قانونی دستاویزات دینے کا اعلان کر رکھا تھا
اس چھوٹے سے گاوں جس کی آبادی بامشکل چار ہزار نفوس پر مبنی تھی میں تقریبا چالیس کے قریب پاکستانی مختلف ڈیروں میں رہ رہے تھے
ان میں پنجاب اور کشمیر کے مختلف شہروں کے لوگ تھے کوئی انگلینڈ سے بزریعہ جہاز آیا تھا اور کوئی بزریعہ ٹرین اور کچھ لوگ ڈنکی لگا کر یعنی مختلف ممالک کی سرحدیں غیر قانونی طور پر کئی ماہ کی طویل جہدوجہد کےبعد عبور کرکے یہاں تک پہنچے تھے
ان میں ایک شخصیت ایسی تھی جن کے نام کے ساتھ روسی کا لقب تھا ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو روسی کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے روس کی سرحد عبور کرنے کی سترہ کوشیش سات سال لگاتار کیں
اس زمانے میں میرے پاس کمپاس اور نقشہ جیب میں ہوتا تھا میں ہر بار ناکام ہوتا پکڑا جاتا تو دوسری بار دوسری جانب سے کوشش کرتا
دوران قیام ان صاحب سے کسی نے پوچھا کہ یہ واشنگ مشین میں جرابیں آپ کی ہیں تو موصوف کا جواب تھا کہ نہی میرا اصول ہے کہ میں جرابیں اور انڈر وئیر اتاروں تو دوبارہ نہی پہنتا ہم سن کر حیرں ہورہے تھے ان کے اس ڈائیلاگ سے کہ ان کے ساتھ رہنے والے دوست نے تبصرہ کیا کہ روسی صاحب اتنا عرصہ پہنے رہتے ہیں کہ جب اتارتے ہیں تو وہ اس قابل کہاں رہتا ہیں
اسپین میں دستاویزات بناتے ہوئے ان کو مزید دوسال لگے اسکے بعد کام کی تلاش شروع کی نہ زبان آتی تھی نہ ہنر تھا کچھ دوست مارکیٹ میں اسٹال لگا چھوٹا موٹا سامان فروخت کرتے تھے ان کے ساتھ مددگار کے طور پر کام کرنے لگے
پاکستان گھر سے نکلے دس سال کا عرصہ بیت چکا تھا جو بیٹی سات سال کی چھوڑ کر آیا تھا وہ سترہ کی ہوچکی تھی اور پاکستان جانے کےلئے ٹکٹ کے پیسے نہ تھے ہم دوستوں سے مانگ کر ٹکٹ لیا اور پاکستان گئے
اسکے بعد ہم گاوں سے قرطبہ منتقل ہوئے جہاں انگلینڈ کے ایک دوست سے مل کر پہلا ڈونر کباب کھولا
روسی صاحب سے اس کے بعد کھبی رابطہ نہ ہوا
پردیس کے سفر میں ایسی ان گنت داستانیں ہیں یہ تو محض ایک کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا
از قلم فیاض قرطبی

پی آئی اے PIA کے خسارہ کی وجہ : پاکستانی پیر فقیر ہیں

پی آئی اے PIA کے خسارہ کی وجہ : پاکستانی پیر فقیر ہیں

کچھ برس قبل ایک دوست کا فون آیا کہ ان کے جاننے والے ایک پاکستانی دوست آپ کے شہر قرطبہ میں کسی کمرشل پلازہ میں سنگ مرمر کے بنے نوادارت کا اسٹال لگانے آرہے ہیں ان کی رہائش کا بندوبست کر دیجیے
پردیس میں اپنے دیس کے مہمانوں کی میزبانی اور مدد کرنا ہمیشہ سے ہمارے لئے باعث فخر رہا ہے
ہمارا پہلا تاثر تو یہ تھا کہ جو کاروباری اسٹائل لگا رہا ہے وہ پیسے والا کاروباری فرد ہو گا اسے ہوٹل بک کروانا چائیے مگر جب وہ قرطبہ پہنچے تو پتا چلا کہ وہ محض ملازم ہیں اصل سرمایاکار تو کوئی اور ہے یہ صاحب ہمارے علاقہ کشمیر کے شہر میرپور سے تعلق رکھتے تھے
انہوں نے آٹھ سے دس دن تک ہمارے ہاں قیام فرمایا بہت سادہ مزاج اور ضیف العقاد تھے دوران قیام انہوں نے جو ایک واقعہ سنایا اس کی وجہ سے انکی شخصیت اب تک ہمارے ذہن میں محفوظ ہے
اولیا اور پیروں کی کرامات کے سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ میرپور کا ایک فرد سعودیہ گیا تو وہاں اسکا ویزہ ختم ہو گیا اور پیسے بھی ختم ہو گئے ایک دن وہ حرم پاک میں رو کر دعا مانگ رہا تھا کہ ایک بزرگ نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا رو کیوں رہے ہو اس سائل نے سارا ماجرا سنایا
ان بزرگوں نے کہا کہ اپنی آنکھیں بند کرو اور اس وقت تک نہ کھولنا جب تک میں نہ کہوں
کچھ دیر بعد جب انکے حکم پر آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو کھڑی شریف میرپور میں کھڑا پایا تو حیران ہوا
تو بزرگ بولے میں کھڑی شریف کا پیر ہوں روزانہ حرم میں نماز ادا کرنے جاتا ہوں
ہم نے یہ قصہ سن کر سبحان اللہ کا نعرہ لگایا
اور دل ہی دل میں سوچا PIA کی سروس خسارہ میں شاید اسی لئے جا رہی ہے کہ پاکستان کے سینکڑوں پیر روزانہ مفت میں ایسے مسافران کو لے کر آنے کی سروس جو مہیا کر رہے ہیں

