Browsed by
Category: شخصیات

نظام ریاست کی تبدیلی کا درست طریقہ اور سید مودودی

نظام ریاست کی تبدیلی کا درست طریقہ اور سید مودودی

پاکستان میں نظام حکومت بدلنے کا درستہ طریقہ کار اور سید ابوعلی مودودی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ محمد سعید کی تنظیم جماعت الدعوہ نے پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر حصہ لینے کےلئے ملی مسلم لیگ کے نام سے پلیٹ فارم تشکیل دے دیا
انیس و چھیاسی سے حافظ صاحب اور انکے رفقا پاکستان کے اندر تعلیمی اداروں اور دعوت اور فلاح اور جہاد کے میدانوں میں کام کررہے تھے اور اس وقت سے اب تک ان کا یہ موقف تھا کہ الیکشن کا راستہ درست راستہ نہی اسکے زریعہ اسلامی معاشرہ و نظام ریاست اسلامی نہی بنایا جاسکتا
تیس بتیس سال کے تجربات کے بعد وہ اس نقطہ پر پہنچے ہیں جو آج سے ساٹھ سال قبل مولانا سید ابواعلی بیان فرما گئے تھے جس کی تفصیل درج ذیل ہے

جماعت اسلامی نے تشکیل پاکستان کے فورا بعد قرار داد مقاصد پاس کروانے کےلئے باقاعدہ مہم چلائی جس کے نتیجہ میں اس کے امیر سید مودودیو دیگر قیادت کو قید کر دیا گیا
لیکن جماعت اسلامی نے مملکت کو آئینی و قانونی طور مسلم ریاست بنانے کی یہ جہدو جہد جاری رکھی
اور بارہ مارچ انیس انچاس 12.03.1949 کو آئین ساز اسمبلی نے متفقہ قرارداد پاس کر لی جس کے مطابق مملکت پاکستان کا آئیندہ نظام مغربی جمہوریت کی بجائی اسلامی جمہوریت کی بنیاد پر ہوگا اس قرار داد میں یہ تسلیم کیا گیا کہ حاکمیت کا اختیار رب کی پاس ہیں اور بطور خلیفہ ہم ان اختیارات کو بزریعہ منتخب جمہوری پارلیمنٹ کے زریعہ استعمال کرکے مسلمانان پاکستان کو اسلامی معاشرہ قائم کرنے کےلئے ماحول فراہم کریں گے
اس قرارداد کے پاس ہونے پر سید مودودی نے ایک تاریخی جملہ کہا, آج ریاست پاکستان نے آئینی طور پر کلمہ پڑھ لیا ہے اب یہاں ہماری آئیندہ جہدوجہد اس اس ریاست کے آئین کے تابع ہوگی
اسی بنیاد پر جماعت اسلامی نے باقاعدہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے کئی ارکان نے اس فیصلہ سے اختلاف کا اظہار کیا جن میں ارشاد احمد حقانی اور ڈاکڑ اسرار احمد جیسی شخصیات شامل تھیں
سید مودودی نے بمقام ماچھی گوٹھ جماعت اسلامی کے ارکان کا اجتماع بلا کر اپنا موقف تفصیل سے بیان کیا جسے ارکان کی اکثریت نے قبول کیا جس کے بعد جماعت اسلامی نے اس کو اپنی مستقل پالیسی کے طور پر اپنا لیا اس اجتماع میں کی جانے والی مولانا سید ابوعلی مودودی رح کے تقریر ؛تحریک اسلامی کا آئیندہ لائحہ عمل؛ کے نام شائع کی گئی ہے
جماعت اسلامی کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست پاکستان کے نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں نے پر امن آئینی زرائع کو اختیار کیا اسی پالیسی کے نتیجہ میں انتہا پسندانہ خیالات کاتدراک ہوا جو نظام حکومت کو بزریعہ طاقت یا کسی خفیہ تحریک چلانے کو درست راستہ سمجھتے تھے
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں کئی گروہ خفیہ تحریک یا مسلح جہدوجہد کے زریعہ اپنے ممالک میں نظام ریاست کو تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں اسلامی سوچ رکھنے والوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ریاست پاکستان نے چونکہ آئینی طور پر کلمہ پڑھا رکھا ہے اس کے آئین کے دیباچہ میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اسلئے یہاں جو جہدوجہد بھی کرنی ہے وہ اس آئین کے تابع ہی کرنی چائیے جب کھبی بھی کوئی گروہ اس فکر سے روح گردانی کرتے ہوئے ریاست کیخلاف مسلح یا خفیہ جہدوجہد کرنے کی کوشش کرتا ہے پاکستان کی تمام دینی تنظیمیں اور علما ان کی اس کوشش کو رد کرتے ہیں
از قلم فیاض قرطبی

