Browsed by
Category: Spain Islamic history

مذاق مہنگا پڑ گیا (اسپینش زبان سے ماخوذ

مذاق مہنگا پڑ گیا (اسپینش زبان سے ماخوذ

مذاق مہنگا پڑ گیا  (اسپینش زبان سے ماخوذ)

۔۔۔۔۔۔

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک گاوں میں ایک بڑھئی کام کرتا تھا اسے اپنے بادشاہ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا جس کا محل گاوں سے سینکڑوں میل دور شہر میں تھا اس نے کچھ عرصہ محنت کرکے کچھ پیسہ جمع کئے اور سفر پر چل نکلا 

اسکے ذہن میں بادشاہ کے قصے سن سن کر بادشاہ کے متعلق عجیب تخیلات ترتیب پا چکے تھے لیکن جب وہ شہر پہنچا اور بادشاہ کو اپنے جیسا انسان پایا تو بہت مایوس ہوا 

دوران سفر اس کی ساری جمع پونجی تقریبا ختم ہو چکی تھی بامشکل اتنی رقم بچی تھی جس سے وہ واپس پہنچ سکے

اسے بھوک لگ رہی تھی مگر وہ پیسے بچانے کےلئے برداشت کر رہا تھا اتنے میں اسکی داڑھ درد کرنے لگ پڑی 

وہ پریشان تھا کہ اب کیا کرے اگر پیسے دے کر داڑھ نکلوائے تو سفر کےلئے زاد راہ باقی نہی بچتا تھا اور اگر کھانے کےلئے کچھ خریدے تو درد کرتی داڑھ اسے کھانے نہ دی گی

اسی شش و پنج میں چلتا وہ ایک بیکری کے سامنے جا پہنچا جہاں رنگ برنگی میٹھائیاں سجی ہوئی تھیں جن کو دیکھ کر اسکے منہ میں پانی آ رہا تھا 

اسے بیکری کے سامنے حیران و پریشان میٹھائی کو گھورتے دیکھ کر پاس سے گزرے دو افراد نے اس پر آواز کسی کہ لگتا ہے میٹھائی کے بہت شوقین ہو 

اس نے جواب دیا ہاں میرا بس چلے تو پانج کلو ایک ساتھ کھا جاوں  یہ سن کر وہ اس پر ہنسنے لگے اور اسکا مذاق اڑانے لگے

دیہاتی نے ان دونوں سے کہا کہ تمہیں یقین نہی تو لگاو شرط میں ایک ساتھ دس کلو کھا جاوں گا 

انہوں نے کہا کہ اگر تم نہ کھا سکے تو ؟

دیہاتی نے کہا کہ میں ہار جاوں تو تم میری پہلی داڑھ نکال دینا

دونوں نے شرط مان لی اور دیہاتی کے سامنے دس کلو میٹھائی رکھ دی 

دیہاتی نے بامشکل  چار  چھ دانے کھائے اور کہنے لگا یہ کھانی تو مشکل ہے میں شرط ہار گیا تم میری داڑھ نکال دو

وہ دونوں دیہاتی کا مذاق اڑانے لگ پڑے اور پھر پکڑکر اسکی داڑھ نکال دی

جیسے ہی دیہاتی کی داڑھ نکلی اسکے بعد وہ ہنسنے لگا پڑا اور ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا

دونوں افرا دیہاتی کی اس حرکت سے حیران ہورہے تھے کہ کیسا بیوقوف انسان ہے ہار کر بھی ہنسے جا رہا ہے 

اتنے میں دیہاتی گویا ہوا اور بولا

کہ ہارا میں نہی ہارے تم ہو کیونکہ میں صبح سے بھوکا تھا اور میرے پاس اتنے پیسے بھی نہی تھے اور میری داڑھ بھی درد کر رہی تھی  آپ دونوں اصحاب نے میرے تمام مسئلے حل کر دئیے

یہ سن کر دو اصحاب بڑے شرمندہ ہوئے اور بیکری کا بل ادا کر تیزی سے وہاں سے بھاگ نکلے 