(بزرگان دین از خود ایسے دعوے کم ہی کرتے ہیں یہ جاہل عوام ان بزرگان کی اصل تعلیمات کو چھوڑ کر قصوں کہانیوں کو ان سے منسوب کر دیتی ہے)
از قلم فیاض قرطبی

img_2594

پاکستان کےسابق وفاقی وزیر اطلاعات کا دورہ قرطبہ

پاکستان کےسابق وفاقی وزیر اطلاعات کا دورہ قرطبہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط بیالیس
—————————————-
مسجد قرطبہ اور الحمرا کی سیر کو آنے والوں میں علما و اہل علم کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہےاور دفعہ پاکستان کے سرکاری احکام جو یورپ کے کسی ملک میں ٹرینگ کےلئے آئے ہوتے ہیں وہ بھی موقع سےفائدہ اٹھا کر اسپین کی سیر کےلئے آتے ہیں ایسےوفود پاکستان کی میڈرڈایمبیسی کے ذریعہ ہمارے پاس آتے
ہیں انفرادی طور پر کسی دوست کے زریعہ مسجد قرطبہ دیکھنے آتے ہیں آنے والوں میں ایک بات مشترک ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے سنہری دور یعنی اندلس کے بچے کچھے آثار اور اس دور کی عظیم شہکار مسجد قرطبہ اور الحمرا کو دیکھنے کی آرزو رکھتے تھے
مسجد سے وابستگی کا ایک جذباتی پہلو ہر کسی میں پایا جاتا تھا
اگست دو ہزار پندرہ 2015 کو ایمبیسی کے کمرشل اتاشی چدھڑ صاحب کا فون آیا کہ پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات جناب قمر الزمان کائرہ صاحب دوستوں کے ہمراہ مسجد قرطبہ دیکھنے تشریف لا رہے ہیں انہوں نے ہمیں کہا کہ ہم ان کے ہمراہ مسجد دیکھانے جائیں
ویسے تو پیپلزپارٹی کے متعلق پہلے معلوم تھا کہ اس کے اکثر ارکان سیکولر لبرل ہوتے ہیں لیکن یہ گمان تھا کہ مسجد قرطبہ مسلمانوں کے عظمت رفتہ کی نشانی ہے اس سے جو عام مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہے ایسی کچھ وابستگی جناب کائرہ صاحب کو بھی ہوگی
لیکن جب ہم نے ان کو کاوبوائے گیٹ اپ یعن ایک شارٹ پہنے دیکھا تو ہمیں عجیب سا لگا
مسجد چائیے آج چرچ بن گئی ہے لیکن بحثیت مسلمان ہمارے دل میں اس کا احترام موجود ہے
مسجد کے اندر گھومتے ہوئے کائرہ صاحب نے دمشق کے عربی کے طرز تعمیر کی تعریف فرمائی اور پندرہ منٹ میں اپنی سیر مکمل کرکے واپس تشریف لے گئے
مجھے ایسے لگا جیسا یہ ایک نمائشی دورہ تھا جیسے کاغذ کاروائی پوری کئ گئی ہو