img_3181

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا؟

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا؟

لیموں پانی بیچنے والے کےلئے عوام نے اپنا خون کیوں پیش کیا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مسجد مکتب یعنی مدرسہ میں پڑھنے کے بعد وہ شہر میں لیمن پانی اور برگر بند بیچتا تھا کیونکہ اسکی فیملی اتنی امیر نہی کہ اس کے اخراجات پورے کر سکے اسکول سے کالج کا سفر یوں ہی جاری رکھا ساتھ نوجوانوں کی سیاسی تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تاکہ مل جل کر اپنے جیسوں اور ملک کا مستقبل سنوارنے کی جہدوجہد میں اپنا حصہ ڈال سکے
نوئے کی دہائی میں جب شہر میں بلدیاتی انتخاب ہوئے تو اسکی پارٹی نے اسے شہر کا مئیر نامزد کر دیا
چند ماہ میں اس نے شہر میں ایسی اصطلاحات نافذ کیں جن سے شہریوں کی زندگیاں آسان ہونے لگ پڑیں اسنے شہر میں سرکاری ارزاں نرخوں والی بیکریاں قائم کیں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنا دیا
اسکی سیاسی مقبولیت عروج پر جا پہنچی جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ کی گھنٹی لگی
اسے یہ نظم
مساجد ہمارے بنکر ہیں
مینار ہمارے مورچے ہیں
مومنین ہمارے سپاہی ہیں

پڑھنے پر چار ماہ کی جیل جانا پڑا اور سیاسی پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور سیاسی پارٹی جس کے پلیٹ فارم سے مئیر بنا تھا پر پابندی عائد کر دی گئی
اس نے سمجھ لیا کہ فوجی سیکولر اسٹبلیشمنٹ سے مقابلہ کرنے کےلئے وسیع عوامی حمایت کی ضرورت ہے اور یہ کام بتدریج کرنا ہے
پھر اسنے نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کے انصاف کی ہر سطح ہر میدان میں فراہم کو اپنا منشور بنایا
اس سیاسی جماعت نے پہلے الیکشن میں بہت زیادہ کامیابی حاصل نہ کی لیکن دیگر جماعتوں سے اتحاد کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا
اور اگلے انتخابات میں اس نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرلی اور پھر ہر آنے والے دن اس کی پارٹی پہلے سے زیادہ کامیابی حاصل کرتی گئی اس نے معاشی اصطلاحات کرکے ٹرانسپورٹ کا جدید نظام متعارف کروایا معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی منصوبہ بندی کروائی اسطرح عوام کا معیار بہتر ہو گیا

اسنے اس دوران بتدریج فوجی اسٹبلیشمنٹ کے پر کاٹنے شروع کر دیا عوامی حمایت اور تائید کی مدد سے فوج کو آئین کا تابعدار بننے پر مجبور کر دیا
لیکن جس شیر کے منہ کو خون کی عادت ہو وہ بھلا سبز چارہ کب تک کھائے گا
فوجی اسٹبلیشمنٹ نے آج کے دن پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کو جب وہ چھٹیاں گزارنے ایک جزیرہ پر گیا ہوا تھا بغاوت کا اعلان کر دیا اور سڑکوں اور اہم تنصیبات پر فوجی تعینات کرنے کے احکام صادر کر دئیے
اسے جیسے خبر پہنچی اس نے اسی وقت بزریعہ ایک نجی چینل عوام سے باہر نکل حکومت کو بچانے کی اپیل کی
عوام نے جیسے ہی اپنے محبوب راہنما کا پیغام سنا تو سڑکوں پر نکل آئی فوجیوں نے عجب نظارہ دیکھا کہ ٹینکوں کے آگ نوجوان لڑکے لڑکیاں لیٹ گئے اور سرکاری تنصیبات جہاں باغی فوج نے قبضہ کرنے کی کوشش کی وہاں پہنچ کر ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے
فوجی اسٹیبلشمنٹ حیران ہو رہی تھی کہ اس سے پہلے بھی فوج نے اقتدار پر قبضے کئے لیکن کھبی ایسی عوامی مزاحمت نہ پیش آئی اس دفعہ تو عوام نے گولیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کا راستہ روکا یہ اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا تھا کہ عوام اتنی بڑھ تعداد میں باہر نکلے یوں باغی ٹولہ کو قابو کر لیاگیا
وہ شہر میں لیمو پانی بیچنے والا نوجوان سے ملک کا صدر بنا اپنی محنت صلاحیت اور اپنے بلند نظریہ حیات کی بنیاد پر
رجب طیب اردگان تجھے سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،
15/07/2016 کی ناکام بغاوت کی یاد میں لکھی گئی تحریر