از قلم فیاض قرطبی

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

خلیفہ ہشام کے طبیب خاص ابن جلجل سے ایک ملاقات

قرطبہ میں موسم گرما شروع ہو چکا ہے یہاں درجہ حرارت جون جولائی میں چالیس سے پینتالیس فارن ہائیٹ تک جا پہنچتا ہے
پچھلے چند دن سے گرمی کی وجہ سے طبعیت کچھ ناساز ہو رہی تھی کچھ دن تو گھریلو ٹوٹکے آزماتا رہا لیکن افاقہ محسوس نہ ہوا تو ایک دن سحری کے وقت مقامی ہسپتال کی ایمرجنسی سروس کے کونٹر پر جا پہنچا اور وہاں اپنی باری کا انتظار کرنے لگا
ہلکی سی غنودگی چھا رہی تھی ایسے میں مجھے ایک عربی چوغے میں ایک مسلم عرب بزرگ اپنی طرف آتے محسوس ہوئے جو قریب آ کر میرے پاس ہی تشریف فرما ہوگئے اور میرے چہرے پر درد کی شدت کا اندازہ لگا کر مجھے سےمتکلم ہوئے
مافی مشکل ؟
یعنی کیا مسئلہ ہے
میں عربی سن کر تھوڑا سا حیران و پریشان ہوا لیکن پھر سوچا چونکہ اسپین میں لاکھوں مراکشی عرب مسلمان لوگ باسلسلہ روزگار رہائش پزیر ہیں یہ بابا جی ان میں سے ایک ہوں گے
اسکول میں عربی پڑھی ہوئی تھی اور کچھ یہاں ان کے ساتھ کام کر کے اتنی سیکھی ہوئی تھا کہ ابتدائی گفتگو سمجھ جاتا ہوں
میں نے بابا جی کو بتایا کہ الم فی المعدہ یعنی پیٹ میں درد ہے
بابا جی نے اپنا تعارف شروع کروا دیا
انا طبیب سلیمان بن حسان ابن جلجل انا طبیب الخاص الخلیفہ ہشام کہ میرا نام سلیمان بن حسان عرف ابن جلجل ہے اور میں خلیفہ ہشام کاطبیب خاص ہوں میری پیدائش 944 میں قرطبہ میں ہوئی اور میں نے طب کی تعلیم مکمل کرنےکےبعد قرطبہ میں طب کی تعلیم دینا شروع کر دی تھی اور ساتھ طب کے زریعہ عوام کا علاج معالجہ بھی
اس دوران میں نے حکما اور اطباء کی تاریخ پر ایک مفصل کتاب بھی لکھی
طبقات الاطبا و حکما
کے نام سے جس میں یونانی ادوار سے لے کر دسویں صدی تک کے حکیموں اور طبیبوں کے حالات پر لکھا تھا طب کی دنیا کی دوسری پرانی کتاب تسلیم کی جاتی ہے یہ کتاب
اس میں اطبا کی سوانح حیات کے ساتھ ساتھ میں نے طب کے عروج و زوال کی وجوہات پر اپنے خیالات قلمبند کئے تھے
میں نے کئی امراض کی اداو بھی خود تیار کی تھیں
میرا ایک ایک شاگرد طلطلیہ میں بہت مشہور طبیب ہے جسکا نام ابن البغوش ہے
میں عالم غنودگی میں بابا جی کی بات سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد ڈاکڑ کے کمرے سے اگلے مریض کو طلب کرنے کی گھنٹی بجی تو میری غنودی ایک دم رفوع چکر ہوئی آنکھیں کھلیں تو اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو کوئی بابا نظر نہ آیا ایک تخیل ذہن میں آیا کہ پچھلے دنوں تاریخ اندلس کا جو مطالعہ کیا اس میں اندلس کے طبیبوں کا جو تزکرہ پڑھا شاید وہی میرے تحت الشعور میں محفوظ تھا جو عالم غنودگی میں میری نظروں کے سامنے بابا جی کی شکل میں گفتگو کرتا دیکھائی و سنائی دیا تھا

img_2766-1

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

اندلس کی زراعت کے بابا آدم سے ملاقات

کل شام گھر سے کام پر جانے کےلئے نکلاجو قرطبہ شہر سے زرا ہٹ کر صنعتی علاقہ میں واقع ہے ہمارا دفترشہر سے پانج سے سات کلو میٹر کی مسافت پر ہے
راستہ میں جاتے ہوئے ہوئے دائیں بائیں ہرے بھرے کھیت اور قطار اندر قطار لگے درختوں پر موسم بہار کے کھلے رنگ برنگے پھول دیکھ کر فرحت کا احساس ہوا ۔
اسپین ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی زمین کافی زرخیز ہے جب بھی آپ اس کی سڑکوں پر سفر کریں گے تو دائیں بائیں ہرے بھرے کھییت یا پھلوں کے درخت یا زیتون کے درخت نظر آئیں گے
اچانک میری نظرکھیتوں کے ساتھ جاتی پگڈنڈی پر پڑی تو عربی چوغہ میں ملبوس ہاتھ میں کپڑے کا تھیلہ اٹھائے ایک بابا جاتا نظر آیا اس کے لباس سے ایسے محسوس ہوا جیسے زمانہ قدیم کا کوئی عرب مسلم ہے
ہم نے کچھ آگے جا کر گاڑی کھڑی کی اور بابا کی جانب چل پڑے قریب جاکر سلام کیا تو بابا جی جو اپنی دھن میں سوچوں میں مگن جا رہے تھے نے حیرت سے ہمیں نیچے سے اوپر تک دیکھا ہمیں پینٹ شرٹ میں ملبوس دیکھ کر شاید انہیں حیرت ہوئی تھی میں نے اسپینش زبان میں پوچھا بابا جی کہاں سے آئے اور کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ بابے جی آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھ رہے تھے مجھے لگا کہ انہیں اسپینش نہی آتی پھر انگلش میں سوال کیا لیکن بابا جی ٹک ٹک دیدیم کی مانند جامد کھڑے رہے
آخری حربے کے طور پر ہم نےعربی میں پوچھا من انت ؟
بابا جی عربی سن کر جیسے ہوش میں آگئے اور کہنے لگے اسمی ابو ذکریا یحیحی ابن احمد المعروف ابن العوام
اشبیلیہ Sevilla کا رہنے والا ہوں اور قرطبہ کے علاقہ سے کچھ بیج اور پودے لینے آیا ہوا ہوں
اندلس کی تاریخ کے متعلق کتب پڑھنے کا ہمیں شغف ہے ہم نے اندلس کی زراعت کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پر جو کتب پڑھ رکھی تھیں ان میں یہ نام کچھ جانا پہچانا سا لگا میرے ذہن میں ایک عجیب کشمکش چل پڑی کہ آیا میں سفر کرکے قدیم وقت میں چلا آیا ہوں یہ بابا جی نئے زمانہ میں آ گئے ہیں
ٹوٹی پھوٹی عربی میں بابا جی سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں مشاغل کیا ہیں تو وہ گویا ہوئے
میں بنیادی طور پر ایک زراعت دان ہوں اشبلیہ میں کھیتوں میں مختلف پودوں اور سبزیوں کو اگانے اور ان کی پیداوار بڑھانے پر تجربات کرتا ہوں اور افریقہ اور ایشیا سے نئی فصلوں کے بیج منگوا کر انہیں اسپین میں اگانے کی کوشش کرتا ہوں
اس سلسلہ میں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے (کتاب الفلاحہ ) جس میں زمین کو زرخیز بنانے کے طریقہ اور مختلف پودوں کی پیوند کاری کے طریقے بیان کیے گئے ہیں اسکےعلاوہ جنگلی زیتون کو گھریلو زیتون کی پیوند کاری اور انجیر کے درخت کی کاشت کیسے کی جائے پر بھی میری تحقیق اس میں لکھی ہے
میری اس کتاب میں انیس سو پودوں اور فصلوں کا ذکر ہے ان میں سے کچھ تحقیق میں نے یونانی کاشتکاروں کی لکھی کتب سے لی ہیں اور کچھ تجربات کرکے دریافت کی ہیں
میں بابا جی کی بیان کی گئی معلومات پر حیران ہوا اور انہیں بتایا کہ آپ کی اس علم اور تجربات کی بدولت آج اسپین فروٹ اور سبزیاں پورے یورپ میں ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن چکا ہے
بابا جی کہنے لگے کہ میری کتاب میں آخری چیپڑ جانوروں کی افزائش نسل کے متعلق ہے جن میں گھوڑے بکری کبوتر مرغی وغیرہ شامل ہیں
میں تخیلات میں کھو گیا کہ اندلس کے مسلم دور حکومت میں نامور سپہ سلاروں کے ساتھ علما و مفکرین کے علاوہ ایسے محقیقین کا بڑا اہم کردار رہا ہے جہنوں نے فلکیات سے زراعت تک نت نئی دریافتیں کرکے اندلس کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آنے والی نسلوں کےلئے علمی ذخیرہ چھوڑا جس سے اہل یورپ نے مستفید ہو کر ترقی کی منزلیں طے کیں
تخیلات سے باہر نکلا تو بابا جی کو سامنے سے غائب پایا شاید ابن العوام مجھے اندلس کے درخشاں ماضی سے روشناس کروانے کےلئے ہی چند لمحوں کے لئے حاضر ہوئے تھے اور پھر سے غائب ہو گئے
اور ہم اپنے روٹین کے کام کےلئے محو سفر ہوگئے
از قلم فیاض قرطبی