img_1547

مولانا طارق جمیل کا دورہ قرطبہ اور ہماری میزبانی

مولانا طارق جمیل کا دورہ قرطبہ اور ہماری میزبانی

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط اکتالیس
—————————————
فروری دوہزارچودہ 2014 کو بارسلونا کے ایک دوست نے بتایا کہ پاکستان کے مشہور عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل صاحب تبلیغی دورہ پر بارسلونا آئے ہوئے ہیں اور یہاں سے فارغ ہوکر وہ مسجد قرطبہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں
انہوں نے بتایا کہ ان کے ہمراہ چھ سات افراد ہوں گے
ہم نے ان کےقیام کےلئے ہوٹل کا بندوسبت کیا اور طعام کا بندوبست اپنے گھر رکھا ہمارا ارادہ تھا کہ مولانا طارق کا قیام گھر میں کروایں اور دیگر افراد کو ہوٹل میں مگر جب مولانا قرطبہ پہنچے اور طعام کے بعد ان کو یہ پلان بتایا تو مولانا نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ ہی ہوٹل میں قیام کریں گے یوں اکیلے گھر میں آرام کرنا مناسب نہی
کھانے کےبعد مولانا نے ہم سے کیچن کا پوچھا ہمارے استفار پر کہنے لگے اپنی چائے میں خود اپنے خاص طریقہ سے بناتا ہوں
ہم بھی مولانا کے ساتھ کھڑے ہو گئے تاکہ ان کے خاص طریقہ کو سیکھ سکھیں مولانا نے اپنی جیب سے چاندی کے کاغذ میں لپٹی الائچی کو نکالا اور گرم دودھ میں ڈالا اور چائے کی بتی حسب سابق ڈالی
آگ کو ہلکی آنچ پررکھا یوں مولانا کی اسپیشل چائے تیار ہو گئی
رات کو آرام کےبعد اگلی صبح مسجد قرطبہ کی زیارت کو روانہ ہوئے مسجد کے باہر کھڑے سکیورٹی گارڈ نے داڑھی والے سیاحوں کو دیکھتے ہی اپنی روایتی انداز میں وہ ہدایات دوراہیں کہ مسجد اب چرچ ہے اس میں بغیر ٹوپی داخل ہونا ہے مذہبی رسوم ادا نہی کرنی وغیرہ
جب بھی مسلمان سیاح مسجد میں آتے ہیں تو سکیورٹی اہلکار اکثر ان پر نظر رکھنے کےلئے ان کے ہیچھے گھومتے رہتے ہیں کیونکہ کئی دفعہ ماضی میں مسلمانوں نے اندر نماز ادا کرنے کی کوششیں کی تھیں
مولانا طارق جمیل نے مسکراتے ہوئے ہمیں کہا کہ ان پاگلوں کو یہ معلوم نہی ہماری عبادت بنا جسمانی حرکات کیے تسبیحات سے بھی ہو جاتی ہے ہم نماز کھڑے کھڑے بھی ادا کر سکتے ہیں
مولانا طارق جمیل نے اپنے اس دورہ کی روداد کو پاکستان جا کر اپنی ایک تقریر میں بیان کیا
اس بیان کا لنک درج ذیل ہے جو افراد اس میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس لنک پر وہ بیان سن سکتے ہیں