از قلم فیاض قرطبی

img_2969

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

قرطبہ میں موسم گرما شروع ہو چکا ہے یہاں درجہ حرارت جون جولائی میں چالیس سے پینتالیس فارن ہائیٹ تک جا پہنچتا ہے
پچھلے چند دن سے گرمی کی وجہ سے طبعیت کچھ ناساز ہو رہی تھی کچھ دن تو گھریلو ٹوٹکے آزماتا رہا لیکن افاقہ محسوس نہ ہوا تو ایک دن سحری کے وقت مقامی ہسپتال کی ایمرجنسی سروس کے کونٹر پر جا پہنچا اور وہاں اپنی باری کا انتظار کرنے لگا
ہلکی سی غنودگی چھا رہی تھی ایسے میں مجھے ایک عربی چوغے میں ایک مسلم عرب بزرگ اپنی طرف آتے محسوس ہوئے جو قریب آ کر میرے پاس ہی تشریف فرما ہوگئے اور میرے چہرے پر درد کی شدت کا اندازہ لگا کر مجھے سےمتکلم ہوئے
مافی مشکل ؟
یعنی کیا مسئلہ ہے
میں عربی سن کر تھوڑا سا حیران و پریشان ہوا لیکن پھر سوچا چونکہ اسپین میں لاکھوں مراکشی عرب مسلمان لوگ باسلسلہ روزگار رہائش پزیر ہیں یہ بابا جی ان میں سے ایک ہوں گے
اسکول میں عربی پڑھی ہوئی تھی اور کچھ یہاں ان کے ساتھ کام کر کے اتنی سیکھی ہوئی تھا کہ ابتدائی گفتگو سمجھ جاتا ہوں
میں نے بابا جی کو بتایا کہ الم فی المعدہ یعنی پیٹ میں درد ہے
بابا جی نے اپنا تعارف شروع کروا دیا
انا طبیب سلیمان بن حسان ابن جلجل انا طبیب الخاص الخلیفہ ہشام کہ میرا نام سلیمان بن حسان عرف ابن جلجل ہے اور میں خلیفہ ہشام کاطبیب خاص ہوں میری پیدائش 944 میں قرطبہ میں ہوئی اور میں نے طب کی تعلیم مکمل کرنےکےبعد قرطبہ میں طب کی تعلیم دینا شروع کر دی تھی اور ساتھ طب کے زریعہ عوام کا علاج معالجہ بھی
اس دوران میں نے حکما اور اطباء کی تاریخ پر ایک مفصل کتاب بھی لکھی
طبقات الاطبا و حکما
کے نام سے جس میں یونانی ادوار سے لے کر دسویں صدی تک کے حکیموں اور طبیبوں کے حالات پر لکھا تھا طب کی دنیا کی دوسری پرانی کتاب تسلیم کی جاتی ہے یہ کتاب
اس میں اطبا کی سوانح حیات کے ساتھ ساتھ میں نے طب کے عروج و زوال کی وجوہات پر اپنے خیالات قلمبند کئے تھے
میں نے کئی امراض کی اداو بھی خود تیار کی تھیں
میرا ایک ایک شاگرد طلطلیہ میں بہت مشہور طبیب ہے جسکا نام ابن البغوش ہے
میں عالم غنودگی میں بابا جی کی بات سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد ڈاکڑ کے کمرے سے اگلے مریض کو طلب کرنے کی گھنٹی بجی تو میری غنودی ایک دم رفوع چکر ہوئی آنکھیں کھلیں تو اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو کوئی بابا نظر نہ آیا ایک تخیل ذہن میں آیا کہ پچھلے دنوں تاریخ اندلس کا جو مطالعہ کیا اس میں اندلس کے طبیبوں کا جو تزکرہ پڑھا شاید وہی میرے تحت الشعور میں محفوظ تھا جو عالم غنودگی میں میری نظروں کے سامنے بابا جی کی شکل میں گفتگو کرتا دیکھائی و سنائی دیا تھا