img_2688

img_2687

img_2685

img_2686

جدید اسپین کے کتب خانے

جدید اسپین کے کتب خانے

جدید اسپین کے کتب خانےBiblotecas
اسپین کی دنیا میں وجہ شہرت اس کا درخشاں ماضی یعنی مسلم دور حکومت ہے جسے اندلس کے نام جانا جاتا ہے یہ دور 712عیسوی سے 1492 عیسوی تک کا تھا
مسلم دور حکومت میں قرطبہ اشبیلیہ اور غرناطہ علم و ہنر و ثقافت کے مراکز بنے جہاں فقہا و علما اسلام ،صوفیا،تاریخ دان،سائنس دان پیدا ہوئے اور اپنے اپنے میدان میں علمے کارنامے سرانجام دئیے
قرطبہ کے خلیفہ الحکم کا نام کتاب دوست حکمران کےطور پر لیا جاتا ہے جس نے لاکھوں کتب پر مبنی کتب خانہ ترتیب دیا تھا جس میں بیک وقت کئی درجن کاتب بیٹھ کتب کی نقلیں تیار کرتے تھے اور الحکم نے مشرق کے کئی ممالک میں اپنے نمائیندے بھیجے ہوئے تھے جو اس دور میں نئی لکھی جانے والی تصنیفات کو حاصل کر کے قرطبہ ارسال کرتے۔
جب ہم نے سن دوہزار کے وسط میں قرطبہ میں رہائش اختیار کی تو کتب سے شغف کی وجہ سے مقامی کتب خانہ کی تلاش شروع کی جس کی داستان پہلے ایک پوسٹ میں بیان کر چکا
کتاب خانہ پہنچ کر ممبر شب کارڈ حاصل کیا جو کہ بلکل آسان تھا پاسپورٹ پر بھی کارڈ بن جاتا ہے صرف اپنی رہائش کے پتہ کےلئے کوئی بل یا دستاویز فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
ہر کتب خانہ میں انٹرنیٹ کے مفت استعمال کےلئے کمپیوٹر مختص ہوتے ہیں جن کا وقت پہلے سے بک کروانا پڑتا ہے
ہر کتب خانے میں دو حصہ بنے ہوئے ہیں ایک حصہ میں ریفریس کتب پڑی ہوتی ہیں اور میز کردیاں لگا کر پرسکون جگہ مہیا کی ہوئی ہوتی ہے جہاں طلبا یا تحقیق کرنے والے افراد بیٹھ کر کتب سے مدتفید ہو سکتے ہیں وہاں آپ کی راہنمائی کےلئے عملہ بھی موجود ہوتا ہے مزید اگر کسی کتاب کا تصویر عکس لینا مقصود ہو تو فوٹو کاپی کی مشین موجود ہوتی ہے جس کے دام انتہائی مناسب ہوتے ہیں
کتب خانہ کا دوسرا حصہ کتب محفوظ کرنے کا علاقہ ہوتا ہے جو عام افراد کےلئے بند ہوتا ہے اگر آپ کو کوئی کتاب ،سی ڈی چائیے وہ وہاں پر لگے کمپیوٹر کے پروگرام میں سے تلاش کرکے اس کا کوڈ عملہ کو دینے پر کتب گھر لے کر جانے ےلئے فراہم کی جاتی ہیں ایک وقت میں سات سے آٹھ کتب اور تین سے چار سی ڈی یا ویڈیو کیسٹ کا اجرا کروایا جاسکتا ہے
اندلس صوبہ کے شہر میں ایک مرکزی کتب خانہ اور پھر ہر محلہ میں کتب خانہ ہوتا ہے اسی طرح چھوٹے دیہات میں بھی کتب خانے موجود ہیں ان سب کو ایک مرکزی نظام سے سافٹ وئیر کے زریعہ جوڑا گیا ہے
جو کتاب آپ تلاش کررہے ہیں اگر وہ آپ کے شہر میں موجود نہی مگر سسٹم کے مطابق کسی گاوں کے کسی کتب خانہ میں موجود ہے تو سسٹم سے کوڈ تحریر کرکے عملہ کو دینے پر کچھ دن بعد وہ کتاب منگوا کر آپ کو فراہم کر دی جائے گی
کتاب کا اجرا آپ مرکزی کتب خانہ سے کروانے کےبعد واپس کرتے وقت چائیے اسی کتب خانہ میں واپس کریں یا کسی نزدیکی کتب خانہ میں واپس کر دیں
اندلس کے صوبہ کی تمام کتاب خانوں کی کتب کو تلاش کرنے اور بک کرنے کےلئے آن لائن سہولت بھی درج ذیل سائٹ پر فراہم کی گئی ہے
‏http://www.juntadeandalucia.es/cultura/opencms/export/bibliotecas/bibcordoba/infgeneral/histbiblioteca.html