img_1442

Molana tariq jameel talks about Masjeday Qurtaba
مولانا طارق کا بیان مسجد قرطبہ

طیب اردگان کے دیس میں چوبیس گھنٹے

طیب اردگان کے دیس میں چوبیس گھنٹے

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط چالیس
————————————–
پچھلے کچھ سالوں سے ہم پاکستان ہر چار سے چھ ماہ بعد چکر لگاتے ہیں تاکہ والدین اور فیملی سے ملاقات ہو جائے دوہزار تیرا 2013 کو پاکستان سے بذریعہ برادر اسلامی ملک ترکی ٹکٹ کروایا تو استنبول میں چوبیس گھنٹے رکنا تھا
اتاترک انڑنینشل ائیرپورٹ پر اترتے پتا چلا کہ باہر جانے کےلئے ویزہ ائیرپورٹ کے اوپر ہی جاری کیا جاتا ہے جس کی فیس صرف پندرہ یورو ہے سیاحت کے فروغ کےلئے یہ بہت احس اقدام ہے ترکی حکومت کا اسی لئے ان کے ہاں کروڑوں سیاح دنیا بھر سے آتے ہیں
ویزہ کے بعد ترکش ایرلائن کے کاونٹر سے فراہم کردہ ہوٹل کےلئے بس کا معلوم کیا
بس جیسے جیسے شہر کے قریب جارہی تھی ہمیں مختلف پارکوں کے کونوں میں اونچے مینار اور گنبد نظر آنے لگے جن کا طرز تعمیر تقریبا ایک جیسا تھا استنبول شہر کے درمیان بسیں گزرنے کےلئے الگ لائن دیکھی جو میڑو کہلاتی ہے اسی میڑو کی نقل پاکستان میں کی جارہی ہے
ہوٹل پہنچ کر سامان رکھ کر ہم نے چند گھنٹے استنبول کی سیر کی ٹھانی ہوٹل سے شہر کا نقشہ حاصل کیااور سب سے پہلے مشہور صحابی رسول اور مدینہ میں میزبانی کا شرف حاصل کرنے والے حضرت ایوب کے مزار کی طرف بزریعہ بس روانہ ہوا
ترکش زبان میں حضرت ایوب کو سلطان ایوپ Sultan Ayup کہا جاتا ہے جس علاقہ میں مزار واقع ہے اس محلہ کو بھی سلطان ایوپ کہا جاتا ہے رسول عربی کا فرمان تھا کہ جو لشکر قسطنطنیہ(استنبول کا پرانانام) کو فتح کرے گا وہ جنتی ہوگا اس وقت یہ شہر بازطینی سلطنت کا درالحکومت تھا
کئی خلفا نے اپنے بحری لشکر ارسال کئے ایسے ہی ایک لشکر میں حضرت ایوب بھی اسی سال کی عمر کے باوجود شامل ہوئے اور شہر کے باہر لشکر کے پڑاو میں بیماری کا شکار ہو کر وفات پاگئے جب سلطان محمد نے استنبول فتح کیا تو ان کی قبر شہر میں بنا کر مقبرہ قائم کیا
مقبرہ کے ساتھ منسلحق ایک جامع مسجد بھی ہے جہاں جب پہنچا تو خواتین کی ایک بڑی تعداد کو نوافل ادا کرتے دیکھا یہ ایک عجیب منظر تھا کمال اتاترک ائیرپورٹ سے لے کر ہوٹل پہنچتے ترکش خواتین کی اکثریت کو سکرٹ پہنے دیکھا لیکن مزار پر سینکڑوں خواتین باحجاب نظر آئیں جن میں اکثریت بڑی عمر کی خواتین کی تھی
مزار کے بعد بلیو ماسک یعنی نیلی مسجد دیکھنے کےلئے پہنچا یہ مسجد مشہور پرانےگرجا آیا صوفیہ کے بالمقابل اس وقت کے ترکش سلطان نے بنوائی تھی
مسجد کے اردگرد وسیع پارکس ہیں یہ رمضان کا مہینہ تھا اور پارکس میں ایک عجیب منظر دیکھ کر حیران ہوا
ہزاروں لوگ ٹولیوں کی شکل میں کپڑے بچھا کر افطاری کی تیاری کر رہے ہیں بعض فیملیوں کی باحجاب خواتین کے درمیان سکرٹ والی لڑکیاں بھی ہیں اور کئی نوجوان بنا روزہ کھا پی رہے ہیں لیکن اکثریت باحجاب اور روزہ سے تھی پاکستان میں افطار کے وقت شہر ویران ہوجاتے ہیں لیکن یہاں عوام گھروں سے نکل کر پارکوں میں فیملی کے ہمراہ افطاری کو پکنک کے طور پر منا رہی تھی
مختلف سیاح اس منظر کو کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کر رہے تھے ترکش معاشرہ ستر اسی سال سیکولرازم کے زیرسایہ رہا اور یہاں کی فوج نے بڑی سختی سے مذہب کے اظہار پر پابندی رکھی لیکن جسٹس پارٹی نے طیب اردگان کی سربراہی میں عوام کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا تو ترک معاشرہ دوبارہ سے اپنے اصل کی جانب لوٹنا شروع ہوا اور حجاب کو پہننے کی اجازت سرکاری اداروں میں بھی ملی اور معاشرہ بھی بتدریج اسلامی اقدار کا اظہار کرنے لگا
بلیو مسجد کے لاتعداد چھوٹے گنبد اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے مسجد میں داخل ہونے کےلئے صدر دروازے پر پلاسٹک کی ٹوپی ہر سیاح کو مہیا کی جارہی تھی اور جوتے لے کر پلاسٹک بیگ میں ڈال کر محفوظ کئے جا رہے تھے واپسی پر رضاکارانہ فنڈ کے لئے ٹکٹ دیا جارہا تھا جس کی آمدن مسجد کی دیکھ بھال کےلئے استعمال کی جاتی ہے
مسجد کے کچھ فاصلہ پر پارک میں ہی فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد کا مزار بنا ہوا تھا جس کی دیوار پر سلطان محمد کے بارے میں معلومات درج تھیں
استنبول کی قدیم عمارات میں جا بجا فارسی میں عبارتیں لکھیں دیکھیں خلافت عثمانیہ کے دور میں ترکی کا رسم الخط فارسی تھا جسے کمال اتاترک نے آکر بدل کر یورپین بنایا مشہور صوفی شاعر مولانا رومی کا سارا کلام بھی فارسی میں تھا جو کہ ترکی ہی کے شہر قونیہ کے رہنے والے تھے