img_2766-1

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

کل شام گھر سے کام پر جانے کےلئے نکلاجو قرطبہ شہر سے زرا ہٹ کر صنعتی علاقہ میں واقع ہے ہمارا دفترشہر سے پانج سے سات کلو میٹر کی مسافت پر ہے
راستہ میں جاتے ہوئے ہوئے دائیں بائیں ہرے بھرے کھیت اور قطار اندر قطار لگے درختوں پر موسم بہار کے کھلے رنگ برنگے پھول دیکھ کر فرحت کا احساس ہوا ۔
اسپین ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی زمین کافی زرخیز ہے جب بھی آپ اس کی سڑکوں پر سفر کریں گے تو دائیں بائیں ہرے بھرے کھییت یا پھلوں کے درخت یا زیتون کے درخت نظر آئیں گے
اچانک میری نظرکھیتوں کے ساتھ جاتی پگڈنڈی پر پڑی تو عربی چوغہ میں ملبوس ہاتھ میں کپڑے کا تھیلہ اٹھائے ایک بابا جاتا نظر آیا اس کے لباس سے ایسے محسوس ہوا جیسے زمانہ قدیم کا کوئی عرب مسلم ہے
ہم نے کچھ آگے جا کر گاڑی کھڑی کی اور بابا کی جانب چل پڑے قریب جاکر سلام کیا تو بابا جی جو اپنی دھن میں سوچوں میں مگن جا رہے تھے نے حیرت سے ہمیں نیچے سے اوپر تک دیکھا ہمیں پینٹ شرٹ میں ملبوس دیکھ کر شاید انہیں حیرت ہوئی تھی میں نے اسپینش زبان میں پوچھا بابا جی کہاں سے آئے اور کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ بابے جی آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھ رہے تھے مجھے لگا کہ انہیں اسپینش نہی آتی پھر انگلش میں سوال کیا لیکن بابا جی ٹک ٹک دیدیم کی مانند جامد کھڑے رہے
آخری حربے کے طور پر ہم نےعربی میں پوچھا من انت ؟
بابا جی عربی سن کر جیسے ہوش میں آگئے اور کہنے لگے اسمی ابو ذکریا یحیحی ابن احمد المعروف ابن العوام
اشبیلیہ Sevilla کا رہنے والا ہوں اور قرطبہ کے علاقہ سے کچھ بیج اور پودے لینے آیا ہوا ہوں
اندلس کی تاریخ کے متعلق کتب پڑھنے کا ہمیں شغف ہے ہم نے اندلس کی زراعت کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پر جو کتب پڑھ رکھی تھیں ان میں یہ نام کچھ جانا پہچانا سا لگا میرے ذہن میں ایک عجیب کشمکش چل پڑی کہ آیا میں سفر کرکے قدیم وقت میں چلا آیا ہوں یہ بابا جی نئے زمانہ میں آ گئے ہیں
ٹوٹی پھوٹی عربی میں بابا جی سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں مشاغل کیا ہیں تو وہ گویا ہوئے
میں بنیادی طور پر ایک زراعت دان ہوں اشبلیہ میں کھیتوں میں مختلف پودوں اور سبزیوں کو اگانے اور ان کی پیداوار بڑھانے پر تجربات کرتا ہوں اور افریقہ اور ایشیا سے نئی فصلوں کے بیج منگوا کر انہیں اسپین میں اگانے کی کوشش کرتا ہوں
اس سلسلہ میں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے (کتاب الفلاحہ ) جس میں زمین کو زرخیز بنانے کے طریقہ اور مختلف پودوں کی پیوند کاری کے طریقے بیان کیے گئے ہیں اسکےعلاوہ جنگلی زیتون کو گھریلو زیتون کی پیوند کاری اور انجیر کے درخت کی کاشت کیسے کی جائے پر بھی میری تحقیق اس میں لکھی ہے
میری اس کتاب میں انیس سو پودوں اور فصلوں کا ذکر ہے ان میں سے کچھ تحقیق میں نے یونانی کاشتکاروں کی لکھی کتب سے لی ہیں اور کچھ تجربات کرکے دریافت کی ہیں
میں بابا جی کی بیان کی گئی معلومات پر حیران ہوا اور انہیں بتایا کہ آپ کی اس علم اور تجربات کی بدولت آج اسپین فروٹ اور سبزیاں پورے یورپ میں ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن چکا ہے
بابا جی کہنے لگے کہ میری کتاب میں آخری چیپڑ جانوروں کی افزائش نسل کے متعلق ہے جن میں گھوڑے بکری کبوتر مرغی وغیرہ شامل ہیں
میں تخیلات میں کھو گیا کہ اندلس کے مسلم دور حکومت میں نامور سپہ سلاروں کے ساتھ علما و مفکرین کے علاوہ ایسے محقیقین کا بڑا اہم کردار رہا ہے جہنوں نے فلکیات سے زراعت تک نت نئی دریافتیں کرکے اندلس کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آنے والی نسلوں کےلئے علمی ذخیرہ چھوڑا جس سے اہل یورپ نے مستفید ہو کر ترقی کی منزلیں طے کیں
تخیلات سے باہر نکلا تو بابا جی کو سامنے سے غائب پایا شاید ابن العوام مجھے اندلس کے درخشاں ماضی سے روشناس کروانے کےلئے ہی چند لمحوں کے لئے حاضر ہوئے تھے اور پھر سے غائب ہو گئے
اور ہم اپنے روٹین کے کام کےلئے محو سفر ہوگئے
از قلم فیاض قرطبی