img_2676

تھانہ کی چورکتیا

تھانہ کی چورکتیا

تھانہ میں چوری کرنے والی کتیا

(جیل میں گزرے تین دن قسط نمبر 2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانہ پہنچے تو انچارج تھانہ کے سامنے سب کی شناخت کی گئی اور کہا گیا بے فکر رہو بڑے آفیسر آتے ہی چھوڑ دئیے جاو گے کچھ دیر بعد وہاں موجود تھانہ کے ایک کمرہ کے حوالات میں بند کر دیا گیا جو زیادہ سے زیادہ چھ سات افراد کےلئے بنا ہوا تھا جبکہ ہم بارہ تیرہ طالبعلم تھے
کمرہ کے اندر ہی پیشاب کرنے کےلئے چار سے چھ اینٹ اونچی دیوار بناکر الگ جگہ بنی ہوئی تھی جس کی بدبو سے ہمارا دم گھٹ رہا تھا دو تین گھنٹوں میں ہمارے ساتھ بند طلبا کے والدین اور لواحقین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہم سب کو امید تھی کہ دو چار گھنٹوں کے بعد ہماری جان چھوٹ جائے گی کیونکہ ہم نے کوئی جرم تو کیا نہی اور پولیس طلبا تصادم بھی کوئی بڑا حادثہ یا جرم نہی
لیکن اسی اثناء میں رات ہوگئی رات کو بامشکل سب ایک دوسرے کے پیٹوں کو سرہانہ بنا کر اس کےاوپر سر رکھ کر لیٹے
رات کو پہرہ پر موجود اہلکار نے حوالات کی سلاخوں کے قریب سوئے ایک طالبعلم کی گھڑی اتارنے کی کوشش کی تو وہ جاگ اٹھا
اہلکار اندھیرے کی وجہ سے پہچانا نہ جاسکا صبح جب ہم نے دوسرے اہلکاروں سے شکایت کی تو ان میں سے ایک اہلکار جہنوں سے شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی کہنے لگے بیٹا یہاں کس کی جرت چوری کرنے کی
ضرور وہ کتیا ہو گی جو اکثر رات کو کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر منہ مارتی رہتی ہے
ان صاحب کے ظاہری حلیہ کے باوجود ہم سب کو یقین نہ آیا بلکہ ہم ہنسنے لگے کہ نمازی ہو کر بھی حرکتیں اور عادتیں نہی بدلی پولیس کی
صبح صبح جہلم شہر کے ہمارے دوست ناصر رفیق جو اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ شہر کے ناظم تھے اس حوالہ سے میرے ساتھ ان کے روابط تھے وہ اپنے گھر سے ناشتہ تیار کروا کر لے آئے میرا اپنا گھر تو پندرہ کلومیڑ دور تھا
خیر ہم اسی امید پر تھے کہ ابھی ہم کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن کچھ دیر بعد پولیس بس آئی اور ہمیں جہلم جیل کے سامنے لا کھڑا کیا گیا اور ہمیں تھانہ پولیس سے جیل کی پولیس کے حوالہ کر دیا گیا
ایک بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک بلیک بورڈ پر تاریخ درج تھی اور جیل میں قید قیدیوں کی تعداد وغیرہ درج تھی دائیں جانب جیل سپرڈینڈنٹ کے کمرہ میں لے جایا گیا اور ہمارے پاس موجود سامان کا ہم سے لے کر رجسڑ میں اندراج کیا گیا اور بتایا گیا کہ جب رہائی ہوگی تو یہ مکمل باحفاظت آپ کو ایسے ہی واپس دیا جائے گا
جیل کے مرکزی دروازے کے اندر ایک اور مرکزی دروازہ تھا جس سے اندر داخل ہوئے تو سامنے گلاب کے پھولوں سے مزین کیاریوں پر نظر پڑی اور دیواروں پر قرانی آیات لکھی نظر آئیں اس سے آگے چلے تو میدان کے درمیان ایک گول سا کیبن نما کمرہ بنا ہوا تھا جسے جیل کی زبان میں چکر کہا جاتا ہے اس چکر سے مختلف پکڈنڈیاں مختلف بیرکوں کے جانب جاتی ہیں