img_1496

img_1493

img_1492

img_1495

سوشل میڈیا کے گرو ریحان اللہ والا قرطبہ میں

سوشل میڈیا کے گرو ریحان اللہ والا قرطبہ میں

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط انتالیس
—————————————-
قرطبہ شہر و مسجد قرطبہ کا وزٹ کرنے والی شخصیات میں ایک اور اہم شخصیت جن کا ذکر آج کرنے جا رہا ہوں ان کا تعلق کراچی سے ہے سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد ان سے ضرور آشنا ہوں گے
ریحان اللہ والا Rehan Allhawala کے نام سے یہ سوشل میڈیا کے موثر استعمال کےلئے پاکستان میں سیمینار اور لیکچرز کا اہتمام کرتے رہتے ہیں
سوشل میڈیا کے زریعہ تعلیم کے فروغ کےلئے ریحان اسکول Rehan schools ریحان یونیورسٹی اور ریحان لائیبریری جیسے سینکڑوں پراجیکٹس کی نگرانی کررہے ہیں بیرون ممالک پاکستان کے اچھے امیج بنانے کےلئے سوشل میڈیا کو یہ ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے داعی ہیں
دو ہزار چودہ 2014کے شروع میں بارسلونا میں موبائل کے متعلق ایک کاروباری کانفرنس میں شرکت کےلئے اسپین آئے تو قرطبہ کی سیر کےلئے ہم سے رابطہ کیا
ریحان بھائی نے مسجد قرطبہ کی طرز پر مسجد قرطبہ پاکستان میں بنانے کےلئے ایک منصوبہ بنا رکھا تھا اس قسم کی کاپی کرنے کو Repleca کہا جاتا ہے دنیا بھر میں مشہور مقامات کی اس طرح نقلیں بنی ہوئی ہیں اسکا باقاعدہ نقشہ میڈرڈ کے ایک نقشہ نویس سے بنوایا اور اسی سلسلہ میں قرطبہ شہر کے اس وقت کے مئیر سے ملاقات بھی کی
ہماری سوشل میڈیا پر بات چیت تو تھی لیکن یہ پہلے فیس ٹو فیس ملاقات تھی
ریحان بھائی سے اللہ والا نام کے بارے میں استفار کیا کہ یہ آئیڈیا ان کے ذہن میں کیسے آیا اور اس مخصوص نام کا مقصد کیا ہے ؟
انہوں نے بتایا دینا کی آبادی چھ سات ارب ہے اور آپ جیسا نام کے سینکڑوں ہزاروں لوگ دنیا میں موجود ہوتے ہیں گوگل یا سوشل میڈیا میں آپ کو سرچ کیا جائے تو آپ کا نام الگ سے نہی ملے گا لیکن اگر آپ کا نام سب سے الگ ہوا تو فورا تلاش کیا جاسکتا ہے
فیس بک اور سوشل میڈیا کی طاقت اور اسکے مثبت استعمال پر بھی ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی کہ یہ ٹول ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہی ہم دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے لیکچرز اور کتب مفت پاکستان میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں سن سکتے ہیں دنیا کے دیگر ممالک کے لوگوں سے براراست گفتگو کرکے معلومات حاصل کر سکتے ہیں آنے والے دنوں میں مزید لوگ موبائل سے جڑیں گے اور روز مرہ کے معاملات میں بھی اس ٹکنالوجی سے مستفید ہوں گے اسلئے ہمیں اپنے لوگوں کو اس کے موثر استعمال کی تربیت دینی ہو گی
اسی مقصد کےلئے ریحان بھائی نے پانچ سو میوچل فرینڈ کا ایک ترغیبی پروگرام کا اعلان کر رکھا تھا کہ جس فرد کے ان کے ساتھ پانچ سو مشترکہ دوست ہوں گے اس کو لیپ ٹاپ مفت دیا جائے گا بعد میں اس تعداد کو آٹھ سو اور پھر بارہ سو کر دیا گیا اس نیٹ ورکنگ کا مقصد ہم خیال افراد کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کو تیز کرنا تھا