img_2688

img_2687

img_2685

img_2686

اندلس کی نشاط ثانیہ کا خواب دیکھنے والا مفکر

اندلس کی نشاط ثانیہ کا خواب دیکھنے والا مفکر

دس اپریل دو ہزار ایک کو مشہورمسلم مفکر علی کیتانی کی وفات بمقام قرطبہ
علی کیتانی مراکش کے ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جہنوں نے روایتی دینی تعلیم اپنے بزرگوں سے ورثے میں حاصل کی اور جدید علوم امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں سے حاصل کی اور سائنس میں پی ایچ ڈی کی
اس کے بعد سعودیہ سمیت دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پروفیسر رہے اور لیکچر دئیے
انیس ستر کی دہائی میں شاہ فیصل کو اسپین کے حکمران جنرل فرانکو نے پیش کش کی کہ مسجد قرطبہ کو مسلمان سنھبال لیں شاہ فیصل نے علی کیتانی کو بطور اپنا نمائیدہ اسپین بھیجا
یہاں آکر ان کو معلوم ہوا کہ مسجد قرطبہ قانونی طور پر ویٹی کن چرچ کی ملکیت ہے فرانکو کو یہ اختیار ہی نہی اسکے بارے میں کوئی فیصلہ کرے
علی کیتانی نے کئے علمی مضامین عالمی رسائل میں لکھے جن میں دو بہت مشہور ہیں
یورپ میں مسلم اقلیتیں
امریکہ کی دریافت واسکڈے گاما کی بجائےمسلمانوں کے دور میں