منڈا خانہ اور اسکی سرگرمیاں آئیندہ
از قلم فیاض قرطبی

ہماری جیل میں پہنچنے کی روداد

ہماری جیل میں پہنچنے کی روداد

1994میڑک کے بعد بڑے بھائی جان ریاض نے ہمیں روایتی ایف اے والی تعلیم کی بجائے فنی تعلیم حاصل کرنے کےلئے جہلم کے ووکیشنل کالج میں داخلہ لینے کا مشورہ دیا صبح کی شفٹ میں داخلہ بند ہونے کی بنا پر شام والی شفٹ میں مکینیکل ڈرافٹسمین کے ایک سالہ سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ لیا
یہ کالج جہلم کے مشہور جی ٹی ایس چوک اور دریائے جہلم پر انگریز کے بنائے گئے قدیم پل کے درمیان واقع تھا اور اس کالج کے تینوں اطراف والی گلیوں میں جہلم کے تین مشہور سینما گھر قائم تھے
ہماری کلاس شام کو تقریبا سات بجے ختم ہوتی اور جب دوستوں کے ہمراہ وہاں سے گھر واپس جانے کےلئے گزر رہے ہوتے تو سڑک پر سے گزرنے والی نگاہوں کا مرکز ہوتے کہ یہ طلبا کوئی شو دیکھ کر آ رہے ہیں حالانکہ ایک سال لگاتار کالج جانے کے دوران کھبی سینماوں کا رخ تک نہ کیا تھا
جہلم جی ٹی روڈ کینٹ سے دینہ کےلئےرات کو سات سے آٹھ بجے بس پر سوار ہوتے وقت کنڈیکڑ بھی ہمیں گھورتے کھبی کھبار بحث بھی کرتے کہ دن کے وقت کم تنگ کرتے ہو اب رات کو بھی مفت سفر کےلئے آگئے
ہمیں بتانا پڑتا کہ ہم سکینڈ شفٹ کے حقیقی طالب علم ہیں مفت خورے نہی ہیں
اس کالج کے ساتھ ایک چائے خانہ تھا جس کا نام لڈن کا چائے خانہ تھا جہاں شہر بھر سے چائے کے شوقین آتے تھے یہاں کی چائے کی خاص بات یہ تھی کہ چائے کا ایک بڑا مگ تھا جس میں بنتی دوسرا چائے ہمیشہ کوئلوں پر بنائی جاتی جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ منفرد ہوتا تھا ہم کلاس فیلو دوران وقفہ اکثر اس چائے سے لطف اندوز ہوتے تھے
ہم کالج جانے کےلئے اکثر صبح ہی گھر سے چلے جاتے راستہ میں کھبی جی ٹی روڈ کالج کے دوستوں سے گپ شب کےلئے رکھ جاتے یا جہلم شہر میں کسی سے ملنے کےلئے
ایک دن ہمارے محلہ کے ایک نوجوان جو جی ٹی روڈ کالج میں کلرک تھے نہ ہمیں جاتے ہوئے اپنی چھٹی کی درخواست پکڑا دی کے تم اپنے کالج جاتے ہوئے راستہ میں جی ٹی روڈ کالج میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں دیتے جانا
ہم جب کالج پہنچے تو دیکھا طلبا کی بڑی تعداد کالج کی بجائے سڑک کے کنارے جمع تھی اور نعرے لگا رہی تھی ہم ان کو وہیں چھوڑ کر کالج کے اندر درخواست جمع کروا کر جب باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پولیس کی بھاری نفری آن موجود ہوئی طلبا اور پولیس میں آنکھ مچولی شروع ہو گئی ہم نے روڈ پار کی تاکہ اپنے کالج کی جانب جا سکیں اس دوران طلبا کے پتھراو سے پولیس کا ڈی ایس پی یا کوئی آفیسر زخمی ہو گیا تو اس نے پولیس کو فل اختیار دے دیا پھر کیا تھا پولیس نے طلبا کو مار بھگایا
ہم کسی بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ بس کی بجائے ایک پولیس بس آ پہنچی ہمارے سامنے آ رکی چونکہ ہم کالج کے طالب علم نہ تھے نہ اس اتجاج کا حصہ اسلئے ہم بے پروا ہو کر کھڑے رہے پولیس بس سے کچھ اہلکار اترے اور ہمیں پکڑ کر بس کی جانب لے جانے لگے ہم نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تو وہ بولے یہ بیان بڑے صاحب کے سامنے دینا فلحال ساتھ چلو
ہمارے ساتھ کھڑے ایک اور صاحب جو پودوں کی نرسری کے ورکر تھے اور عمر بھی تیس کے لگ بھگ تھی کو بھی پولیس نے پکڑ لیا باوجود اسکے کہ وہ کہتا رہا میں نرسری کا ملازم ہوں میری عمر میری شکل طالبعلم والی لگتی ہے آپ کو
پولیس والوں نے شاید خانہ پوری کرنی تھی اسلئے جو جو سامنے آیا اسے پکڑ کر بارہ پندرہ کی تعداد پوری کی اور بس کو جہلم صدر کے تھانہ میں جا پہنچے

تھانہ اور جیل کی روداد اگلی قسط میں

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سات سال کی گڑیا سترہ کی ہو گئی اور پردیسی خالی ہاتھ گھر لوٹا