img_1455

img_1441

صوبہ خیبر کے سینئر وزیر بنے ہمارے مہمان

صوبہ خیبر کے سینئر وزیر بنے ہمارے مہمان

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط اڑتیس
—————————————-
جون دو ہزار چودہ 2014 میں سوشل میڈیا پر ہمارے دوست فضل حسن ہادی سابق پرسنل سیکڑی قاضی حسین احمد مرحوم جو آجکل ناروےاسلامک سینٹر میں خدمت سرانجام دے رہے ہیں نے رابطہ کرکے بتایا کہ صوبہ خیبر کے سنئیر وزیرو وزیر بلدیات اور جماعت اسلامی کے راہنما برادر عنایت اللہ خان بلدیاتی نظام کے سلسلہ میں منعقد والے ایک کورس میں شرکت کےلئےاسپین آرہے ہیں اور اس کورس کے دوران جو فارغ وقت ہو گا اس میں اسپین کے تاریخی اسلامی مقامات کی سیر میں دلچسپی ہے ان کی
عنائت الللہ خان اعلی تعلیم یافتہ اور با صلاحیت نوجوان ہیں جن کی کارکردگی دیگر تمام وزرا سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ پوری پلاننگ سے ہر محکمہ کی خود نگرانی کرتے ہیں
ان کو مسجد قرطبہ اور مدینہ الزرہ کی سیر کروائی اور الحمرہ غرناطہ دیکھایا ان کو پنجاب کے روایتی دیسی ناشتہ چنے اور پراٹھہ سے خدمت کی جس کو ان سمیت انکے سیکٹریز نے خوب انجوائے کیا اسپین کی ورکشاب میں پھیکے کھانے کھا کھا کر وہ تنگ آئے ہوئے تھے اسلئے ہمارے دیسی کھانے انکے لئے کسی نعمت سے کم ثابت نہ ہوئے
بارسلونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ان کی ملاقاتوں اور خطاب کےلئے وہاں کے دوستوں سے رابطہ کیا اور وہاں ان کے فارغ وقت میں بارسلونا قونصلیٹ کے اتاشی جناب اسلم غوری صاحب سے ملاقات اور کمیونٹی کو درپیش مسائل پر ان کو بریفنگ کا اہتمام کیا گیا
اس دوران ان سے خیبر میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی حکومت کی کاکردگی کے بارے میں بھی تفصیلی بات چیت ہوئی
ان دنوں وہ نئے بلدیاتی نظام کو وضح کرنے میں مصروف تھے انہوں اس نئے نظام کے متعلق تفصیل سے بتایا کہ اختیارات اور فنڈز کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا یہ نظام ایک بہترین نظام ثابت ہو گا
دوسرا کرپشن کی روک تھام کےلئے اپنائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹھیکوں کے نظام کو آن لائن کر دیا گیا ہے جس سے شفافیت بڑھ گئی ہے اور اس سے ریوینو میں بھی کئی سو اضافہ ہوا ہے
انکے ساتھ انے والے سرکاری اہلکاروں کے مطابق ان سے پہلی حکومت میں وزیر کی میز پر فائل پہنچانے کےلئے رشوت لی جاتی تھی جو کہ اب بلکل ختم کر دی گئی ہے
جماعت اسلامی کے نوجوان اعلی تعلیم یافتہ وثرنری لیڈر سے براراست ملاقات کرکے خیبر اور پاکستان اور جماعت اسلامی کی سیاست پر سوال جواب کرکے معلومات میں کافی اضافہ ہوا

img_1439

img_1438

جب ہم بنے اسپینیش

جب ہم بنے اسپینیش

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط سینتیس
—————————————-
اسپین کا قانون ہے کہ دس سال قانونی قیام کے حامل فرد کو اپنی قومیت دے دیتا ہے ان کی پرانی کالونیوں یعنی لاطینی امریکہ کےلئے یہ مدت تین سال ہے
دو ہزار دس کے وسط میں میں ہماری یہ مدت پوری ہو چکی تھی لیکن اپنے کام کاجوں میں مصروفیت کی وجہ سے اور کچھ سستی کی وجہ سے ہم نے قومیت لینے کی درخواست 2012 میں جا کر دی،
اسپین کی نوکرشاہی پاکستانی نوکر شاہی کی طرح سست ہے دفاتر میں کام اپنی مرضی سے کرتی ہے ایسی درخواستوں کو نپٹاتے کئی بار دو سے تین سال کا عرصہ لگ جایا کرتا ہے
تمام قانونی کاغذات مکمل کرکے جمع کروا دئیے گئے جن میں اپنے قیام کے دس سال کا ثبوت اور پاکستان سے نقل پیدائش اور کریکڑ سرٹیفیکٹ وغیرہ شامل تھے کاغذات جمع کرتے وقت ڈسک پر موجود فرد نے چند بنیادی سوالات پوچھے
اب قومیت اپلائی کرنے سے پہلے اسپینیش ثقافت و کلچر کا امتحان اور اسپینش زبان کا امتحان پاس کرنا پڑتا ہے دو ہزار بارہ میں ایسا کوئی قانون موجود نہی تھا
کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل ڈیڑھ سال تک جاری رہا اس دوران خفیہ پولیس اہلکار انٹرویو کرنے بھی آئے
اسپین میں پینتیس سال آمرانہ دور حکومت میں عوام کو کنڑول کرنے کےلئے اس وقت کے آمر جنرل فرانکو نے خفیہ پولیس کا جال بچھا رکھا تھا جمہوری حکومت آنے کے باوجود خفیہ پولیس کا محکمہ اسی طرح متحرک ہے
انٹرویو کرنے والے اہلکاروں کی اوکے کی رپورٹ کے بعد قومیت کا عمل مکمل ہوا اور منظوری کا خط وصول کیا
اس کے بعد اسپینش شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کےلئے پولیس کے متعلقہ دفتر گیا
اسپین کے قانون کے مطابق آپ کے نام کے تین حصے ہوتے ہیں جو کاغذات پر لکھنے ضروری ہوتے ہیں ایک آپکا اپنا نام اور ایک والد کا نام اور ایک والدہ کا ، ہر نئے بچے کے اندراج کے وقت نام ایسے ہی رجسڑ کیا جاتا ہے
ہماری طرح مدت قیام کی بنیاد پر قومیت لینے والوں کے اگر دو نام ہوں تو تیسرا کاغذات سے والدہ کا نام وہ خود ہی پڑھ کر فارمز میں لکھ دیتے ہیں
پاکستانیوں کی اکثریت کے نام کے دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں جیسے عمران علی یا خالد محمود ایسے پاکستانیوں کے والدہ کے نام کا آخری حصہ بی بی یا بیگم کو ان کے نام کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے یوں نئے نام عمران علی بیگم اور خالد محمود بی بی لکھے جاتے ہیں
ایسے کئی پاکستانیوں کے پاسپورٹ دیکھے اور نام سن رکھے تھے ہمارا نام قدرتی طور پر پہلے سے ہی تین حصوں پر مشتمل تھا محمد فیاض احمد اسلئے ہم نے فارم مکمل کئے تو ہم نے اس کو ایسے ہی لکھا کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے والے نے والدہ کا نام لگانے کی کوشش کی تو ہماری مداخلت پر وہ باز آ گیا
پاکستانیوں کی اکثریت زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے اسپینیش آئین و قانون میں دئیے گئے حق کو بھی حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں حالانکہ اسپین کے قانون میں نئی قومیت اختیار کرنے والے والدہ کے نام کی بجائے دوسرا نام رکھنے کا حق رکھتے ہیں چونکہ زبان پر عبور اور قانون سے آشنا نہی ہوتے اسلئے وہ ایسے صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں
نیا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ایک ہی دن بنا لائن میں لگے فورا وہیں پولیس اسٹیشن میں لگی پرنٹنگ مشین پر پرنٹ کرکے دے دیا گیا اس سے پہلے غیر ملک ریذیڈنٹ کارڈ پرنٹ کرنے کےلئے تیس دن کا دورانیہ لیا جاتا تھا
اسپینش قومیت ملتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ عملہ کا رویہ اور کارکردگی پہلے سے کہیں بہتر ہے جس کا ہم نے بحثیت غیر ملکی سامنا کیا تھا