علی کیتانی نے قرطبہ سمیت اندلس میں ماضی میں زبردستی عیسائی کئے اسپینشوں کو دوبارہ مسلمان کرنے کی مہم کا آغاز کیا اور کچھ ہی سالوں میں سینکڑوں اسپینش مسلم ہوگئے اور مختلف شہروں میں مساجد قائم کر لیں
قرطبہ کی بلدیہ سے علی کیتیانی نے مذاکرات کرکے ایک پرانی مسجد عثمان جو اب عیسائی چرچ santa clara کے نام موجود تھی کو مسلمانوں کےلئے حاصل کر لیا
لیکن کھتولک عیسائیوں نے مئیر قرطبہ کے خلاف اتجاج شروع کر دیا پہلے تو مئیر نے چرچ کے اتجاج کا مقابلہ کیا اور اپنے فیصلے کو برقرار رکھنے کی تقرر کی لیکن ویٹیکن سے پوپ کے پریشر پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا
علی کیتانی نے موتمر عالمی اسلامی میں مسلم ممالک سے قرطبہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کےلئے فنڈ منظور کروایا اور سقوط غرناطہ پانج صدیوں بعد ابن رشد یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلم اندلس کی روشن تاریخ کو دنیا سے روشناس کروانا تھا
قدیم قرطبہ مسجد کے قریب ایک بلڈنگ خرید کر جامعہ ابن رشد قائم کی گئی جو علی کیتیانی کی وفات تک قائم رہی ان کی وفات کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا
اور یہ عمارت کئی سال بند رہی دو سال پہلے ترکی کی حکومت نے اس عمارت کو حاصل کرکے اس میں مسجد کو دوبارہ سے آباد کر دیا ہے
اندلس میں مسلمانوں کو دوبارہ سے عروج کا خواب دیکھانے اور اس کی عملی کوشش کرنے والے علی کیتانی سے ہماری ذات ملاقات نہ ہو سکی جس سال ہم قرطبہ پہنچے اسی سال انکی وفات ہوئی

img_2332

اندلس کا عاشق پاکستانی لیڈر

اندلس کا عاشق پاکستانی لیڈر

پاکستان کا لیڈر جو قرطبہ کا سچا عاشق تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس شخصیت کا تذکرہ آج کرنے جا رہا ہوں ان کی شخصیت پاکستان و افغانستان و ترکی و کشمیرمیں کسی تعارف کی محتاج نہی ان کی ساری زندگی ان ممالک میں اسلامی نظام زندگی کو قائم کرنے کی جہدوجہد میں مصروف عمل رہے جوانی سے لے کر زندگی کے آخری دم تک وہ امت مسلمہ کو غفلت سے بیدار کرنے میں مصروف رہے ان کی زندگی کےہر پہلو پر مختلف اہل قلم کی تحریریں آپ کو نیٹ پر مل جائیں گے لیکن ان کی زندگی کے جس پہلو پر آج میں قلم اٹھانے لگا ہوں اس سے پہلے اس پر کھبی نہی لکھا گیا
قاضی حسین احمد رح نے 1980میں اسپین (اندلس) کا پہلا دورہ کیا اور مسجد قرطبہ و قصر الحمرہ غرناطہ کی سیر کی اندلس میں اسلامی سلطنت کے یہ دو شہکار دیکھ کر ان کے اندر قرطبہ کی اسلامی تاریخ سے مزید محبت بڑھ گئی ان کو اس تاریخ سے آگائی اپنے زمانہ طالب علمی سے تھی اقبال کی اردو اور فارسی شاعری میں موجود نظم مسجد قرطبہ اور طارق بن زیاد کی دعا اور عبدالرحمن داخل کے اشعاروں نے اندلس کی تاریخ کےلئے انکے دل میں مستقل جگہ بنارکھی تھی جس کا ذکر وہ گاہےبگاہے کرتے
تھے

میری اس معلومات کے دو ماخذ ہیں اول ان کے دوراہ اسپین بمقام بارسلونا میں راقم خود موجود تھا جب انہوں نے اپنے پہلے دورہ اسپین کا ذکر کیا
دوئم ؛ ان کی بیٹی محترمہ سمعیہ راحیل قاضی صاحبہ نے مجھ سے گفتگو میں بتایا کہ آغاجان نے اقبال کے اشعار کے ذریعہ اپنے بچوں کے دل میں بھی مسجد قرطبہ اور اندلس کی اسلامی تاریخ سے محبت بھر رکھی تھی اندلس کے پہلے دورہ کی ان یاداشتوں کو محترمہ سمعیہ قاضی نے حال میں ماہنامہ ترجمان القران میں مضمون کی شکل میں شائع کیاہے

قرطبہ صرف ایک شہر کا نام نہی جس سے انہیں محبت تھی بلکہ قرطبہ ایک عہد کا نام ہے جو طارق بن زیاد کے اسپین میں داخلہ 712عیسوی سے شروع ہو کر ابو عبداللہ کے وقت 1492میں سقوط غرناطہ تک ہے