سن دو ہزار میں جب ہم قرطبہ کے نواحی گاوں بلمس Belmiz میں رہائش پذیر تھے یورپ کے دیگر ممالک سے بھی پاکستانی اسپین پہنچ رہے تھے کیونکہ اسپین نے غیر ملکی افراد کو قانونی دستاویزات دینے کا اعلان کر رکھا تھا
اس چھوٹے سے گاوں جس کی آبادی بامشکل چار ہزار نفوس پر مبنی تھی میں تقریبا چالیس کے قریب پاکستانی مختلف ڈیروں میں رہ رہے تھے
ان میں پنجاب اور کشمیر کے مختلف شہروں کے لوگ تھے کوئی انگلینڈ سے بزریعہ جہاز آیا تھا اور کوئی بزریعہ ٹرین اور کچھ لوگ ڈنکی لگا کر یعنی مختلف ممالک کی سرحدیں غیر قانونی طور پر کئی ماہ کی طویل جہدوجہد کےبعد عبور کرکے یہاں تک پہنچے تھے
ان میں ایک شخصیت ایسی تھی جن کے نام کے ساتھ روسی کا لقب تھا ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو روسی کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے روس کی سرحد عبور کرنے کی سترہ کوشیش سات سال لگاتار کیں
اس زمانے میں میرے پاس کمپاس اور نقشہ جیب میں ہوتا تھا میں ہر بار ناکام ہوتا پکڑا جاتا تو دوسری بار دوسری جانب سے کوشش کرتا
دوران قیام ان صاحب سے کسی نے پوچھا کہ یہ واشنگ مشین میں جرابیں آپ کی ہیں تو موصوف کا جواب تھا کہ نہی میرا اصول ہے کہ میں جرابیں اور انڈر وئیر اتاروں تو دوبارہ نہی پہنتا ہم سن کر حیرں ہورہے تھے ان کے اس ڈائیلاگ سے کہ ان کے ساتھ رہنے والے دوست نے تبصرہ کیا کہ روسی صاحب اتنا عرصہ پہنے رہتے ہیں کہ جب اتارتے ہیں تو وہ اس قابل کہاں رہتا ہیں
اسپین میں دستاویزات بناتے ہوئے ان کو مزید دوسال لگے اسکے بعد کام کی تلاش شروع کی نہ زبان آتی تھی نہ ہنر تھا کچھ دوست مارکیٹ میں اسٹال لگا چھوٹا موٹا سامان فروخت کرتے تھے ان کے ساتھ مددگار کے طور پر کام کرنے لگے
پاکستان گھر سے نکلے دس سال کا عرصہ بیت چکا تھا جو بیٹی سات سال کی چھوڑ کر آیا تھا وہ سترہ کی ہوچکی تھی اور پاکستان جانے کےلئے ٹکٹ کے پیسے نہ تھے ہم دوستوں سے مانگ کر ٹکٹ لیا اور پاکستان گئے
اسکے بعد ہم گاوں سے قرطبہ منتقل ہوئے جہاں انگلینڈ کے ایک دوست سے مل کر پہلا ڈونر کباب کھولا
روسی صاحب سے اس کے بعد کھبی رابطہ نہ ہوا
پردیس کے سفر میں ایسی ان گنت داستانیں ہیں یہ تو محض ایک کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا
از قلم فیاض قرطبی

اسپین کی عیسائی تفتیشی عدالتوں کے مظالم کی داستاں

اسپین کی عیسائی تفتیشی عدالتوں کے مظالم کی داستاں

اسپین کی عیسائی عدالتیں کے ظلم کی روداد
Story of Spanish inquisition
—————-
اندلس کے مسلمانوں کی آپس کی چپقلشوں سے اندلس کے اندر مسلمانوں کی مرکزی حکومت آہستہ آہستہ کمزور ہوتے ہوئے چھوٹی چھوٹی ریاست میں بٹنے لگی تو عیسائی ریاستوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایک ایک کرکے ان مسلمان ریاستوں کو شکست دے کر قبضہ کرلیا یوں اندلس کی مسلم سلطنت جو پرتگال سے فرانس کے سرحدی علاقہ تک پھیلی ہوئی تھی 1300عیسوی میں فقط غرناطہ تک محدود ہوگئی
اراگون کی عیسائی ریاست کے بادشاہ فرنیندو اور ملکہ ازبیلا جو دونوں کتھولک تھے نے مل کر مسلمانوں کے آخری مرکزی کے خلاف مہم شروع کی اس دوران پورے اسپین کی آبادی کو متحد کرنے کےلئے انہوں کھتولک مذہب کو پروان چڑھایا اور پاپائے روم نے بھی ان کی بھرپورسرپرستی کی
ملکہ ازیبلا نے عیسائیوں علاقوں میں ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کےلئے پوپ سے خصوصی اجازت لے لی جو کھتولک فرقہ کے خلاف تھے یا بدعقیدہ گردانے جاتے تھے اس کےلئے پوپ نے باقاعدہ عدالت بنانے کےلئے اپنا نمائندہ مقرر کیا
پہلی کورٹ نومبر 1478عیسوی میں قائم ہوئی شروع میں ان عدالتوں میں جادوگروں کاہنوں وغیرہ کو پیش کیا جاتا اور سزائیں دی جاتی
1492میں جب آخری مسلم حکمران سے غرناطہ چھین لیا گیا اس معاہدہ کے تحت کے سلطنت غرناطہ میں آباد مسلمانوں کو مکمل شہری حقوق دئیے جائیں گے اورمسلمان تاجروں کو تجارت کی اجازت ہوگی لیکن کچھ سال بعد ہی معاہدہ کی دھجیاں ادھیڑ دی گئیں اور ملکہ ازبیلا نے 1502 میں کھتولک پادری کی مشاورت سے ایک حکم نامہ جاری کر دیا کہ جو یہودی اور مسلمان اسپین میں رہنا چاہتے ہیں ان کو مذہب تبدیل کرنا ہوگا یوں ہزاروں مسلمان اور یہودی اندلس سے مراکش الجزائر وغیرہ بزریعہ سمندر ہجرت کر گئے اور ایک بڑی اکریث نے وقتی طور پر ظاہری عیسائیت قبول کرلی
ان نئے عیسائی ہونے والوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور پادری ملکہ کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہودی اور مسلمانوں اپنے گھروں میں ابھی اپنے عقیدہ کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اس پر حکومت نے تمام نئے عیسائی ہونے والوں کے لئے حکم جاری کیا کہ ان کے گھروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں گے اور ان کے دروازوں پر سور کا گوشت لٹکتا ہوا نظر آنا چائیے
عیسائی تفتیشی عدالتیں ملک کے کئی علاقوں میں قائم کردی گئیں ان تمام عدالتوں کا سربراہ توماس تورکیمدا Thomas Torquemadaمقرر ہوا جسے بعد میں تفتیشی جنرل کے نام سے پکارا جاتا تھا
ان عدالتوں میں ان لوگوں پر مقدمے چلائے جاتے جن کے بارے میں شکایت ملتی کہ وہ یہودیت پر عمل کررہے ہیں یا اسلام پر عمل کرتے پکڑے گئے ہیں یا کسی اور فرقہ پر ایمان رکھتے ہیں
ان عدالتوں میں تفتیش کےلئے زمانہ قدیم سے استعمال ہونے والے تما وحشیانہ طریقے اور آلات استعمال کئے گئے لوگوں کو زندہ جلانے سے لے کر ان کو ڈرموں میں بند کرکے آگ پر گرم کرنا الٹے لٹکائے رکھنا اور ان کے گلوں میں بھاری زنجیریں ڈالے رکھنا
یہ عدالتیں جولائی 1834 تک موجود رہیں اس دوران اندازہ کے مطابق 5000 کو سزائے موت دی گئی اور اٹھاسی ہزار ملزموں سے تفتیش کی گئی عبرتناک سزائیں دی جاتی رہیں چرچ کے پادریوں نے اپنی اس طاقت کا خوب ناجائز فائدہ اٹھایا اور جسے چاہا سزا دی
ان عدالتوں کی کاروائی کی سینکڑوں فائلیں کھتولک چرچ کے ریکارڈ میں محفوظ رہیں جن میں سے بعض اب اسپین کی لائیبریریوں میں محفوظ کی گئی ہیں اور کچھ کا ترجمہ انگلش میں ہو کر کتب کی شکل میں شایع بھی ہو چکا ہے
ذیل میں کچھ آلات تشدد کی تصاویر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسطرح اذیت دی جاتی تھی