انور مسعود و امجد اسلام امجد کا دورہ قرطبہ

انور مسعود و امجد اسلام امجد کا دورہ قرطبہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط چھتیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد قرطبہ کو دیکھنے کےلئےاکثر پاکستانی قرطبہ آتےرہتے ہیں ان میں کئی کی میزبانی کا شرف ہمیں حاصل ہوتا رہتا ہے ان میں سرکاری اہلکار تو پاکستان سے یورپ میں حکومتی خرچ پر کورسسز کرنے آئے ہوتے ہیں وہ بھی شامل ہیں اورانگلینڈ میں بسنے والے پاکستانی بھی شامل ہیں
کئی بار مزاقا
ہم ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ کاش ہمارے بس میں ہو تو مسجد قرطبہ کو کسی اور شہر میں منتقل کر دیں تاکہ روز روز آنے والے مہمانوں سے جان چھوٹ جائے
بعض دفعہ اپنے کام کاج چھوڑ کر ان مہمانوں کی میزبانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن دوسری جانب اسی مسجد قرطبہ کے طفیل کئی علما شعرا سیاسی راہنماووں اور اعلی سرکاری اہلکاروں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوجاتا ہے جو عام حالات میں ہمیں شاید کھبی نصیب نہ ہوتا
ایسی ہی شخصیات میں پاکستان کے مشہور پنجابی شاعر انور مسعود اور اردو زبان کے نامور شاعر اور ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد بھی شامل ہیں جن کے ہمرا پھالیہ کے غزالی اسکولز سسٹم کے چیرمین اور شاعر ضیغیم مغیرہ صاحب اور پنجاب یونیورسٹی یونین کے سابو صدر و الفلاح اسکالر شب برائے طلبا کے چیرمین عبدالشکور صاحب بھی شامل تھے
یہ سن دو ہزار گیارہ کی بات ہے 2011
انور مسعود صاحب سے گفتگو میں برارد اعجاز احمد نے پوچھا کہ آپ نے یورپ کے متعدد ممالک کے دورے کیے آپ نے ان کی ترقی کے راز اور ہمارے ملک کی ناکامی کی کون سی وجوہات کو سمجھتے ہیں ؟
انور مسعود صاحب نے کہا کہ گوری چمڑی ہونے سے ان کے زیادہ عقل مند ہونا ثابت نہی ان کے بڑوں نے کچھ اصول و ضوابط بنا کر ان پر عمل کیا اسلئے کامیاب رہے ہمارا ملک ابھی اتنا پرانا نہی نوزائیدہ ہے قوموں کو بنتے صدیاں لگتی ہیں پاکستان ابھی ستر سال پرانا ہے اسلئے بہت زیادہ مایوس نہی ہونا چائیے ہم نے کافی چیزیں حاصل بھی کی ہیں
میڈیا اور پاکستان کی نظریاتی شناخت کے حوالہ سے امجد اسلام امجد اور انور مسعود کا کہنا تھا کہ ہمارا میڈیا قوم کی ترجمانی نہی کرتا یہ چند افراد کا یرغمال ہے جو اپنی مرضی کا کلچر پروان چڑھانا چاہتے ہیں
دونوں شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تو اندازہ ہوا کہ بلکل سادہ طبیعت کے ہیں ان میں احساس تفاخر نہی پایا جاتا امجد اسلام امجد نے پاکستان واپسی پر اپنے دورہ قرطبہ پر کالم بھی لکھا جس میں ہماری میزبانی کا شکریہ بھی ادا کیا