اس دور میں اندلس کی سرزمین پر علما فقہا ماہرین طب و ماہرین فلکیات کی بڑی تعداد پیدا ہوئی اور دنیا کو وہ علم و ہنر دیا جس سے یورپ کی علمی نشات ثانیہ ہوئی اندلس میں ایسے کتب خانے معرض وجود میں آئے جہاں لاکھوں کتب تھیں اور ایسے علمی حلقے قائم ہوئے تھے جہاں یورپ بھر سے تنشگان علم اپنی پیاس بوجھانےآتے تھے
قاضی حسین احمد مرحوم کا خواب تھا کہ پاکستان بھی مانند اندلس علم و ہنر کا گوارہ بن جائے اسلامی نظام زندگی رائج ہو جائے اس کےلئے ملک کے طول و عرض کے دورے کرتے رہے ملک میں نظام کے بدلنے کی جہدوجہد میں سسست روی کو دیکھ کر انہوں نے اپنے خواب کو ایک چھوٹے پیمانہ پر پورا کرنے کےلئےقرطبہ سٹی کا منصوبہ بنایا جو اسلام آباد کے نزدیک موٹروے کے نزدیک ہے ان کی سوچ تھی کہ ایک علم و ہنر اور تحقیق اور اسلامی معاشرت کی نمونہ بستی آباد کی جائے جس میں مسجد قرطبہ کی یاد میں جامع مسجد اور قرطبہ یونیورسٹی قائم کی جائے منصوبہ کا آغاز تو غالبا دو ہزار دو میں شروع کر دیا گیا تھا لیکن مشرف حکومت نے ان کی سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس منصوبہ کو قانونی مسائل سے دوچار رکھا قاضی حسین احمد کی وفات کے بعد منصوبہ سست روی کا شکار ہو گیا اس بحث سے قطع نظر کہ منصوبہ سست روی یا تاخیر کا شکار کیوں ہوا قاضی حسین احمد اندلس کے اس معاشرہ کو دوبارہ سے زندہ دیکھنا چاہتے تھے جب مسلمان علم و ہنر کے ہر میدان میں آگے تھے اور مسلمانو ں کے زیرحکمرانی عیسائی اور یہودی اہل علم کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی

(فیاض قرطبی)
بیاد چوتھی برسی چھ جنوری 2017

لاکھوں دلوں کو افسردہ کرنے والا جنید جمشید آخر ہمارا اس سے رشتہ کیا ہے ؟

لاکھوں دلوں کو افسردہ کرنے والا جنید جمشید آخر ہمارا اس سے رشتہ کیا ہے ؟

کروڑوں لوگوں کے دل افسردہ ہیں جس شخص کےلئے
اس شخص سے ہمارا رشتہ کیا تھا ؟

یوں تو اور بھی موسیقار فنکار کھلاڑی سیاستدان اس دنیا سے کوچ کرتے ہیں
مگر ان کے جانے پر چند سو یا چندہزار یا بہت زیادہ مشہور شخصیت ہو توچند لاکھ لوگ افسوس کا اظہار کرتے ہیں
پھر وہ کون سی نسبت ہے جسکی وجہ سے ہمارے دلوں میں اس فرد کے لئے محبت ہے اور اس کی جدائی کا احساس شدت سے ہو رہا ہے ؟

کیا اس کے گانوں کی وجہ سے ہمارے دل اس کی جانب کھینچے؟
یا اس کے کپڑوں کے برانڈ نے ہمیں اس کا گرویدہ بنایا ؟

باخدا نہی ہر گز نہی

اس سے یہ محبت الفت کی وجہ اس شخص کی سرکار دو عالم محمد عربی صلی اللہ و علیہ واسلم سے مبحت اور عشق بھری وہ نعتیں اور
دین اسلام کی تبلیغ کےلئے اپنا وقت وقف کرنا ہے
امت محمدیہ کی نسب ہےجس نے ہمارے دلوں کو موم کیا
اور جن لوگوں کے دل اس غمناک واقعہ پر بھی موم نہی ہوئے پھر ان کو اپنے دلوں کو ٹٹولنا چائیے
کہیں وہ زنگ آلود تو نہی ہو گئے

رب شہید جنید جمشید سمیت سب شہدا کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے

اور رب سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو بھی عشق مصطفی صلی اللہ و علیہ و اسلم سے مزین کردے اور اپنے دین کی سربلندی کےلئے ہم سے بھی کوئی کام لے لے آمین ثم آمین
فیاض قرطبی

img_0814