img_2422

img_2424

img_2416

img_2423

img_2425

ایک بھٹکتی ہوئی روح اور قرطبہ

ایک بھٹکتی ہوئی روح اور قرطبہ

آج مسجد قرطبہ کو دیکھنے کچھ دوست آئے تو ان کے ہمراہ مسجد قرطبہ کی جانب روانہ ہوا ایسٹر کی چھٹیوں کی وجہ سے چاروں طرف کافی گہماگمی تھی گلیوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا تھا کیونکہ مختلف کلیساوں کے جلوس ان راستوں سے گزرنے تھے ان کو دیکھنے کے لئے کافی لوگ قطار درقطار کھڑے تھے
ہم راستہ بناتے مسجد کی جانب روانہ ہوئے
مسجد کی سیڑھیوں کے قریب پہنچا تو مجھے کسی کے گنگنانےکی آواز آئی ایسا لگا کہ کہ کوئی اردو غزل گا رہا ہے پردیس میں اپنی زبان کی گونج دور سے سنائی دیتی ہے اور اس کی مٹھاس اپنی جانب متوجہ کرتی ہے
میں نے آواز کی سمت نظریں دوڑایں مگر رش کی وجہ سے گنگہنانے والا نظر نہ آیا
کان لگا کر آواز پر غور کیا تو غزل کا یہ شعر سنائی دیا

سلسلہ روز وشب نقش گر حیات
سلسلہ روز وشب اصل حیات و ممات

میں غزل کے شعر میں کھونے لگا تو ساتھ والے دوستوں نے میرے تخیل کے سلسلہ کو آواز دے کر منقطع کیا
آج مسجد میں ہر جانب کیتھولک عیسائیوں کے مختف گروہ اپنے رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس نظر آرہے تھے
پتہ چلا کہ آج مسجد تین گھنٹے کےلئے عوام کےلئے بند ہے اور مذہبی رسوم کےلئے کھولی ہے
مجھے غزل کی گنگناہٹ ایک دفعہ پھر سنائی دی

اول و آخر فنا باطن و ظاہر
نقش کہن ہو کہ نو منزل آخر

اے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام جس میں نہی رفت و بود

میں غزل کے اشعار میں سن کر اس کی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کر رہاتھاکہ مسجد قرطبہ کے مینار پر لگی گرجا کی گھنٹی بج اٹھی اور وہ آواز پھر اس شور میں غائب ہوگئی
مسجد قرطبہ کا صحن سیاحوں سے بھرا ہوا تھا جو مختلف ممالک سےمسلم اندلس کی اس نشانی کو دیکھنے آئے ہوئے تھے سات اسی عیسوی 780 میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا تھا وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کے بڑھنے پر اس کو وسعت دی جاتی رہی دمشق کی جامع مسجد کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے
مسجد کی محراب کی جانب نگاہ اٹھی تو ایک شخص محراب کے سامنے سجدہ ریز ہوتا دیکھائی دیا میں جیسے جیسے اس قریب ہوتا گیا کہ مجھے ہچکیوں اور سسکیوں کی آواز سنائی دینے لگی اور ساتھ ایک دفعہ پھر کانوں میں گنگناہٹ سنائی دی

معجزہ فن کی ہےخون جگر سے نمود
قطرہ خون جگر سل کو بناتا ہے دل

تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل

اچانک میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ غزل تو علامہ اقبال کی مسجد قرطبہ ہے جو انہوں نے انیس بتیس میں گھول میز کانفرنس لندن سے واپسی پر قرطبہ میں مسجد قرطبہ کو دیکھ کر کہی تھی میں نے محراب کی جانب نگاہ دوڑائی تو بلکل خالی تھی اپنی پیشانی کو سجدہ میں رکھ کر سسکیاں لینے والا شخص غائب تھا
میرے خیال سے وہ اقبال کی مضطرب روح تھی جو آج بھی وہاں بھٹک رہی تھی اور فضاووں میں گنگہنا رہی تھی
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواووں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواووں میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال کی 78th ویں یوم وفات پر فیاضی قرطبی کے قلم سے

img_2399

قرطبہ کے عرضی نویس ابو عامر المنصور

قرطبہ کے عرضی نویس ابو عامر المنصور

قرطبہ شہرمیں بہنےوالےدریائےکبیر کے کنارےقصرشاہی کو دیکھنے کا پروگرام بنا قدیم قرطبہ کی گلیاں آج بھی قدیم طرز پر قائم ہیں اور ان میں کئی قدیم عمارات کےآثار اس شہر کی عظمت رفتہ کا پتہ دیتے ہیں
قصر شاہی جو خلفا قرطبہ کا محل ہوا کرتا تھا اس کے ساتھ ملحقہ شاہی باغ بھی ہوا کرتا تھا
جیسے ہی میں شاہی محل کے قریب پہنچا ایک جانب زمین پر کپڑا بچھائے ایک عرضی نویس بیٹھا نظر آیا
اسنے مجھے اشارہ سے اپنے قریب بلایا اور پوچھا قصر شاہی میں کونسا کام پھنسا ہوا ہے میں شش و پنج میں مبتلا ہو گیا کہ یہ کیا کہنا چاہا رہا ہے
عرضی نویس نے مجھے حیران و پریشان دیکھتے ہوئے کہا کہ میرا نام ابو عامر بن عبداللہ ہے اور میری لکھی ہوئی عرضی دربار شاہی سے کھبی رد نہی ہوئی میرا طرز تحریر اور میری دلیل ہمیشہ خلیفہ کو پسند آتی ہے
میں نے آنکھوں کو ملا اور جب دوبارہ آنکھیں اس جانب دوڑائیں تو عرضی نویس غائب پایا مجھے لگا کہ نظر آنے والا عرضی نویس میرے تخیل کی پیداوار تھا
میرے تحت الشعور میں تاریخ قرطبہ کے وہ اوراق گھومنے لگے جو میں نے مختلف کتب میں پڑھ رکھے تھے کہ قرطبہ کے دربار کے ایک عرضی نویس نے کیسے اپنی ذہانت سے خلیفا کو گرویدہ کرکے قاضی قرطبہ کا عہدہ حاصل کیا تھا اور خلیفہ کی وفات کے بعد اس اسکی بیوہ کو متاثر کر کے کمسن ولی عہد ہشام کا اطالیق مقرر ہو گیا تھا اور پھر ملکہ کے زریعہ فوج کے سپہ سالار غالب کو راستہ سے ہٹایا
ملکہ کے زریعہ کمسن ولی عہد کا امور سلطنت میں ہاتھ بٹانے کےلئے حاجب یعنی وزیراعظم مقرر ہو گیا
اسکے بعد قصر شاہی کے محافظوں کا ایک نیا دستہ اسپینش مسلم غلاموں پر مشتمل بنایا جو اسکا وفادار تھا
پھر اس دستہ کے زریعہ کمسن ولی عہد کو شاہی محل میں ایسا قید کیا کہ عملا ابی عامر ہی حکمرانی کے تمام اختیارات استعمال کرنے لگ پڑا
ابی عامر نے عوام کے دل جیتنے کےلئے اندلس کے علاقوں میں جہادی افواج کی قیادت کرنا شروع کر دی جہاں عیسائی گروہ بغاوت یا شورش برپا کرتے رہتے تھے کچھ سال مسلسل ایسی مہمات کے زریعہ اس نے اندلس کی سرحدوں کو محفوظ کر دیا اور اس وقت کی مشہور عیسائی ریاست Asutria کے صدر مقام پر قائم عیسائیوں کے مشہور گرجا گھر جسے عیسائی عقیدت کی حد تک پوجتے تھے پر حملہ کرکے اسکے دروازے اور گھنٹی قرطبہ لے آیا یوں عیسائیوں کا حوصلہ بلکل ٹوٹ گیا
اس دوران بارہا قرطبہ میں بغاوتوں کی کوشش کی گئی جسے ابی عامر سے سختی سے کچل ڈالا اور قرطبہ کی گلیاں لہو سے سرخ ہو گئیں
ابو عامر جوانی میں مسجد قرطبہ کے صحن میں سنجیدہ کھڑا تھا تو اسکے دوستوں نے پوچھا کس سوچ میں گم ہو تو وہ کہنے لگا میں سوچ رہا ہوں جب قرطبہ کا وزیر اعظم بنوں گا تو عوام کے مسائل کیسے حل کروں گا اسکے دوستوں نے حیرانگی سے پوچھا واقعی تم یہ خواب دیکھ رہے ہو تو ابو عامر نے دوستوں سے پوچھا تم کیا عہدہ لینا پسند کرو گے ایک نے قاضی بننے کی خواہش کی دوسرے نے باغات کا مالک کا شوق کا اظہار کیا تیسرے نے پولیس کا سربراہ
چھوتھے نے قہقہ لگا کر طنزیہ کہا اگر تم وزیراعظم بنے تو میں گدھے پر بیٹھ کر منہ کالا کرکے گھوموں گا پھر تاریخ نے دیکھا کہ چوتھے دوست کو گدھے پر بیٹھنا پڑھا اور دوسرے دوست قاضی اور پولیس سرپراہ بنے
تاریخ میں اسے المنصور یعنی فاتح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے عیسائی ریاستوں کو پے درپے شکستیں دیں تھیں (938عیسوی تا 1002عیسوی)

img_2340