img_1302-1

img_1300-1

قرطبہ میں پاکستانی کمیونٹی اور اسکی سرگرمیاں

قرطبہ میں پاکستانی کمیونٹی اور اسکی سرگرمیاں

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط پینتیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ہزار ایک سے دو ہزار سات تک ہم تقریبا ہر سال پاکستان اپنے والدین و بیوی بچوں سے ملنے جاتے تھے دو ہزار آٹھ کے وسط میں بھی ہم چھٹیوں کے سلسلہ میں پاکستان مقیم تھے آٹھ اکتوبر کی صبح آٹھ بجے کے قریب والدہ کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کرسی ہلنا شروع ہوئی اور کچھ سیکنڈ میں کمرہ کے در و دیوار بھی گھومتے نظر آئے اتنے میں والدہ کلمہ شریف کا ورد کرنی لگیں اور ہمیں کہنے لگیں باہر بھاگو باہر بھاگو
چند لمحے کا یہ زلزلہ تھماتو میں نے والدہ سے کہا آپ خود زمین پر بیٹھی ہم کو باہر جانے کی ہدایت کر رہی تھیں اگر چھت گرنا تھی تو آپ تو وہیں فرش پر بیٹھی تھیں لیکن ماں کی ممتا ہمیشہ اپنی ذات پر اپنی اولاد کو ترجیح دیتی ہے ان کا اچانک ناگہانی میں خود کو بچانے سے پہلے اپنی اولاد کو بچنے کی ہدائت بھی اسی ممتا کا فطری ردعمل تھا
ٹی وی لگا کر خبریں سنیں تو شیخ رشید صاحب سب کچھ اچھا ہے کی خوشخبری سنا رہے تھے لیکن جیسے وقت گزرتا گیا زلزلہ کی تباہی کی خبریں بڑھتی جا رہی تھیں کشمیر اور خیبر میں ہزاروں لوگوں کے شہید ہونے کی خبریں آنا شروع ہوگئیں
زلزلہ کے تیسرے دن دینہ سے امداد سامان لے کر ضلع باغ کے متاثرہ علاقہ میں پہنچا تو زلزلہ سے متاثرہ اسکول اور کالج دیکھے زلزلہ میں زیادہ تر سرکاری عمارات گری تھیں اور شہید ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی کچھ دن پاکستان رہنے کے بعد اسپین واپسی ہوئی اور غم روزگار میں محو ہوگئے
اس دوران ہمارا کاروبار کافی مستحکم ہو چکا تھا اور اندلس کے چار اضلاع میں ہم نے اپنے اسٹوربنا لئے تھے جہاں سے ان اضلاع میں کباب کی پراڈکٹس سپلائی کیا کرتے تھے
اسی سال ہم نے قرطبہ میں پاکستانیوں کے مسائل کے حل اور میت کو پاکستان روانہ کرنے کےلئے پاکستانی ایسوسیشن کی بنیاد رکھی یوں تو درجن بھر پاکستانی 1990سے قرطبہ میں مقیم تھے اور 2000 میں مزید لوگ بھی آ گئے تھے لیکن کوئی باقاعدہ منظم پلیٹ فارم موجود نہی تھا جو پاکستانی کمیونٹی کو یکجا کرتا اور مسائل کے حل کےلئے کوشش کرتا
اس ایسوسیسشن کے قیام کے بعد پاکستانی ایمبیسی سے روابط بنے اور انہوں نے میت کی پاکستان منتقلی اور پاسپورٹ کے مسائل کے حل کےلئے تعاون کی بھرپور یقین دہانی کروائی گزشتہ کئی برس سے اس ایسوسیشن کے زیراہتمام چودہ اگست کی تقریب منعقد کی جاتی ہے اور پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات کے مواقع ہر فنڈ اکھٹا کرکے پاکستان روانہ کیا جاتا ہے دو ہزار دس کے سیلاب میں ہم نے تقریباچودہ ہزار یورو جمع کئے جو کمیونٹی کی تعداد کے لحاظ سے ایک بڑی رقم تھی پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ ہمارے ساتھ کام کرنے والی اسپینیش اور ترک کمپنیوں نے بھی اس میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا